BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 November, 2005, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سارک: اہم موضوعات زیر غور
سارک ممالک کے سربراہان
باہمی سیاسی اختلافات کی وجہ سے سارک تنظیم بڑے فیصلے نہیں لے پاتی
ڈھاکہ میں سنیچر کو شروع ہونے والے سارک سربراہی اجلاس میں جنوبی ایشیا میں اقتصادی تعاون بڑھانے کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ اس اجلاس کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے ممالک کے سربراہان اجلاس میں کوشش کریں گے کہ آئندہ سال تک آزادانہ تجارت کے لیے مخصوص مقام قائم کرنے کے بارے میں فیصلہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ سونامی اور زلزلے کی تباہ کاری کے پس منظر میں علاقائی امدادی مرکز کے قیام پر بھی بات چیت ہوگی۔

بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی دو طرفہ ملاقات کے دوران گزشتہ ہفتے دِلّی میں ہونے والے بم دھماکوں کے واقعے کے زیر بحث آنے کی امید ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم ان دھماکوں میں پاکستانی شدت پسندوں کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کر چکےنہیں۔

دریں اثناء جمعہ کو ہونے والے سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں افغانستان کو سارک کی رکنیت اور چین کو مبصر کا درجہ دینے کے معاملات تکنیکی وجوہات کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان معاملات پر فیصلہ نہ ہونے کے اسباب بیان نہیں کیے گئے۔ خورشید قصوری اور بھارت اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے بھی کئی بار سوالات کیے گئے کہ افغانستان کے معاملے پر فیصلہ نہ ہونے کی کیا وجہ ہے اور کس نے اعتراض اٹھایا لیکن کسی بات کا جواب نہیں ملا۔

نامہ نگار نے بتایا کہ ان کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کی رکنیت کا معاملہ سامنے رکھا تھا اور بھارت بھی اس بات پر راضی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اشارے مل رہے ہیں کہ بنگلہ دیش نے اعتراض اٹھایا ہے کہ سارک کو سات کی بجائے آٹھ ممالک کی تنظیم بنانے کے لیے اس کے چارٹر کو بڑے پیمانے پر تبدیل اور آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔

چین کے بارے میں بھی پاکستان نے ہی قرارداد سامنے رکھی تھی لیکن بھارت کا کہنا ہے کہ سارک کے چارٹر میں اس قسم کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کسی بھی ملک کو مبصر کا درجہ دیا جائے۔

بھارت کا کہنا کہ چین کو مبصر کا درجہ دینے کے لیے پہلے نئے قوائد و ضوابط ترتیب دینا پڑیں گے۔

نامہ نگار کے مطابق دونوں معاملات کو تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر آگے بڑھنے سے روکا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سارک کے رکن ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی وجہ سے بڑا فیصلہ نہیں ہو پا رہا۔

انہوں نے کہا کہ سارک کو بنے بیس سال ہو چکے لیکن اس کے چارٹر میں سالانہ اجلاس کی شرط کے باوجود اس دوران اس کے صرف تیرہ اجلاس ہو ئے ہیں اور اس کی بڑی وجہ بھی مختلف رکن ممالک کے باہمی سیاسی اختلافات ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد