’ایشین پارلیمان‘ کے قیام کی منظوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیا کے چالیس ممالک کی پارلیمینٹس کی ایک تنظیم نے یورپی پارلیمان کی طرز پر ’ایشین پارلیمان‘ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعلان تنظیم کی پانچویں جنرل کونسل کے تین روزہ اجلاس کے پہلے دن اسلام آباد میں کیا گیا۔ ’ایشیائی پارلیمینٹس ایسو سی ایشن برائے امن‘ نامی تنظیم کی جنرل کونسل کا اجلاس منگل کے روز اسلام آباد میں ہوا، جس کا افتتاح وزیراعظم شوکت عزیز نے کیا۔ قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین کو ایسوسی ایشن کا نیا صدر منتخب کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے فلپائن کے سپیکر اس تنظیم کے سربراہ تھے۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دو طرفہ تعاون، پائیدار امن کے قیام اور ترقی کے لیے تمام تنازعات کا فوری تصفیہ ضروری ہے۔ اس اجلاس میں عراق کی عبوری حکومت، چین اور فلسطین سمیت بتیس ممالک کے دو سو کے لگ بھگ مندوبین شریک ہیں۔ بھارت کا وفد اجلاس میں بطور مبصر شرکت کرہا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ انہیں یقین ہے کہ رکن ممالک باہمی تعاون سے ایک دوسرے کے وسائل اور تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جس سے خطے میں غربت کے خاتمے اور خوشحالی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں جاری جامع مذاکرات کا مقصد بھی خطے میں پائیدار امن کا قیام یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری ادارے مکمل آزادی اور خودمختاری کے ساتھ چلیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں میڈیا کو مکمل آزادی حاصل ہے اور جمہوری ادارے بھی آزادی سے کام کر رہے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد جہاں رکن ممالک کے درمیان امن، دوستی، تجارت اور تعاون کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے وہاں سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان میں اجلاس کے انعقاد سے حکومت یہ تاثر بھی دینا چاہتی ہے کہ ملک میں جمہوری ادارے آزادانہ طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ تنظیم کے اجلاس میں حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمٰن، متحدہ مجلس عمل کے لیاقت بلوچ، مسلم لیگ نواز کے اسحاق ڈار اور عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کے زیرانتظام کسی کانفرنس میں حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے نمائندے شریک ہو رہے ہیں۔ اس پارلیمان کے ضابطے اور خدوخال طے کرنے کے لیے چودھری امیر حسین کے مطابق ان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ تمام شریک ممالک کے مندوبین نے اتفاق کیا کہ آئندہ پانچ برسوں کے اند اس تنظیم کو ایشیائی پارلیمان کی شکل دی جائے گی۔ مجوزہ ایشیائی پارلیمینٹ کا عبوری صدر دفتر منیلا میں قائم کیا جائے گا جبکہ تمام رکن ممالک میں برانچیں قائم ہوں گی۔ مختلف ممالک کی اس تنظیم کے فورم پر دوطرفہ امور پر رکن ممالک کو کھل کر بات کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ جبکہ جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم سارک میں ایسا کرنے کی ممانعت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||