متنازعہ معاملات پر بھی بات ہونا چاہئیے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو نے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم’سارک، کے’ٹرمز آف ریفرنس، وسیع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوطرفہ سیاسی اور دیگر متنازعہ معاملات پر بات کرنے کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اسلام آباد میں شروع ہونے والے وزراء اطلاعات و نشریات کے چوتھے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ساتوں رکن ممالک، بھارت، پاکستان، نیپال، بنگلادیش، سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ کے وزراء اطلاعات و نشریات شرکت کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اجلاس کا بنیادی مقصد میڈیا کے شعبے میں تعاون وسیع کرنا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے خطاب میں کہا کہ آسیان اور یورپی یونین کی طرز کی علاقائی تنظیموں میں ایسی کوئی قدغن نہیں ہے۔ لہٰذا سارک کو بھی اس حوالے سے اپنا دائرہ کار وسیع کرنا چاہیے تاکہ تمام شعبوں میں ترقی اور تعاون کو یقینی بنایا جاسکے۔ سارک وزراء اطلاعات اجلاس میں حکام کی سطح پر پہلے سے مرتب کردہ سفارشات پر غور کیا جا رہا ہے اور جمعرات کے روز متفقہ معاملات کی تفصیلات کے بارے میں پریس بریفنگ دی جائے گی۔ حکام کی مرتب کردہ جن سفارشات پر وزراء غور کر رہے ہیں ان میں نجی اور ریاستی ٹی وی چینلز کی ’فنکشننگ، میں توازن پیدا کرنے کے لیے ’ریگولیٹری فریم ورک، قائم کرنا، سارک معلوماتی مرکز کا قیام، رکن ممالک کے میڈیا کے لوگوں کو تربیت دینا، میڈیا سے منسلک افراد کے لیے باہمی عمل کی بنیاد پر ویزا کی پابندیاں نرم کرنا اور ان کی آزادنہ نقل وحرکت کے لیے اقدامات کرنا بھی شامل ہیں۔ رکن ممالک کی سرحدوں سے ماورا نشریات شروع کرنے کے لیے تمام رکن ممالک اپنا موقف ’سارک سیکریٹیریٹ، کو آیندہ سال فروی تک پیش کریں گے۔ جبکہ سن دوہزار سات کو ’سارک میڈیا سال، کے طور پر منانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ دس صفحات پر مشتمل اضافی ضمیموں کے ساتھ سفارشات جو چودہ دسمبر کو رکن ممالک کے متعلقہ حکام کی سطح پر مرتب کی گئیں تھیں اور بدھ کے روز سارک وزراء اطلاعات کے سامنے زیر بحث ہیں۔ واضح رہے کہ ماضی میں اس سطح کے اجلاسوں میں تنظیم کی سرگرمیوں اور طئے شدہ معاملات میں پیش رفت اور ایک دوسرے کی ثقافت وغیرہ کے بارے میں رکن ممالک کے ریاستی ریڈیو پر ہفتے وار جبکہ ٹی وی چینلز پر ماہوار ءنیوز بلیٹن، نشر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ ریڈیو پر سارک نیوز بلیٹن نشر کرنے پر تاحال سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ نے عمل نہیں کیا جبکہ ٹی وی چینلز پر اس طرح کی بلیٹن نشر نہ کرنے والوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ایسی صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ میڈیا کے فروغ کے لیے بات چیت اور اجلاس اپنی جگہ لیکن اصل معاملہ عمل درآمد کا ہے۔ ان کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیاں اس وقت بھی ایک دوسرے کے مختلف ٹی وی چینلز دکھائے جانے پر پابندیاں برقرار ہیں اور ایسے ماحول میں تعاون کی باتیں بظاہر، محض باتیں ہی لگ رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||