وزیراعظم شوکت عزیز کے دورے کی اہمیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز دو روزہ دورے پر منگل کو ہندوستان پہنچ رہے ہیں- ان کی کل کی مصروفیات میں وزیر خارجہ کے نٹور سنگھ، پٹرولیم کے وزیر منی شنکر ائیئراور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئ سے ملاقاتیں شامل ہیں- اپنے دورے کے دوسرے دن وہ حکمراں اتحاد کی چیئرپرسن سونیا گاندھی، وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر تجارت سے ملاقات کریں گے- ان کی مصروفیات میں صدر جمہوریہ اور حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں- شوکت عزیز نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی دہلی کے ان کے اس دورے سے بہتر تعلقات استوار کرنے کے لئے ماحول سازگار کرنے میں مدد ملے گی۔ شوکت عزیز نے کولمبو میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ ایک مسلسل عمل کاحصہ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا اس سے فوری طور پر کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں کی جانی چاہیۓ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر سمیت تمام پہلوؤں پر ہندوستانی قیادت سے بات چیت کریں گے۔ شوکت عزیز پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر پہلی بار ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں ۔دلی کے تجارتی حلقوں میں پٹرولیم کے وزیر منی شنکر ائیئر سے ان کی ملاقات کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ بعض اطلات میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنما ایران سے پاکستان کے راستے ہندوستان تک گیس پائپ لائن بچھانے اور پاکستان کو ڈيزل کی سپلائی کے سوال پر مفصل بات چیت کریں گے۔ اس سلسلے میں پہلے بھی اہلکاروں کی سطح پر کچھ بات چیت ہوئی ہے ۔لیکن اب ماحول ساز گار ہونے کے ساتھ بات چیت میں جامع پیش رفت کی امید کی جارہی ہے۔ پاکستان نے اتوار کے روز ہندوستان سے درآمد کی جانے والی مزید 81 اشیاء پر محصول میں کمی کر دی ہے۔ اس طرح کی اشیاء کی کل تعداد اب 768 ہو گئی ہے۔ شوکت عزیز کی ہندوستانی رہنماؤں سے بات چیت میں سرینگر مظورآباد بس سروس شروع کیے جانے کا سوال بھی ایک اہم موضوع ہے۔ علیحدگی پسند کشمیر ی رہنماؤں نے بات چیت میں کسی پیش رفت کی امید ظاہر نہیں کی ہے۔ سخت گیر رہنما سید علی شاہ گیلانی سمیت سرکردہ علیحدگی پسند رہنمادلی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ پاکستان کے رہنما سے ملاقات کرنا چاہیں گے۔ وزیراعظم اگرچہ سارک کے موجودہ چیئرمین کے طور پر ہندوستان آئیں گے لیکن بظاہر ان کی ساری توجہ باہمی مذاکرات پر مرکوز ہوگی۔ان کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ کشمیر کے سوال پر بات چیت کے عمل کو مزید آگے بڑھا سکیں۔ اگلے دو دنوں میں دلی میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں کیا پیش رفت ہوتی ہے، ماحول کتنا بہتر ہوتا ہے اور مستقبل کے لئے کس طرح کی صورت حال بنتی ہے، ان سوالوں میں جوہری طاقت یافتہ ہندوستان اور پاکستان کو ہی نہیں امریکہ اور برطانیہ سمیت بین الاقوامی برادری کو بھی گہری دلچسپی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||