ایشیائی ممالک کی ریل لائن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوب مشرقی ایشیا کے سات ممالک ہندوستان، بنگلہ دیش، میانمار یعنی برما، تھائی لینڈ، بھوٹان، سری لنکا اور نیپال نے آپس میں ریل لائن کے قیام پر تعاون کے لۓ اتفاق کرلیا ہے۔ نئی دہلی میں ان ممالک کے نمائندوں نےکہا ہے کہ ’ٹرانس ایشین ریل لنک‘ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لۓ ہر ممکن کوشش کی جائےگی۔ اس سلسلے میں جنوب مشرقی ایشیا کے مذکورہ ممالک کے نمائندوں نے نئی دہلی میں دوروزہ کانفرنس میں بہت سے امکانات کا جائزہ لیاہے۔ مندوبین نے ریل کے شعبے میں ٹیکنالوجی کاتبادلہ، مستقبل کے منصوبے، نظریات و خیالات کا تبادلہ اور آپس میں اطلاعات فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے بھارت میں ریل بورڈ کے چیئرمین آر کے سنگھ نے بی بی سی کو بتایاکہ میٹینگ میں کئی اہم فیصلے ہوئے ہیں تاہم ابھی اس سمت میں بہت کام باقی ہیں۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ بھوٹان، میانمار اور تھائي لینڈ کے درمیان بہت سی جگہوں پر ریل لائن ہی نہیں ہے اس لۓ سب سے پہلے تو ان علاقوں کو توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کا اپنا ریلوے نظام ہے اور ظاہر ہے مشترکہ لائن بچھانے کے لۓ آپس میں مطابقت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس سلسلے میں پڑوسی ممالک کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور ٹریننگ کے لئے خصوصی سہولیات دینے کو کہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ ریل کے راستے سے تمام ملکوں کے مل جانے سے ٹریفیکنگ اور کسٹم جیسے مسائل تو پیدا ہونگے لیکن ابھی صرف سسٹم پر بات چیت ہوئی ہے اور مستقبل میں ان مسائل پو قابو پالیا جائےگا۔ مسٹر سنگھ نے ریل روٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ویت نام اور کمبوڈیا ہوتے ہوئے تھائی لینڈ، بھارت اور میانمار کو آپس میں ملایا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور ہندمستان کے درمیان ریل لائن ہے اور اسے مزید وسیع کرکے ایران اور ترکی کے راستے سے ایشیا کو یوروپ سے جوڑا جا سکتا ہے۔ آپس میں تجارت اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی غرض سے ٹرانس ایشین ریل لنک کا خاکہ 1992 میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس سمت میں ابھی تک صرف تجاویز ہی پیش ہوتی رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس پروجیکٹ کی تکمیل میں ابھی کافی وقت لگ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||