’ آزادانہ تجارت کو فروغ ملے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے وزرائے تجارت نے خطے میں آزادانہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے اور حل طلب معاملات پر بحث مکمل کرکے معاہدوں کے متن کو آئندہ سال مئی تک حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اعلان پاکستان کے وزیر تجارت ہمایوں اختر کی زیر صدارت جاری رہنے والے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ اجلاس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے وزرائے تجارت جبکہ بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا کے محکمہ تجارت کے سیکریٹری شریک ہوئے۔ اجلاس کے شرکاء نے بتایا کہ رکن ممالک میں سے کم ترقی یافتہ ممالک کو فنی امداد فراہم کرنے، ان ممالک کو تجارتی خسارے کی صورت میں معاوضہ ادا کرنے کا طریقہ کار وضع کرنے اور حساس اشیاء کی فہرستوں پر نظرثانی کے معاملات پر معاہدوں کے متن کو حتمی شکل آئندہ سال مئی تک دے د ی جائے گی۔ ہمایوں اختر نے بتایا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے، جو اپنی سفارشات جلد سے جلد مرتب کرے گی۔ واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد میں منعقدہ سارک کانفرنس کے موقع پر تمام ممالک نے اتفاق رائے سے جنوری دوہزار چھ سے آزادانہ تجارت شروع کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ سارک وزراء تجارت کے اجلاس میں شریک نمائندوں نے بریفنگ میں کہا کہ وہ آزادانہ تجارت شروع کرنے کے لیے ہونے والے اب تک کے اقدامات اور پیش رفت سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں طے ہوا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ’ڈبلیو ٹی او‘ سمیت تمام عالمی فورمز پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ ان کے مطابق ہانگ کانگ میں آئندہ ماہ کی تیرہ تاریخ سے شروع ہونے والے ڈبلیو ٹی او کے وزارتی اجلاس سے قبل سارک وزراء آپس میں ملاقات کریں گے۔ اجلاس میں بھارت کی جانب سے چھ جنوری سے دلّی میں پانچ روزہ تجارتی میلہ منعقد کرنے کے فیصلے کو سراہا گیا اور دیگر رکن ممالک میں بھی اس طرح کے میلے منعقد کرنے پر زور دیا گیا۔ تمام نمائندوں کا کہنا تھا کہ غربت، بے روزگاری، خواندگی کی شرح میں کمی اور کم ترقی جیسے مسائل کا تمام رکن ممالک کو سامنا ہے۔ لہٰذا ان کے مطابق ان مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں اور حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے۔ بھارت کے وزیر تجارت کمل ناتھ نے اس موقع پر کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری سے تجارت کو فروغ ملے گا اور بھارت کی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ سارک وزراء تجارت کے اجلاس کے شرکاء نے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی۔ صدر نے اس موقع پر کہا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارتی فروغ کے لیے خطے کے تمام تنازعات کا حل ضروری ہے۔ سارک وزراء اجلاس کا تجارت کے تعاون کے اقدامات پر اطمینان ظاہر کرنا اپنی جگہ لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر سمیت دیگر سیاسی تنازعات حل نہیں ہوں گے اس وقت تک اس شعبے میں حقیقی معنوں میں پیش رفت شاید ہی ہوسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||