’سارک سٹیکر ملٹی پل ویزوں کا مطالبہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کےتمام اراکان کو سارک سٹیکر والے ملٹی پل ویزے جاری کیے جائیں۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین پنجاب کے صدر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف قاسم ضیا نے کہا ہے کہ’اگرچہ پاکستان اور بھارت جغرافیائی لحاظ سے دو الگ ملک ہیں لیکن ان دونوں میں اتنا پیار ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کو ایک نظر آئیں۔‘ وہ جمعہ کی شب پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں بھارت سے آنے ایک امن وفد کےاعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے صوبائی عہدیدار بھی موجود تھے۔ قاسم ضیا نے کہا کہ ’پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں جب امن کا نام لیا تو اسےغدار کہاگیا آج کے حکمران پیپلزپارٹی کے منشور کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ان کی جماعت جلداقتدار میں آ کر پاک بھارت تعلقات میں تیزی سے بہتری لائے گی اور ویزے کے مسائل ختم کر دیے جائیں گے۔‘ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ سے تعلق رکھنے والے بھارتی لوک سبھا کے ممبرحنان ملاً نے کہا کہ ’دونوں ملکوں کے درمیان کشدگی پیدا کرنے والے بڑے کھلاڑی ہیں لیکن ان دونوں ملکوں کے عوام دوستی میں آگے نکل گئے ہیں اور ان کی حکومتیں پیچھے آنے پر مجبور ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اب دونوں ملکوں کے عوام میں ایک دوسرے کو دوستی میں ہرانے کا مقابلہ شروع ہونے والا ہے۔‘ بھارتی مرکزی اسمبلی (لوک سبھا) کے رکن کا کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ اس قدر آگے بڑھ چکا ہے اب جو دونوں ملکوں کے درمیان آگ لگانے کی کوشش کرے گا وہ خود اس آگ میں جل کر مر جائے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ’ امن کی طاقت ایٹم بم سے زیادہ ہے دونوں ملکوں کے عوام امن کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’اس جنگ میں فتح امن پسندوں کی ہوگی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ’ دونوں ممالک ایک لاکھ دس ہزار کروڑ روپے اسلحہ پر خرچ کر رہے ہیں وہ اگر اس کا دس فی صد بھی عوام پر خرچ کرنا شروع کر دیں تو ان کے آنسو ختم ہو جائیں گے۔‘ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی رکن قومی اسمبلی چودھری منظور نے کہا کہ’دونوں ممالک کے حکمران جھوٹے ہیں وہ منہ سے تو امن کی بات کرتے ہیں لیکن انہوں نے رومال کے نیچے گن چھپا رکھی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’دونوں ملک ایک دوسرے مخلص ہوتے تو بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں تئیس فی صد اور پاکستان اکیس فی صد اضافہ نہیں کرتا۔‘ رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں ممالک نے پانچ سال کے دوران اتنا اسلحہ خریدا جتنا انہوں نے پچاس سال میں نہیں خریدا تھا اور اس پانچ سال میں بھی وہ دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے دو ممالک ہیں۔‘ انہوں نےسوال اٹھایا کہ ’اگر حکمران امن کرنا چاہتے ہیں تو اتنا اسلحہ کیوں خرید رہے ہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’دونوں ممالک کے تمام اراکین پارلیمان کو سارک سٹیکر والے ویزے جاری کیے جائیں اور بتدریج ان ویزوں کے اجراء کے دائرہ کو وسیع کیا جائے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||