’انڈیا کو بھی ہتھیار بیچنا چاہتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ہندوستان کے ان شکوک و شبہات کو مسترد کردیا ہے کہ پاکستان کو ہتھیاروں کی سپلائي سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری مذکرات پو منفی اثرات مرتب ہونگے۔ نئی دِلّی میں امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ ہندوستان کو زیادہ ہتھیار دینا چاہے گا۔ اتوار کے روز صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں بھارت میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ملفورڈ نے کہا کہ ’ان معاملات میں امریکی انتظامیہ ہندوستان کی موقف کے تئیں کافی حساس ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آخر اس سے (پاکستان کو اسلحوں کی سپلائی) مذاکرات پر منفی اثرات کیوں پڑیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کوامید ہے کہ ’ہندوستان کے ساتھ مزید گہرے رشتے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اور ہماری چاہت ہے کہ ہندوستان کو فوجی ساز وسامان اور اسلحہ زیادہ دیا جائے‘۔ امریکی سفیر نے ہندوستان کو اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت دینے کے سوال پو کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور اس کے متعلق تمام سوالوں کو ٹال دیا۔ امریکہ کی جانب سے یہ بیان ہندوستانی وزیردفاع پرنب مکھرجی کے اس بیان کے بعد آيا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو اہتھیار دیۓ جانے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری امن مذاکرات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ مسٹر مکھر جی نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندوستان نے اس سلسلے میں اپنی تشویش امریکہ کو ظاہر کر دی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امریکہ جس طرح کے جدید ہتھیار پاکستان کو دے رہا ہے انکا استعمال صرف بڑي جنگ میں ہی کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||