 | | | بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور افغانستان کےصدرحامد کرزئی |
بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ افغانستان کےدو روزہ دورہ پر کابل پہنچے ہیں۔گذشتہ انتیس سال میں یہ کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کاافغانستان کا پہلا دورہ ہے۔ وزیر اعظم من مون سنگھ اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے درمیان اتوار کو ہونے والی بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک یاد داشت پر اتفاق ہوا ہے جس کے مطابق بھارت تعلیم، صحت، زرعی تحقیق، تعمیرات، اور میڈیکل سائنس کے شعبوں میں افغانستان کی مدد کرے گا۔ بھارتی وزیر اعظم افغانستان کے صدر کے ساتھ دیگر موضوعات پر مذاکرات بھی کریں گے جن میں سلامتی اور ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ آپ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ افغانستان کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون سے پاک اورافغان تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس سے خطے میں سلامتی اور امن کی فضا بہترہوگی؟ پاکستان کو بھارت اور افغانستان کے درمیان تعاون اور تجارت سے کیا فوائد یا نقصانات ہو سکتے ہیں؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
عاصف طاہر، فیصل آباد، پاکستان: میرے خیال میں پاکستان کو بھارت اور افغانستان کے تعلقات سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ افغانستان ہمارا اسلامی برادر ملک ہے۔ پاکستان نے افغانی بھائیوں کی ہر مشکل میں مدد کی ہے اور امید ہے کہ وہ بھی پاکستان کے خلاف کوئی غلط سوچ نہیں رکھیں گے۔ جہاں تک افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا سوال ہے تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔ ہم ہر شعبے میں بہت طاقت ور ہیں۔ ہم کسی سے مار نہیں کھائیں گے۔۔۔ محمد سعید، لاہور، پاکستان: ہوشیار! بنیے نے جال بننا شروع کر دیا ہے۔ پہلے امریکہ کا چکر، اب افغانستان کا چکر۔ بنیے چکر میں پڑ گئے ہیں۔ یا تو چکر میں کسی کو ڈالے گا یا بری طرح چکر کھائے گا۔ محمد عثمان رانا، پاکستان: بھارت تمام دنیا کا پولیس والا بننا چاہتا ہے اوریہ بار واضح ہوتی جا رہی ہے۔ اس پس منظر میں یہ تعلقات پاکستان کے مفاد کے بالکل خلاف ہیں۔ عادل بلال، پاکستان: آپ کم از کم میری رائے کو شامل ضرور کرنا، چاہے کاٹ چھانٹ کر ہی صحیح۔ کمال فن ہے انڈیا کے پاس ہماری حکومت کو شرم کرنی چاہیے کہ انڈیا نے چین کے ساتھ بھی سرحدی معاملات حل کر لیے ہیں اور اب افغانستان کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا رہا ہے۔ اور ہمارے حکمرانوں کو کرسی کی فکر پڑی ہوئی ہے۔ سارے ملک کو جھوٹ پر چلا رہے ہیں۔۔۔ نامعلوم: گجرات میں اقلیت کو ختم کرنے کے بعد اب بھارت افغانستان پہنچ گیا ہے۔ مقبول بلوچ، کوئٹہ، پاکستان: میری نظر میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دورہ افغانستان کا پاکستان پر اتنا برا اثر نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر امریکہ پاکستان پر کوئی حملہ کرنا چاہتا ہو اور اس میں افغانستان اور بھارت کو استعمال کرنا چاہے تو یہ الگ معاملہ ہے۔ قمر عباس، پاکستان: بھارت، شمالی اتحاد اور امریکہ کی دیرینہ خواہش ہے کہ ایٹمی پاور ہونے کے ناطے پاکستان سے گن گن کر بدلے لیے جائیں، لیکن دوسری طرف پاکستان ہے کہ جھکتا ہی چلا جا رہا ہے۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ عامر شاہ سید، چین: کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ بھارت ایک علاقائی طاقت ہے۔ افغانستان کو ترقی کے لیے اس مدد اور سہارے کی ضرورت ہے جو بھارت اسے دے سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کے کھلنے سے پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا۔ پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے خدشات ہیں مگر افغانستان کو روس کے خلاف پاکستان کی مدد کو یاد رکھنا ہوگا۔ ہم سب کو تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ شیریار خان، سنگاپور: بھارتی وزیر اعظم کے دورے سے خطے میں امن میں بہتری کی توقع ضرور ہوگی۔ افغانستان میں ہرملک نے طاقت کے زور پر امن قائم کرنے کی کوشش کی لیکن بھارت پہلا ملک ہے جس نے افغانستان کی طرف بغیر کسی زور آزمائی کے قدم بڑھایا ہے۔ افغانستان کے عوام بھی بھارت کو اپنا قریبی دوست سمجھتے ہیں۔ افغانستان کے ہمسایہ ملک روس، پاکستان اور ایران کافی عرصے سے اندرونی اور بیرونی اثرات کے زیر اثر ہیں۔ بھارت اس خطے کا ایک مستحکم ملک ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک میں امن اور ترقی بحال کر سکتا ہے کیونکہ وہ تعلیم، زراعت، معیشت اور طبی سائنس کے شعبوں میں مستحکم ہے۔ وزیر اعظم من موہن کی ذاتی قابلیت بھی اس سلسلے میں معاون ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے بھارت اور افغانستان سے بہتر تعلقات اس خطے میں ایک ایسا انقلاب لا سکتے ہیں جو باقی دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔ جاوید اقبال سید، چکوال، پاکستان: اصولاً ہونا تو یہ چاہیے کہ تمام ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے ساتھ خصوصی تعاون کریں، جیسے انڈیا، پاکستان، افغانستان، ایران اور چین ہیں۔ لیکن ہم ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات میں گھرے ہوئے ہیں۔ انڈیا اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات پہلے سے موجود ہیں کیونکہ افغانستان کے سابق شاہ انڈیا کو بہت پسند کرتے تھے اور اب حامد کرزئی بھی۔ علیم اختر، گجرات، پاکستان: انڈیا تو دشمنی کی تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔ اس نے کبھی بھی پاکستان کے ساتھ اچھے تعقات کا نہیں سوچا وہ پاکستان کو دوست نہیں بلکہ ایک غلام کے طور پر دیکھتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دے کر پرویز مشرف نے پاکستان کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیاہے۔ اللہ نہ کرے ، لیکن اگر پاکستان ایران کے معاملے پر بھی خاموش رہا یا امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا تو پاکستان کو ختم ہی سمجھیے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس تو رہا ہے لیکن یہ نے جھٹلائی جانے والی حقیقت ہے۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ سید فرحاج، متحدہ عرب امارات: یہ سب بکواس ہے۔ بھارت دوسری جانب سے بھی پاکستان پر نظر رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔جہاں تک صدر کرزئی کا تعلق ہے تو وہ امریکہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: بھارت اور افغانستان کی یہ نئی پینگیں کوئی نئی بات نہیں۔ ا افغانستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ بھارت اور امریکہ کے ساتھ مِل کر پاکستان کو تگنی کا ناچ نچائے۔ یہ بھارت افغانستان دوستی پاکستان کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں، اں کے مضمرات پاکستان کے لیے بہت بھیانک ہو سکتے ہیں۔ علی عمران شاہین، لاہور،پاکستان: پاکستان کو دونوں طرف سے گھیر کر مارنے کی سازشیں مذید تیز اور مضبوط ہو گئی ہیں۔ ناہید برک، کینیڈا: پاکستان کے لیے بری خبر ہے۔ شیخ محمد یحیٰ، کراچی، پاکستان: یہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی سرمایہ داروں کے لیے لمحہء فکریہ ہے۔ ایک پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان وہ فائدہ نہیں اٹھا سکا جو انڈیا اٹھا رہا ہے۔ نامعلوم: بھارت کو افغانستان سے اسلام کو نکالنے میں زیادہ دلچسپی ہے نہ کہ وہاں کی ترقی میں۔ جنگ اور بھوک سے پریشان طالبان کے خاتمے کے بعد بھارت ہی وہ پہلا ملک تھا جو سب سے پہلے وہاں فلم بنوانے گیا تھا۔بھارت اب گاندھی اور نہرو کا وہ بھارت نہیں رہا جس نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی۔ بھارت میں ہر بڑے عہدے پر اب اسلام اور مسلمان دشمن آ ۔یے ہیں جو ظاہری طور پر تو مسلمان ملکوں سے دوستی رکھتے ہیں لیکن پیچھے سے غیرمسلموں کو ہی فائدہ دیتے ہیں۔ ظہیرالدین بابر، کوالا لمپور، ملائشیا: بھارتی نفسیاتی طور پر یہ کبھی بھی نہیں بھلا پائے کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو وہ افغانستان کے ہمسائے ہوتے۔ اُنہی زخموں پر مرحم رکھنے کے لیے وہ افغانستان میں ہر پاکستان مخالف حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں۔انڈیا کی پوری افغان پالیسی پاکستان کے گرد گھومتی ہے۔ یہ دورہ پاکستان کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ سعید خان بازید خیل، کوہاٹ، پاکستان: من موہن صاحب فلموں کی چند ہیرؤینوں کو بھیجنے کا بھی معاحدہ کریں تا کہ ہم ان کو قریب سے دیکھ سکیں۔ |