BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 November, 2004, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت من موہن ملاقات:
شوکت من موہن ملاقات
شوکت من موہن ملاقات
وزیرِ اعظم شوکت عزیز آج اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

گزشتہ تیرہ برس میں کسی بھی پاکستانی وزیرِ اعظم کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔ شوکت عزیز نے گزشتہ روز بھارت کے سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی اور سابق نائب وزیرِ اعظم ایل کرشن ایڈوانی سے بھی بات چیت کی تھی۔

منگل کو شوکت عزیز نے علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی تھی۔ وہ مختلف رہنماؤں سے الگ الگ بھی ملے لیکن دلی میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ اس ملاقات کے بعد کشمیری رہنما زیادہ خوش نظر نہیں آ ئے۔ بظاہر شوکت عزیز نے ان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اختلافات کو ختم کریں۔

ایران سے پاکستان کے راستے بھارت جانے والی گیس پائپ لائن بھی بات چیت کا ایک اہم موضوع رہی ہے اور خیال ہے کہ شوکت عزیز من موہن سنگھ کو اس حوالے سے نئی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

دونوں طرف کے حکام شوکت عزیز کے اس دورے میں دو طرفہ تجارت کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ پاکستانی وزیرِ اعظم بدھ کے روز بھارت کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے لیڈروں سے بھی ملیں گے۔

آپ شوکت عزیز کے اس دورے سے کیا امیدیں وابستہ کرتے ہیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے اور قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


شاہد شان، امریکہ:
اصل مسئلہ پر نہ انڈیا نے بات کرنی ہے اور نہ پاکستان نے۔ انڈیا کے وزیراعظم نے تو ملاقات اس وجہ سے کی ہے کہ وہ انڈیا کا فائدہ چاہتے ہیں جبکہ پاکستانی وزیراعظم یہ ملاقات امریکہ کے حکم پر کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔

جاوید اقبال ملک:
شوکت عزیز کے اس دورے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ وہ من موہن سے کچھ اچھی باتیں سیکھ سکتے ہیں جیسے کہ وزیروں کی ایک فوج بھرتی نہ کرنا اور مہنگی گاڑیاں استعمال کرنے سے پرہیز کرنا وغیرہ۔

تلخ تجربات
 ایسی بہت سی ملاقاتیں ہوچکی ہیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اللہ کرے شوکت۔من موہن ملاقات کا یہ تجربہ ماضی کے تجربات جتنا تلخ نہ ہو۔
محمد احمد ظفر، فیصل آباد

علی عمران شاہین، لاہور:
انڈیا صرف دکھانے کے لیے تعلقات ٹھیک کر رہا ہے کیونکہ کشمیر کے معاملہ میں اس کی منافقانہ پالیسی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس ملاقات سے انڈیا فائدہ ضرور اٹھائےگا اور پاکستان سراسر نقصان میں رہے گا۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
جب تک پاکستان کی پالیسی ایک نہیں ہوگی بھارت ہماری بات کبھی نہیں مانےگا۔ مگر پاکستان ایک پالیسی رکھ نہیں سکتا کیونکہ اس سے عوام کو فائدہ ہوگا اور حکمرانوں کے پاس عوام کو بےوقوف بنانے کے لیے کچھ نہیں بچےگا۔

محمد عامر خان، کراچی:
پاکستان اور انڈیا کو چاہیے کہ اس مسئلہ سے جلداز جلد نکلیں۔ ایک مسئلے پر کروٹوں لوگوں کی جانیں لگی ہوئی ہیں۔ جذبات کو پیچھے رکھیں اور مثبت سوچ کو آگے لائیں۔ لوگ امن چاہتے ہیں۔

ابو محسن میاں، سرگودھا:
اس ملاقات سے کشمیر کے بارے میں کوئی توقعات رکھنا محض حماقت ہوگی۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو، کینیڈا:
ہمسائیوں سے تعلقات اچھے ہی ہونا چاہیں مگر اس ملاقات سے امیدیں وابسطہ کرنا اچھی بات نہیں ہے کیونکہ سیاست میں وعدے تو کیے جاتے ہیں پورے نہیں کیے جاتے۔

نسیم واحدبھٹی، ملتان:
خدا شوکت عزیز کے دورے کو مبارک کرے۔

محمد احمدظفر، فیصل آباد:
ماضی میں بھی ایسی بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اللہ کرے شوکت۔من موہن ملاقات کا یہ تجربہ ماضی کے تجربات جتنا تلخ نہ ہو۔

غلام فرید شیخ، گمبت، پاکستان:
یا اللہ اب تو پاکستان اور انڈیا کے حکمرانوں کو عقل دے۔

شیریارخان، سنگاپور:
دونوں ملکوں کے وزیرِاعظم کا تعلق معاشیات سے ہے اس لیے اس ملاقات میں معیشت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ لگتا ہے کشمیر کا معاملہ بھی معاشی اصولوں کے تحت حل ہوجائےگا۔

اللہ بخش راٹھور، کراچی:
انڈیا اور پاکستان کے رہنما کسی بھی صورت ملیں، یہ برِصغیر کے امن کے لیے اچھا ہے لیکن اب ایک نتیجہ خیز قدم کی ضرورت ہے۔ ہمیں ابھی کسی ایسے قدم کی توقع نہیں۔ کشمیریوں کو حقِ خودمختاری دینا ضروری ہے اور کوئی بھی راستہ چننا صرف ان ہی کا حق ہے۔ ہماری دعا ہے کہ دونوں ممالک جوہری جنگ اور جنگی دباؤ سے گریز کریں۔ یہ دونوں ممالک دراصل امریکہ کے اشارے پر بات چیت کر رہے ہیں کہ یہ اس کے تجارتی مفاد میں ہے۔ آپ نے پائپ لائن کا اور دیگر منصوبوں کا ذکر کیا ہے تو پاکستانی رہنما یہ سب کچھ کثیرالاقوامی کمپنیوں کے مفاد کے لیے کر رہے ہیں، کشمیر کے لیے نہیں۔

سعید خٹک، نوشہرہ:
میرے خیال میں شوکت عزیز کا یہ دورہ معمول کا دورہ ہے اور اس سے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ انڈیا پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انڈین وزیرِ اعظم نے ان کے دورے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے۔ جب تک انڈیا اس موضوع پر کوئی لچک نہیں دکھاتا، تب تک ہمارے رہنماؤں کو غریب عوام کے پیسے کے ضیاع کا کوئی حق نہیں۔ اس پیسے سے آئی ٹی کی ایک یونیوسٹی بن سکتی ہے۔

سید مالکِ اشتر جعفری، امریکہ:
زیادہ امید نہیں لیکن بہتری کی طرف ایک اور قدم ضرور ہے۔ تاریخ میں انڈیا پاکستان کے حالات اس سے زیادہ ساز گار کبھی نہیں رہے۔ پاکستانی قیادت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کشمیر کا حل اب نہیں تو کبھی نہیں۔

اطہر، علی پور:
پاکستان اور انڈیا کی حکومتیں ہم عوام کو تجارت کے لالچ میں پھنسا کر کشمیر کے مسئلے کو بھلوانا چاہتی ہیں۔

فیصلے کی کنجی کہیں اور ہے
 فیصلے کی طاقت شوکت عزیز کے ہاتھ ہی میں نہیں ہے۔ ان کا دورہ صرف مشرف کی کشمیر کے مسئلے کے حل کی تجاویز کو آگے بڑھانا ہے جسے کشمیریوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
رئیس خواجہ، کشمیر

رئیس خواجہ، پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر:
اس دورے سے ہمیں کچھ امید نہیں کیونکہ فیصلے کی طاقت شوکت عزیز کے ہاتھ ہی میں نہیں ہے۔ ان کا دورہ صرف مشرف کی کشمیر کے مسئلے کے حل کی تجاویز کو آگے بڑھانا ہے جسے کشمیریوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ طاقت کے ذریعے کشمیر کا حل ہمیں قبول نہیں ہے۔ ہم صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرتے ہیں یا کشمیریوں کی مرضی۔ مشرف آمر ہیں اور منتخب صدر نہیں ہیں۔

کلیم اللہ، لاہور:
مجھے نہیں لگتا کہ اس دورے سے کوئی خاص نتائج برآمد ہوں گے۔ ہندوستان کبھی بھی اس پر قائم نہیں رہے گا جو وہ مذاکرات کی میز پر کہتا ہے۔ لیکن چلئے امید پرست رہئے۔

نعیم اختر، لاہور:
ناامیدی بھی ہے کفر، امیدیں بھی ہیں ٹوٹیں۔

حامد علی، کراچی:
آپ صرف اپنی پسند کی رائے شائع کرتے ہیں۔

عرفان احسن پاشا، لاہور:
شوکت عزیز کے دورے سے برسوں کا جمود ٹوٹ گیا ہے۔اس دورے سے دونوں ملکوں کے عوام کوقریب آنے کاموقع ملےگا۔اگر ریل کے ذریعے دونوں ملکوں میں تجارت شروع ہو جاتی ہے تو یہ دونوں ملکوں میں مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

عمر آفتاب، لاہور:
بھارت کیوں لچک سے کام لے جب ان کے پاس واضع فوجی برتری ہے۔ کشمیر کا حل طاقت کے استعمال کے بغیر ناممکن ہے۔ پاکستان مجبوراً جامع مذاکرات پر راضی ہوا ہے۔

جاوید احمد ڈوگر، لاہور:
اس ملاقات سے زیادہ امیدیں تو نہیں ہیں لیکن اس سے ماحول خوشگوار ضرور ہوگا۔ قریب آنے سے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملےگا اس لیے اس طرح کے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

طارق سیعد، ٹوبہ ٹیک سنگھ:
میرا خیال ہے امریکہ نے کشمیر کا مستقبل طے کر لیا ہے مگر شوکت عزیز یا
من موہن کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ وہی فیصلہ قبول ہوگا جو کشمیری عوام کو قبول ہوگا۔

حماد رضا بخاری، پاکستان:
سب بے کار کی باتیں ہیں۔

عرفان عنایت، سمبریال، پاکستان:
مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اس دفعہ پھر بھارت کی روائتی ہٹ دھرمی آڑے آئےگی۔ بھارت صرف وقت گذارتا ہے ، وہ کبھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے بقول کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔

ڈاکٹر طارق عباس، جڑانوالہ:
مذاکرات ضرور ہونا چاہیں اور کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینا چاہیے لیکن لگتا یہی ہے کہ امریکہ کچھ حصہ بھارت کو اور کچھ حصہ پاکستان کو دینے کے بعد باقی پر اقوامِ متحدہ کے ذریعے خود مسلط ہونا چاہتا ہے تاکہ وہ چین کو قابو میں رکھ سکے۔خدارا اپنے آپ کو امریکہ کی غلامی سے نکالیں۔

شاہد اقبال راجپوت، نوابشاہ:
ہزار شکر کہ مایوس کر دیا تونے، یہ اور بات کہ تجھ سے بڑی امیدیں تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد