BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 May, 2004, 16:15 GMT 21:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
من موہن سنگھ بحیثیت وزیراعظم
من موہن سنگھ سیاست دان کم، بیوروکریٹ زیادہ؟
من موہن سنگھ سیاست دان کم، بیوروکریٹ زیادہ؟
کانگریس کے پارلیمانی لیڈر من موہن سنگھ ہندوستان کے وزیراعظم ہونگے۔ سونیا گاندھی کے وزیراعظم کے عہدہ سے انکار کے بعد من موہن سنگھ کو کانگریس کا پارلیمانی لیڈر منتخب کیا گیا جس کے بعد صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام نے انہیں حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ ضلع راولپنڈی کے گاؤں گاہ میں پیدا ہونے والے من موہن سنگھ بھارت میں اقتصادی اصلاحات کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ بہتر سالہ من موہن سنگھ ماہر تعلیم سے سول سرونٹ بنے۔ یہ پہلی بار ہے کہ ملک کے صدر اور وزیراعظم کا تعلق اقلیتی برادریوں سے ہے۔ من موہن سنگھ سِکھ ہیں۔ وہ سیاست دان نہیں، ایک بیوروکریٹ ہیں۔

آپ کے خیال میں کیا من موہن سنگھ اچھے وزیراعظم ثابت ہونگے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


ضیاء القمر، سرحد: اگر بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت من موہن سنگھ کو کام کرنے دے تو یقینا وہ کامیاب وزیراعظم ثابت ہونگے، وہ ماہر اقتصادیات ہیں اور اکیسویں صدی میں کامیابی کے لئے اقتصادی ترقی ضروری ہے۔

محمد شاہزیر خان، اسلام آباد: سونیا گاندھی کی حمایت کے بغیر من موہن سنگھ اچھے وزیراعظم ثابت نہیں ہونگے۔

پاکستان سے دوستی ہوگی
 من موہن سنگھ ایک اچھے وزیراعظم ثابت ہونگے، اس سے پاکستان اور انڈیا کی دوستی بھی مضبوط ہوگی کیونکہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے اور سونیا گاندھی نے دنیا کی بہترین خاتون ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
زہیب محمود، پاکستان

زہیب محمود، پاکستان: من موہن سنگھ ایک اچھے وزیراعظم ثابت ہونگے، اس سے پاکستان اور انڈیا کی دوستی بھی مضبوط ہوگی کیونکہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے اور سونیا گاندھی نے دنیا کی بہترین خاتون ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کافی محنت کرکے کانگریس کی پوزیشن مستحکم کی اور خود وزیراعظم بننے سے انکا کردیا۔ ان سے پاکستانی حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہئے۔

اشرف ناز، لاہور: من موہن سنگھ ایک اچھے لیڈر ثابت ہونگے، مجھے یقین ہےگ

ماہیر، لاہور: من موہن سنگھ انڈیا کے لئے وزیراعظم کی حیثیت سے کامیاب رہیں گے، اور پاکستان کے لئے بھی، کیونکہ پاکستان اور انڈیا دونوں ہی اپنے اندر اقتصادی ترقی چاہتے ہیں۔ یہ اچھا ہی ہے کہ من موہن سنگھ سیاست دان کم اور بیوروکریٹ زیادہ ہیں۔

عارفین محمد، ملیشیا: میرے یال میں من موہن سنگھ اچھے وزیراعظم ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ کانگریس کی پالیسیاں لیکر چلیں گے جو پہلے ہی پاکستان دوست ہوچکی ہیں اور پھر بھارت کے لئے بھی اچھی ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ ایک ماہر معاشیات ہیں اور وہ انڈیا میں اچھی اصلاحات نافذ کریں گے۔

امین خان راجپوت، کراچی: سردار کی سرداری خوب چلے گی۔

ہارون رشید، سیالکوٹ: شکل سے تو شریف ہی لگ رہے ہیں۔ اب کرسی ہاتھ آئے گی تو دیکھئے کیا کرتے ہیں۔

احمد خان: کاش پاکستانی بھی اتنے باشعور ہوجائیں۔ اتنی بڑی جمہوریت پڑوس میں پنپ رہی ہے اور ہم ابھی تک جاگیرداروں کے غلام ہیں۔ آج انڈیا کا صدر مسلمان اور وزیراعظم سِکھ ہیں۔ کیا بات ہے اس ملک کی۔

نور اللہ میاں، لاہور: من موہن سنگھ موڈرن انڈیا کے معمار ہیں۔ اکیسویں صدی ایشیا کا ہے اور انڈیا کی قیادت خطے میں استحکام قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔

آصف اللہ، کراچی: میرے خیال میں من موہن سنگھ صحیح طور پر حکومت نہیں کرسکیں گے کیونکہ ان کا تعلق ہندو برادری سے نہیں، ان کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہے گا۔

محمد فاروق خان، جرمنی: من موہن سنگھ سیاستدان سے زیادہ بیوروکریٹ ہیں اس لئے میری رائے میں یہ کانگریس کی اچھی چال نہیں ہے۔ پھر سونیا گاندھی نے اپنے ووٹروں کے ساتھ دغا کیا ہے جنہوں نے انہیں اس لئے ووٹ دیا تھا کہ وہ سب سے بڑے عہدے پر فائز ہوں گی۔

محمد دین سلیم، برطانیہ: وہ اچھے وزیرِ اعظم ثابت ہوں گے۔

مجبوریاں
 وہ خارجی پالیسی خاص طور پر پاکستان سے بہتر روابط کے حوالے سے اپنی مجبوری کے باعث کمزور رہیں گے۔
اصغر خان، چین

اصغر خان، چین: ملک کی اندرونی صورتِ حال بشمول امن و امان اور مضبوط اقتصادی حالات کے لئے من موہن سنگھ اچھے وزیرِ اعظم ثابت ہوں گے جبکہ وہ خارجی پالیسی خاص طور پر پاکستان سے بہتر روابط کے حوالے سے اپنی مجبوری کے باعث کمزور رہیں گے۔

لیاقت علی، امریکہ: میں لبرلز کی غیر متوقع جیت سے بہت خوش ہوا لیکن سونیا گاندھی کا فیصلہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ ہم ابھی تک انتہا پسندوں کی گرفت میں ہیں۔

کامران اکبر، مونٹریال، کینیڈا: ڈاکٹر من موہن سنگھ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان ہیں اور انڈیا کی معاشی اصلاحات کے بانی ہیں۔ اب ان کو موقعہ ملا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کی بدولت ہندوستان کی عوام کو ترقی کی جانب لے جائیں۔ انہیں اور ان کی جماعت کو انتہا پسندی کے خلاف ووٹ ملا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ پورے علاقے کی عوام کو جنگ اور غربت سے نجات دلائیں۔

صائمہ تبسم، کراچی، پاکستان: من موہن سنگھ بہت اچھے سیاست دان ہیں میرے خیال میں وہ اچھے وزیرِ اعظم ثابت ہوں گے۔

یونس ملکانی، بدین، پاکستان: من موہن سنگہ پہلے اقلیتی وزیر ہیں۔ ان سے امیدیں تو بہت ہیں۔ دیکھیں بھارتی انتہا پسند انہیں کتنا کام کرنے دیتے ہیں۔

نوید اشرف، کویت: پتہ نہیں واجپئی سے بہتر ثابت ہوتے ہیں یا نہیں، پر بش سے تو بہتر ہی ثابت ہوں گے۔

شاد خان، ہانگ کانگ: من موہن سنگھ کی صورت میں ہندوستان ایک قدم اور ترقی کی طرف بڑھ گیا ہے۔ وہ ہندوستان کے لئے بل کلنٹن ثابت ہوں گے۔

مصدق شیخ، لاہور، پاکستان: جی ہاں ڈاکٹر موہن سنگھ واجپئی کا بہترین متبادل ثابت ہوں گے۔

لے سانس بھی آہستہ۔۔۔۔
کانگریس کو بڑی جدوجہد کے بعد وزارت ملی ہے لہٰذا امید ہے کہ وہ اب پھونک پھونک کر قدم رکھیں گے۔
پرویز مخدومی، گجرانوالہ

پرویز مخدومی، گجرانوالہ، پاکستان: کانگریس کو بڑی جدوجہد کے بعد وزارت ملی ہے لہٰذا امید ہے کہ وہ اب پھونک پھونک کر قدم رکھیں گے۔ اقلیت سے ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر سنگھ چھوٹے طبقات کا خیال کریں گے جیسا کہ انہوں نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بھی ان کی ترجیح ہیں۔ اس سے بھارت میں انتہا پسند جماعتوں کا خاتمہ ہوگیا ہے اور سیکولر انڈیا ایک بار پھر ابھرے گا۔ صرف ایک ڈر ہے کہ کانگریس کا ہمیشہ سے جنگجویانہ وطیرہ بھی رہا ہے، وہ اپنے افکار کو کیسے بدلتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

کوثر علی شاہ، عمان: اگر وہ وزیرِ خزانہ بہتر ثابت ہوسکتے ہیں تو اچھے وزیرِ اعظم بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

قمر احمد طاہر، لاہور، پاکستان: ان کے پہلے بیان کو دیکھتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک اچھے وزیرِ اعظم ثابت ہوں گے۔

عبدالقدیر انصاری، متحدہ عرب امارات: ان کا تعلق اقلیت سے ہے، وہ ایک ایماندار اور نامی گرامی شخصیت ہیں۔ بی جے پی کے کسی بھی لیڈر سے بہت بہتر رہیں گے۔

شوکت حسین، شارجہ: من موہن سنگھ ایک اچھے وزیر اعظم ثابت ہوں گے اور میں ایک پاکستانی زیرِ انتظام کشمیری کے محترمہ سونیا گاندھی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دنیا بھر کے سامنے وزارتِ عظمیٰ کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر مار کر ایک عظیم شخصیت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ہمارے ملک کو حکمرانوں کو شرم آنی چاہئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد