BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان انتخابات: آپ کیا سوچتے ہیں؟
افغان انتخابات
افغان انتخابات
نو اکتوبر کو افغانستان کی تاریخ کے پہلے انتخابات ہو رہے ہیں جس میں پچیس ہزار پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں پناہ لینے والے پندرہ لاکھ اور ایران میں مقیم آٹھ لاکھ مہاجرین کو بھی حقِ رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔

ووٹنگ کے بعد بیلٹ بکسوں کو فوجی ٹرکوں، ہیلی کاپٹروں ، جیپوں اور کرائے پر حاصل کی گئی گاڑیوں کے ذریعے انتخابی مراکز تک لایا جایا جائے گا اور ووٹوں کی گنتی کا کام ملکی اور بین الاقوامی مبصروں کی موجودگی میں کیا جائے گا۔

ان صدارتی انتخابات کو جن میں موجودہ صدر حامد کرزئی کے مد مقابل اٹھارہ امیدوار انتخابات میں اترے ہیں ملک میں سلامتی کے علاوہ بہت سے دوسرے چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے پر تشدد واقعات میں بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کا ذمہ دار طالبان کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔
دوسری طرف انسانی حقوق کے ایک بڑے ادارے نے اتوار کو جاری کردہ رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری طور پر صدر حامد کرزئی کو ہی تمام میڈیا کوریج دی جا رہی ہے۔


News image


News image



یہ انتخابات افغانستان کے مستقبل پر کس طرح اثر انداز ہوں گے؟ کیا افغان عوام کی اکثریت ان میں ووٹ ڈالنے میں کامیاب ہوگی؟ کیا انتخابات منصفانہ ہوں گے؟ ان انتخابات کو کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں؟ کیا ان انتخابات کے ذریعے افغانستان جمہوریت کی راہ پر گامزن ہوسکے گا؟

آپ کی رائے

آپ اپنی آراء اردو، انگریزئ یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔


محمد احمد مفتی، اونٹاریو، کینیڈا:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ جمہوریت کو بزورِشمشیر نافذ کرنے کا تجربہ کیا جا رہا ہے جو ناکام ہو گا۔ افغان پاکستان کی طرح ایک قوم نہیں ہیں اور دوسرے وہاں پر جمہوریت کی کوئی روایت نہیں رہی ہے۔ تیسرے یہ کہ اتنے خون خرابے کے بعد افغان معاشرہ نسلی اور قبائلی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے۔

اعجاز چودھری، لاہور، پاکستان:
امریکی ذرائع ابلاغ کے واویلا اور پراپیگنڈہ کے برعکس اگر یہ انتخابات واقعی منصفانہ بنیاد پر ہو رہے ہیں تو طالبان کو بھی ان میں شامل کیا جانا چاہیے۔ پھر پتا لگے کہ کرزئی صاحب کتنے پانی میں ہیں۔

کلیم، کینیڈا:
یاد رہے افغانستان کے اصل ہیروز ملا عمر اور طالبان ہیں نہ کہ کرزئی۔امریکہ جو چاہے کر لے ایک دن طالبان واپس ضرور آئیں گے۔

سعید انور، کراچی، پاکستان:
افغانستان میں چاہے کتنے ہی جعلی انتخابات کرا لیے جائیں، اس طرح کی مثالی حکومت نہیں قائم ہو سکتی جیسی طالبان نے قائم کی تھی۔ ملا عمر کے بغیر افغانستان میں کبھی بھی امن نہیں ہو سکتا۔

شہلا اظہر، ٹورانٹو، کینیڈا:
افغانستان کی سرزمین مظلوم لوگوں کے خون سے رنگین ہے اور وہ خون اس وقت تک چین نہیں لینے دے گا جب تک کہ وہ لوگ جنہوں نے یہ خون بہایا ہے اپنے ظلم کا اعتراف نہیں کر لیتے۔

انعام، امریکہ:
وہی سہاگن جسے پیا چاہے۔

ایمن سہیل، ٹورانٹو، کینیڈا:
لگتا ہے آج کل بُش صاحب بہت مصروف ہیں ورنہ یہ سوال آپ ہم سے نہ کر رہے ہوتے۔

امریکی پالیسی
 حامد کرزئی صاحب ہی جیتیں گے ۔امریکہ کی یہ پالیسی ہے کہ آہستہ آہستہ تمام اسلامی ملکوں میں اپنی من پسند حکومت لے آئے۔
عرفان عنایت، کوٹلی نوناں، پاکستان

لیاقت علی
اپنی ہر ناکامی امریکہ پر ڈالنا درحقیقت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک لیں۔ صرف چھ انچ نیچے دیکھنے کی تو بات ہے۔

عبدا لسلام، بنوں، پاکستان:
افغان لوئی جرگہ کا انعقاد اور اب اس کے بعد عام انتخابات اس ملک کے لیے نیک شگون ہیں۔

آسلہ بشیر، کراچی، پاکستان:
میڈیا جس طرح کرزئی کو کوریج دے رہا ہے اس کا مطلب صاف ہے کہ کرزئی امریکہ کے فرمانبردار ہیں اور رہیں گے۔

منصور، پشاور شہر، پاکستان:
افغانستان میں انتخابات سے وہاں پر امن ہوگا اور پاکستان میں موجود افغان مہاجرین واپس جا سکیں گے، اس طرح پاکستان کے حالات بھی معمول پر آجا ئیں گے۔ افغانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی دوسرا ان کے ملک کی تعمیر نو نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ان کو خود محنت اور دیانتداری سے کام کرنا پڑے گا۔

گریبان میں جھانکیں
 اپنی ہر ناکامی امریکہ پر ڈالنا درحقیقت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک لیں۔ صرف چھ انچ نیچے دیکھنے کی تو بات ہے۔
لیاقت علی

لیاقت علی، میانوالی، پاکستان:
بی بی سی والو، کبھی تو اپنی پسند سے ہٹ کر ہماری رائے کو بھی اہمیت دے دیا کرو۔

سیٹھ عبدالرحمٰن، میرپورخاص، پاکستان:
ہمیشہ جنگ کے بعد امن آتا ہے۔خدشہ ہے کہ یہ انتخابات خونی بھی ہو سکتے ہیں لیکن اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ یہ انتخابات امن کی طرف ایک قدم ثابت ہوں۔

بینش صدیقہ، کراچی، پاکستان:
میں دعویٰ سے کہہ سکتی ہوں اگلے صدر بھی حامد کرزئی ہی ہوں گے۔ جس کا امریکہ اس کی بھینس۔

علی چشتی، کراچی، پاکستان:
افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو صدیوں سے غیر یقینی حالات سے گزر رہا ہے، سکندر اعظم سے لے کر جارج بُش تک۔ مجھے انتخابات سے کوئی اچھی امید نہیں کیونکہ افغانستان میں قانون کی کوئی قدر نہیں۔

شاہ زیب، ربوہ، پاکستان:
افغانستان کوتو اب خدا ہی بچائے تو بچائے ۔

حامد مروت، اسلام آباد، پاکستان:
ان انتخابات سے افغانستان کی موجودہ صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ حامد کرزئی انتخابات جیت چکے ہیں۔

حافظ انعام اللہ،ٹانک، پاکستان:
دراصل افغانستان کا صدر وہی ہو گا جو امریکہ میں انتخابات جیتے گا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ جو بھی امریکہ کا منتخب صدر ہوگا وہ اپنے افغانی ایجنٹ کو وہاں کا صدر بنا دے گا۔

محمود خان، دیر، پاکستان:
میں ان لوگوں سے اتفاق نہیں کرتا جو کہتے ہیں کہ افغانستان میں آنے والی حکومت امریکہ کی لائی ہوئی ہوگی۔ اگر وہاں پر حامد کرزئی کے علاوہ کوئی دوسرے رہنما ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ سامنے آئیں اور انتخابات میں حصہ لیں۔

علیم، گجرات، پاکستان:
ملا عمر سب سے بہتر تھے، ان کی حکومت میں پہلی دفعہ افغانستان میں مکمل سکون تھا ورنہ یہ علاقہ ہمیشہ جنگ کا میدان رہا ہے۔ ملا عمر کو الیکشن لڑنا چاہیے۔

راحت ملک، راولپنڈی، پاکستان:
بالکل اچھے اثرات نہیں پڑنے والے اور نہ ہی انتخابات منصفانہ ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ میں آپ کی ویب سائٹ روزانہ پڑھتا ہوں مگر رائے اس وجہ سے نہیں دیتا کہ جب آپ کو حقیقت دکھائی جاتی ہے تو آپ اس سے نظریں چرالیتے ہیں۔

آصف،پاکستان:
یہ سب ڈرامہ ہے۔ امریکہ جس کو چاہے گا صدر بنائے گا اور اگر وہ پسند نہیں آیا تو اس کو دہشت گرد کہہ کر ہٹا دے گا۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو، کینیڈا:
انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے ہاں یہی تو المیہ ہے کہ انتخابات کہیں بھی ہوں، ووٹوں کی گنتی تو امریکہ میں ہی ہوگی ناں۔

سپن گل،ابراہیم حیل، پاکستان:
حامد کرزئی الیکشن جیت جائیں گے کیونکہ امریکی اور پاکستانی حکومتیں ان کی حمایت کر رہی ہیں۔ دوسرے امیدوار تو اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ کرزئی کو چاہیے کہ وہ بُش اور مشرف کے لیے دعا کریں۔

جمہوریت کہاں کی؟
 حکومت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں لوگوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔مگر اب تو دنیا میں تولنے کا رواج چلتا ہے اس لیے جمہوریت کہاں کی؟
کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا

اظہر سہیل، ٹورانٹو، کینیڈا:
جمہوریت تو آج دنیا کے کسی ملک میں بھی نہیں ہے، افغانستان میں کیسے ہو گی؟ ہاں لوگوں کومصروف رکھنے کے لیے انتخابات ایک اچھا بہانہ ہیں۔

وجیہہ قیوم، میپل، کینیڈا:
میرے خیال میں تو آج کل انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں۔ وقت اور پیسہ برباد کرنے کی بجائے صاف صاف امریکہ سے پوچھ لیں ’ کیوں جناب، آپ کی رائے کس کے حق میں ہے؟‘

علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان:
یہ کون نہیں جانتا کہ افغانستان کے بیشتر حصہ پر موجودہ حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں۔ الیکشن کے اس سارے ڈرامے کا نتیجہ کبھی بھی مثبت نہیں ہو سکتا کیونکہ افغان عوام کبھی بھی امریکہ نواز حکومت کو قبول نہیں کریں گے۔ وہ جو چاہے کر لے لیکن آخر کار امریکہ کو افغانستان سے جانا پڑے گا۔

شاہدہ اکرم، ابوظبی، متحدہ عرب امارات:
سوال یہ ہے جب میڈیا صرف حامدکرزئی کو توجہ دے رہا ہے ، وہی اول وہی آخر ہیں تو پھر صاف ظاہر ہے جیتنا بھی انہوں نے ہی ہے۔ سچ تو یہ کہ جو حکم بڑی سرکار سے آئے گا کرنا تو وہی پڑےگا۔

انتخابات میں دھاندلی تو خیر ہو گی ہی، خطرہ یہ ہے کہ اس ڈرامہ کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیےکچھ حادثے بھی کرائے جائیں گے۔

امریکہ سے پوچھ لیں
 میرے خیال میں تو آج کل انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں۔ وقت اور پیسہ برباد کرنے کی بجائے صاف صاف امریکہ سے پوچھ لیں ’ کیوں جناب، آپ کی رائے کس کے حق میں ہے؟‘
وجیحہ قیوم، میپل، کینیڈا

احد ریاض کمبوہ، دریا خان، پاکستان:
یہ انتخابات محض دکھاوہ ہیں۔ کرزئی امریکہ کے غلام ہیں اور وہی ان انتخابات میں کامیاب قرار دیے جائیں گے۔ ان کا انجام بھی نجیب اللہ جیسا ہی ہو گا۔

احمد جلال، پشاور، پاکستان:
حامد کرزئی کو امریکہ ببرک کارمل کی طرح افغانستان میں بٹھا دے گا۔ کارمل کو روس نے صدر بنایا تھا جبکہ کرزئی کو امریکہ نے۔ اسی طرح علاوی کو عراق کی بادشاہت عطا کی جائے گی اور یوں مسلمان دنیا پر وہ عمل مکمل کیا جائے گا جو لارنس آف عریبیہ نے شروع کیا تھا۔

عطاءالقدوس، ٹورانٹو، کینیڈا:
انتخابات سے اس آفت زدہ ملک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ الیکشن کی بجائے سلیکشن ثابت ہوں گے۔ معلوم نہیں افغانستان کی اس قدر تباہی کی آخر وجہ کیا ہے؟

کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا:
حکومت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں لوگوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔مگر اب تو دنیا میں تولنے کا رواج چلتا ہے اس لیے جمہوریت کہاں کی؟

محمد امین، ہیوسٹن، امریکہ:
افغانستان میں جمہوریت؟ یہ پاکستان یا سعودی عرب کے اندازِحکومت سے زیادہ مختلف نہیں ہو گی کہ جہاں پر سپر پاورز کے مفادات کے تحفظ کا نام جمہوریت ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدر آباد، پاکستان:
جب ہر کام کرائے یا ادہار پر کرنا ہے تو سارے افغانستان کو ہی کرائے یا ادہار پر دے دیں۔

بُلٹ نہیں بیلٹ
 یہ پہلا موقع ہے کہ ہم لوگ اپنا صدر بُلٹ کی بجائے بیلٹ سے چنیں گے، اس لیے ہم بہت پرجوش ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان انتخابات کے بعد ہمارے ہاں ایک جمہوری حکومت ہو گی
رحمت اللہ، ننگرہار، افغانستان

ظلِ ہما، شہدادپور، پاکستان:
یہ آپ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ پہلا صدر کون ہو گا، کمال ہے۔ یہ تو آپ کو بُش صاحب سے پوچھنا چاہیے کیونکہ وہی اس سوال کا صحیح جواب جانتے ہیں۔

ملیحہ امبر، ربوہ، پاکستان:
ہو گا تووہی جو امریکہ چاہے گا۔ باقی تو سب ڈرامہ ہے۔

عطیہ الحئی، میپل، کینیڈا:
ہمارے سوچنے یا نہ سوچنے سے کیا ہوتا ہے، ہوتا تو وہی ہے جس پر امریکہ رضامند ہوتا ہے۔

زبیر ہاشمی، العین، متحدہ عرب امارات:
میرا خیال میں افغان لوگوں کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنا اور اپنے ملک کا مستقبل بنا سکتے ہیں۔ افغانوں کو اور ہمیں بھی ان انتخابات سے اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔ مانا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا لیکن ہمیں پھر بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

تاج خان، جنگری ڈونگ، جنوبی کوریا:
یہ انتخابات افغانستان میں صحیح جمہوریت لائیں گے کیونکہ ان انتخابات کے انعقاد میں ایک کثیرالملکی طاقت اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان انتخابات کو طالبان سے کوئی خطرہ نہیں البتہ ملک میں پائے جانے والی دوسری جنگجو تنظیموں سے ہے۔

سمیع اللہ خان، کرائیسٹ چرچ، برطانیہ:
یہ افغانستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، افغانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان انتخابات سے وہ اپنی تعمیرِنو کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں کرزئی سب سے اچھے امیدوار ہیں کیونکہ وہ ایک ذہین شخص ہیں اور ان کا ماضی بےداغ ہے۔

کہاں کی حکومت؟
 میرا خیال ہے انتخابات یا حکومت سے آپ کی مراد صرف کابل شہر کی حکمرانی ہے کیونکہ کابل شہر سے باہر تو حکومت نام کی کسی چیز کا نام ونشان تک نہیں ہے۔
پٹھان خان، کابل، افغانستان

عبداللہ جان، پشاور، پاکستان:
یہ بھی بھلا کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ افغانستان میں حامد کرزئی، عراق میں علاوی، سعودی عرب میں شاہ فہد، پاکستان میں جنرل مشرف اور اسرائیل میں شیرون۔ تمام غلام۔

علینا طاہر، ٹورانٹو، کینیڈا:
میں نے جب بھی افغانستان کی کوئی خبر پڑھی ہے تو بم دھماکے یا فسادات کی خبریں ہی پڑہی ہیں۔ شاید یہ انتخابات اس ملک کو کوئی قابل قیادت فراہم کر دیں۔

عامر نذیر، گجرات، پاکستان:
میرے خیال میں یہ انتخابات بھی پاکستان میں ہونے والے انتخابات سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے اور امریکہ کی خوشامد کرنے والے لوگ ہی سامنے آئیں گے۔ غریب لوگوں کی قسمت نہیں بدلنے والی ان انتخابات سے۔

فسادات اور انتخابات
 میں نے جب بھی افغانستان کی کوئی خبر پڑھی ہے تو بم دھماکے یا فسادات کی خبریں ہی پڑہی ہیں۔ شاید یہ انتخابات اس ملک کو کوئی قابل قیادت فراہم کر دیں۔
علینا طاہر، ٹورانٹو، کینیڈا

رحمت اللہ، ننگرہار، افغانستان:
یہ پہلا موقع ہے کہ ہم لوگ اپنا صدر بُلٹ کی بجائے بیلٹ سے چنیں گے، اس لیے ہم بہت پرجوش ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان انتخابات کے بعد ہمارے ہاں ایک جمہوری حکومت ہو گی جو کہ ہمیں جنگجو لیڈروں سے نجات دلائے گی، بدعنوانی ختم کرے گی اور ملک کی ترقی کے لیے کام کرے گی۔

محمد فدا، کینیڈا:
ان انتخابات سےکچھ نہیں ہوگا سوائے اس سےکہ مغربی لوگوں کا مشکل سے کمایا ہوا پیسہ اڑا دیا جائےگا۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
یہ انتخابات کسی بھی طرح منصفانہ نہیں ہو سکتے کیونکہ امریکہ اور ذرائع ابلاغ ہرطرح سے کرزئی کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ کرزئی حکومت کا کنٹرول ملک کےصرف پانچ فیصد حصے ہے جبکہ پچانوے فیصد پر طالبان اور ان کے حا میوں کا۔ اگر طالبان ان انتخابات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں تو پھر یہ انتخابات نمائندہ کیسے ہو سکتے ہیں۔

خانم سومرو، کراچی،پاکستان:
افغان الیکشن ایک دھوکہ ہیں، ایک ڈھونگ ہیں۔ ان سے صرف حامد کرزئی کی ذات کو ہی فائدہ پہنچےگا۔ پتا نہیں افغان عوام کی قسمت کب بدلے گی؟

آصف ججہ، ٹورانٹو، کینیڈا:
یہ صرف ’نورا کشتی‘ ہے اور ویسے بھی امریکہ کسی بھی ملک میں صحیح جمہوریت نہیں چاہتا کیونکہ اس سے اس کے مفادات پورے نہیں ہوتے۔

سنہری موقع
بین الاقوامی اداروں نے انتخابات کے لیے خاطر خواہ انتظامات کیے ہیں۔ میرے خیال میں افغان لوگوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے۔
سیرس بدخشانی، کابل، افغانستان

پٹھان خان،کابل، افغانستان:
میرا خیال ہے انتخابات یا حکومت سے آپ کی مراد صرف کابل شہر کی حکمرانی ہے کیونکہ کابل شہر سے باہر تو حکومت نام کی کسی چیز کا نام ونشان تک نہیں ہے۔ الیکشن کے بارے میں یہ نام نہاد جوش و خروش صرف ذرائع ابلاغ کا پیدا کیا ہوا ہے۔ خدا ہی بچائے ہمیں ان ہتھکنڈوں سے۔

محمد ثاقب احمد، بہار،انڈیا:
یہ انتخابات افغانستان کو مستقبل میں مکمل طور پر امریکہ کا غلام بنا دیں گے۔ جی ہاں ،اگر چاہے تو افغانوں کی اکثریت ووٹ دے سکے گی، امریکہ اور حکومت کے دباؤ میں۔ انتخابات کو کوئی خطرہ نہیں لاحق، یہ صرف مغربی ذرائع ابلاغ کا پراپیگنڈہ ہے۔

خان، ریاض، سعودی عرب:
وہی صدر بنےگا جو امریکہ کا منظورِنظر ہوگا اور ہم جانتے ہیں کہ حامد کرزئی سے زیادہ امریکہ کامنظورِنظر کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

بی بی سی عربی سروس سے چند منتخب آراء:

فادی عراوی، مصر:
مشکلات کے باوجو انتخابات ہوں گے۔ افغانستان کے لوگوں کو اس پر مبارکباد۔ میں عراق کے عوام کے لیے بھی ایسی خواہشات رکھتا ہوں۔ جہاں تک مختلف افغانی قبیلوں کا تعلق ہے، ہمیں امید ہے کہ وہ انتخابات میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے تاہم طالبان ضرور کوشش کریں گے کہ انتخابات کے انعقاد میں گڑ بڑ پیدا کریں اور ان کے نتائج کے بارے میں لوگوں کو شک میں ڈالیں۔

جہاں تک امریکہ، پاکستان اور روس کا تعلق ہے، ان سب کی یہی کوشش ہے افغانستان میں موجود انتہا پسند عناصر کو ان انتخابات کو خراب کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

تاریخ کا پہیہ
 وہ عناصر جنہوں نے ماضی میں افغان معاشرے کی بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہے ابھی تک اسلام کے نام پر تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمانے پر مصر ہیں۔ اسلام کو اس قسم کے عناصر سے کچھ لینا دینا نہیں۔
طاہران احمد محمد، ترکی

ثامر، مدینہ، سعودی عرب:
امریکہ نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا ہے کہ اسے افغانستان میں کس کو حکومت دینی ہے۔

طاہران احمد محمد، ترکی:
وہ عناصر جنہوں نے ماضی میں افغان معاشرے کی بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہے ابھی تک اسلام کے نام پر تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمانے پر مصر ہیں۔ اسلام کو اس قسم کے عناصر سے کچھ لینا دینا نہیں۔ افغانستان کے لوگوں نے بمشکل سکون کا سانس لیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ افغانستان اپنے دانشمند طبقے اور بین الاقوامی مدد سے ایک شاندار مستقبل تعمیر کرے گا۔

بی بی سی فارسی سروس سے چند منتخب آراء:

سیرس بدخشانی، کابل، افغانستان:
اگرچہ انتخابات میں بہت سی رکاوٹیں ہیں لیکن اب تیاری مکمل لگتی ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جنگجو سرداروں نے ملک کے چند علاقوں میں لوگوں کے اعتماد کو خراب کر دیا ہے، لیکن بین الاقوامی اداروں نے انتخابات کے لیے خاطر خواہ انتظامات کیے ہیں۔ میرے خیال میں افغان لوگوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے۔

ڈاکٹر محمد شفیق، کابل، افغانستان:
آپ اس بات کا اندازہ نہیں کر سکتے کہ افغانستان کے کچھ علاقوں میں جنگجو سرداروں نے کس حد تک لوگوں کو ہراساں کیا ہوا ہے۔ انتخابات میں ووٹ ڈالنا تو دور کی بات ہے سرداروں کی اجازت کے بغیر لوگ عام بات چیت میں بھی اپنی پسند ناپسند کا اظہار نہیں کر سکتے۔ دوسرے، اگر انتخابات کے دوران کہیں کوئی بم دھماکہ ہو گیا تو لوگ ووٹ ڈالنے بالکل نہیں آئیں گے۔

تیموچن، بلخ، افغانستان:
یہ بات سچ ہے کہ امن عامہ کے لحاظ سے افغانستان ابھی تک انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے تاہم افغان لوگ سالہا سال اس سے زیادہ برے حالات میں گزار چکے ہیں۔یہاں تک کہ کئی صدارتی امیدوار خود ذاتی طور پر جنگوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ یہ بات بھی صاف ظاہر ہے کہ جنگجو سردار انتخابات کی نتائج پر اثر انداذ ہونے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

کاظم ہوشمند، یکاولنگ، افغانستان:
میرا خیال ہے امن عامہ کی صوت حال کے لحاظ سے ملک انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے لیکن پھر بھی انتخابات کرانا بہت ضروری ہیں۔ یہ مسئلہ کہ عام لوگ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے عمل کی سمجھ رکھتے ہیں یا نہیں، بہت اہم ہے۔

حسین اکبری، غزنی، افغانستان:
میرا خیال ہے کہ بے یقینی کے حالات کے باوجود انتخابات کا انعقاد ضروری ہے کیونکہ امداد دینے والے بین الاقوامی ادارے ایک جمہوری حکومت کو ہی امداد دینا پسند کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد