افغان انتخابات، میڈیا جانبدار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں صدارتی انتخابات کے انعقاد سے پانچ روز قبل صدر حامد کرزئی کے سلسلے میں میڈیا کی جانبداری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس امر کا اظہار اقوام متحدہ اور افغانستان میں انسانی حقوق کے ایک بڑے ادارے نے اتوار کو جاری کردہ رپورٹ میں کیا ہے۔ بی بی سی کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے اوائل میں انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد سے ملکی ٹی وی اور ریڈیو پر پچھہتر فیصد سے زائد کوریج صدر حامد کرزئی کو دی جا رہی ہے۔ افغانستان میں نو اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر حامد کرزئی کے علاوہ سترہ دیگر امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ بعض صدارتی امیدوار پہلے ہی شکایت کر چکے ہیں کہ سرکاری میڈیا انہیں خاص طور پر نظر انداز کر رہا ہے۔ بحیثیت صدرِ افغانستان حامد کرزئی کو خصوصی کوریج ملنی ہی تھی لیکن بی بی سی کو پیش کردہ اعداد و شمار سے ان دعووں کی تصدیق ہوتی نظر آتی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ صدر حامد کرزئی کو انصاف کی حدود سے تجاوز کر کے میڈیا کے ذریعے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ انتخابات پر نظر رکھنے والے ایک بین الاقوامی ادارے نے اس کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر افغانستان میں الیکشن کے بارے میں حالیہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ افغانستان کا الیکشن کمیشن غیر منصفانہ کوریج کے معاملے پر ذرائع ابلاغ کے پانچ اداروں کی پہلے ہی سرزنش کر چکا ہے لیکن اس سے بظاہر کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||