BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 October, 2004, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان میں انتخابات، سوال اور جواب
افغان خواتین
خواتین ووٹ تو ڈال سکتی ہیں لیکن انہیں مخالفت کا سامنا ہے
سن 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان میں جمہوریت کی راہ ہموار تصور کی جانے لگی۔ مغربی ممالک نے نئے رہنما صدر حامد کرزئی کی حمایت کی اور وعدہ کیا کہ ملک کی تعمیر نو کے لیے انتخابات کروائے جائیں گے۔

دو مرتبہ تاخیر کے بعد اب ملک میں صدارتی انتخابات کے لیے نو اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے جبکہ پارلیمانی انتخابات اگلے سال کے لیے طے پائے ہیں۔

اس سلسلے میں بی بی کی نظر میں کچھ اہم سوالات اور ان کے جواب یہ ہیں:

انتخابات اسی سال منعقد کرنا کیوں ضروری ہیں؟

حامد کرزئی کی قیادت میں عبوری حکومت 2004 تک قائم رہے گی۔

اقوام متحدہ کے منصوبے کے مطابق، جس کے تحت کرزئی نے بھی اقتدار سنبھالا تھا، افغانستان کے اگلے صدر کا انتخاب الیکشن کے ذریعے ہوگا۔ صدر کرزئی کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ انتخابات متعین کردہ وقت پر ہی ہوں گے اور یہ آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔

انتخابات کے لیے کیا انتظامات ہیں؟

ساڑھے دس ملین افغان افراد نے ووٹنگ کے لیے اندراج کروایا ہے جن میں سے 41 فیصد خواتین ہیں۔ ایران میں مقیم چار سے چھ لاکھ افغان پناہ گزینوں نے بھی ووٹ کے لیے اپنا اندراج کرایا ہے۔ وہ ایک ہزار پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈال سکیں گے۔ پاکستان میں رہنے والے چھ سے آٹھ لاکھ مہاجرین کا اندراج بھی ہوچکا ہے۔

ملک میں 25 ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے اور صدر کے عہدے کے لیے 18 امیدوار ہوں گے۔

ان افغان عوام کے لیے انتخابات کو کس طرح قابل قبول بنایا گیا ہے جنہوں نے ماضی میں کبھی ووٹ نہیں ڈالا؟

افغانستان کی بیشتر غیر تعلیم یافتہ آبادی کے لیے کارٹون اور تصاویری پوسٹرز بنائے گئے ہیں جن سے انہیں تمام عمل سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

ووٹرز پین کا استعمال کرتے ہوئے اپنے انتخاب کا اظہار کریں گے جبکہ ووٹ ڈالنے کے بعد ان کے انگوٹھے پر ایک نشان لگایا جائے گا تاکہ ایک شخص دو مرتبہ ووٹ نہ ڈال سکے۔

ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان میں کتنا وقت لگے گا؟

حکام کا کہنا ہے نتائج کے اعلان میں دو سے تین ہفتے درکار ہیں جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ دور دراز پہاڑی علاقوں سے بیلٹ باکس واپس لانے میں ایک ہفتہ لگے گا۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتخابات قابل بھروسہ ہوں گے؟

کئی حلقے بشمول اقوام متحدہ اس بارے میں اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں۔ انتخابات کے دوران ملک میں بین الاقوامی فوجیوں کی تعیناتی کی بات بھی ہورہی ہے۔

انتخابات دو مرتبہ مؤخر ہوچکے ہیں جس کی وجہ حکام ملک میں امریکہ مخالف شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بتاتے ہیں۔ ان حالات کے باعث ملک میں امدادی اور تعمیر نو کی کارروائیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔

کیا صرف پر تشدد کارروائیاں ہی اس سلسلے میں رکاوٹ ثابت ہورہی ہیں؟

خدشہ ہے کہ ملک میں مقامی جنگجو ووٹنگ کے دن ووٹرز کو دھمکیاں دیں گے اور انہیں روکنے کی کوشش کریں گے۔ افغانستان یوں بھی وہ ملک ہے جہاں مذہبی اور روایتی قدریں بہت مضبوط ہیں۔ کئی حلقے خواتین کے ووٹ ڈالنے کے خلاف ہیں۔

ملک کا آئین کیسےعمل میں آیا؟

پینتیس افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے ایک سال کے غورو خوض کے بعد ملک کے آئین کا مسودہ تیار کیا جس پر افغان افراد سے رائے بھی مانگی گئی۔ گاؤوں اور قصبوں میں اجلاس کیے گئے۔ کئی افراد جو لکھ کر اپنی رائے نہیں دے سکتے تھے، ان کی آراء آواز میں ریکارڈ کی گئی۔

یہ آئین ملک میں صدارتی طرز حکومت کے حق میں ہے اور صدر کے پاس بہت اختیارات ہیں۔ وزیر اعظم مقرر کرنے کی تجویز پہلے ہی رد کردی گئی تھی تاکہ اقتدار دو عہدوں کے درمیان تقسیم نہ ہوسکے۔

آئین میں افغانستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا ہے جہاں مردوں اور خواتین کے مساوی حقوق ہیں۔ پشتو اور داری ملک کی سرکاری زبانیں ہیں۔

یہ آئین کس طرح منظور کیا گیا؟

مقامی افغان رہنماؤں یا سرداروں پر مشتمل ایک لویہ جرگہ نے جنوری 2004 میں تین ہفتے پر مشتمل ایک طویل اجلاس کے بعد یہ آئین منظور کیا۔ اس پر کئی تنازعات بھی سامنے آئے۔ 502 وفود نے اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد