پہلے انتخابات: مشکلات اورچیلنجز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ کئی دہائیوں کی مسلسل جنگ سے تباہ شدہ افغانستان میں نو اکتوبر کو ملک کی تاریخ کے پہلے انتخابات ہو رہے ہیں جس میں ملک کے طول و عرض میں قائم کردہ پچیس ہزار پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہمسایہ ملک پاکستان میں پناہ لینے والے پندرہ لاکھ اور ایران میں مقیم آٹھ لاکھ مہاجرین کو بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنےکا موقع دینے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان صدارتی انتخابات کو جن میں موجودہ صدر حامد کرزئی کے مد مقابل اٹھارہ امیدوار انتخابات میں اترے ہیں ملک میں سلامتی کے علاوہ بہت سے دوسرے چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ انتخابی عملہ ناخواندہ اور انتخابی
ووٹروں کی تربیت کے لیے خصوصی پوسٹر اور کارٹون بنائے گئے ہیں۔ ایک انتخابی پوسٹر پر تحریر ہے ’معزز خواتین، اپنا ووٹ ڈالیے کیونکہ یہ قیمتی ہے۔‘ انتخابات میں استعمال ہونے والے بیلٹ پیپروں یا ووٹوں کی پرچیوں پر جن کی چھپائی کینیڈا میں ہوئی ہے اٹھارہ امیدواروں کے ناموں اور ان کے انتخابی نشانوں کے ساتھ ان کی تصاویر بھی چھاپی گئی ہیں۔ ان پرچیوں پر ووٹر خصوصی قلم کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدوار کے سامنے نشان لگا کر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ انتخابی حکام پہلے ہیں لاکھوں قلم خریدنے کا آڈر کر چکے ہیں۔ خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ علیحدہ پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں تاہم ان اسٹیشوں پر تعینات کرنے کے لیے انتخابی عملہ دستیاب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ووٹروں کے انگوٹھوں پر نہ مٹنے
سرکاری ریڈیو کے علاوہ بارہ ہزار لوگ بھی ملک کے کونے کونے میں انتخابات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں۔ ملک میں سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے بھی انتخابی عملے اور سامان کی ترسیل میں مشکلات درپیش ہیں۔ پک اپ گاڑیوں، جیپوں، جہازوں، ہیلی کاپٹروں، گھوڑا گاڑیوں، خچروں اور گدھوں کے ذریعے بھی انتخابی ساز و سامان اور بیلٹ پیپروں کی ترسیل کا کام کیا جا رہا ہے۔ ووٹنگ کے بعد تیس ہزار بیلٹ بکسوں کو گنتی کے لیے اکھٹا کرنا بھی ایک کافی مشکل مرحلہ ہو گا۔ یہ بیلٹ بکس ڈنمارک میں تیار کیے گئے ہیں۔ جوائنٹ الیکٹرویٹ مینجمنٹ باڈی کی
کچھ جگہوں پر بیلٹ بکسوں کو انتخابی مراکز تک لانے میں ہفتہ بھی لگا جائے گا۔ ووٹوں کی گنتی کا کام ملکی اور بین الاقوامی مبصروں کی موجودگی میں کیا جائے گا۔ گنتی کا یہ کام صوبوں میں کیا جائے گا۔ تاہم اس سارے عمل کی انجام دہی میں طالبان کی طرف سے رخنہ اندازی کا شدید خطرہ ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے پر تشدد واقعات میں پیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان پر تشدد واقعات کا ذمہ دار طالبان کو ٹھہرایا جا رہا ہے جنہوں نے انتخابی عمل کو درم برہم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں انتخابات کرانا کمبوڈیا اور مشرقی تیمور سے زیادہ مشکل ہے۔ افغانستان میں چھبیس ہزار امریکی اور نیٹو کے فوجی موجود ہیں۔ کچھ دن قبل ایک غیر ملکی فوجی اہلکار نے کہا تھا کہ سو فیصد سکیورٹی فراہم کرنا کسی بھی ملک میں مشکل کام ہے۔ انگوٹھوں پر سیاحی کا نشان لگانے کے بارے میں لوگ ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں طالبان کے لیے ووٹ ڈالنے والوں کو نشانہ بنانا آسان ہو جائے گا۔ اس سیاحی کا نشان پانچ دن تک رہے گا اور اس کے بعد ووٹ ڈالنے والوں کی نشاندھی کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ ان انتخابات کے نتائج کے اعلان میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||