| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حصہ سوم: آپ کے سوالات، کرزئی کے جوابات
شفیع نقی جامعی: حامد کرزئی صاحب، لوگ آپ سے یہ جاننا چاہیں گے کہ آپ کی مادری زبان کیا ہے، اردو زبان آپ نے کہاں سے سیکھی اور اس کے علاوہ آپ کتنی زبانیں بولتے ہیں؟ حامد کرزئی: پشتو اور فارسی میری مادری زبانیں ہیں۔ اس کے علاوہ میں انگریزی جانتا ہوں اور اس میں بات چیت کرسکتا ہوں۔ تھوڑی بہت فرانسیسی بھی بولتا ہوں لیکن مجھے اردو سے بہت پیار ہے۔ آفتاب احمد، برطانیہ اور عبدالرحیم، کراچی: افغانستان میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال کب بہتر ہوگی اور اس ضمن میں آپ کیا کررہے ہیں؟ بہت سے لوگ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ آپ کی حکمرانی صرف کابل تک ہی کیوں محدود ہے؟
حامد کرزئی: افغانستان میں انتظامیہ کی تشکیل اور فوج کے وجود میں آنے کے بعد امن و امان بحال ہوجائے گا کیونکہ یہ ایک بتدریج عمل ہے۔ افغانستان میں سیاسی عمل استوار ہونے اور پولیس کے وجود میں آنے کے بعد صورتحال مزید بہتر ہوجائے گی۔ ملک میں قومی اداروں کی تشکیل اور تشکیلِ نو کے عمل کے باعث ملک کی اقتصادیات پر اچھا اثر پڑا ہے اور افغانستان میں جو مہنگائی کی شرح ہے وہ صفر کے قریب ہے۔ لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر ہوتا جارہا ہے، معاشرتی حالت بہتر ہورہی ہے، صحت عامہ کے امور میں بہتری آرہی ہے۔ اس برس افغانستان میں ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں کو خسرے سے اور ساٹھ لاکھ بچوں کو چیچک سے نجات کے ٹیکے لگوائے گئے ہیں۔ سات لاکھ بہنوں کو ٹیٹنس کے ٹیکے لگوائے گئے ہیں۔ رہی بات ہماری حکومت کی اتھارٹھی کابل تک محدود رہنے کی تو یہ محض ایک واہمہ ہے۔ ہماری حکومت کی اتھارٹی تمام ملک میں یکساں طور پر مؤثر ہے۔ لیکن ہماری حکومت کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ ہمارے پاس انتظامی صلاحیت کا موجود نہ ہونا ہے۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران افغانستان کی انتظامی صلاحیت بیس فیصد بڑھ گئی ہے لیکن ملک میں مضبوط انتظامیہ قائم کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ ایم ابراہیم وزیری، جنوبی وزیرستان: آپ کی حکومت نے افغانستان میں اسلام کے فروغ کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں؟
حامد کرزئی: افغانستان ایک مضبوط اسلامی ملک ہے اور افغان عوام اسلامی امہ کا بہترین جز ہیں۔ افغانستان نے اسلام کے لئے کیا کیا نہیں کیا۔ لاکھوں افغان اسلام کا نام بلند کرنے کے لئے شہید ہوگئے اور ہمیں اس بات پر فخر ہے۔ ہم نے جو ملک کا نیا آئین تشکیل دیا ہے اس میں لکھا ہے کہ افغانستان کا دین اسلام ہے اور کوئی بھی قانون اسلامی احکام کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ ذوالفقار حیدر راجہ، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر: آپ کی حکومت اور مغربی ذرائع ابلاغ الزام لگاتے رہے ہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں موجود ہیں۔ لیکن مجھے یہ خدشہ ہے کہ اسامہ بن لادن نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ امریکی صدر جارج بش اور آپ کی تائید سے آپ ہی کی پناہ میں ہیں۔ امریکہ میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے وقت اسامہ کی گرفتاری کا ڈرامہ رچاکر رائے عامہ ہموار کرکے صدر بش کی جیت یقینی بنائے جائے گی۔ افغانستان میں برسوں جاری رہنے والی جنگ میں امریکہ، روس، ایران اور پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کی قیادت زیادہ ذمہ دار ہے۔
حامد کرزئی: ہم نے یہ کبھی بھی نہیں کہا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں۔ ہم نے ہمیشہ یہی کہا کہ اسامہ غالباً افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں میں ہیں۔ شاید وہ کہیں اور ہی ہوں، یہ ہم تو جانتے نہیں۔ ہمارے لئے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ اسامہ بن لادن ہمارے اور امریکہ کے پاس مشترکہ طور ہیں! میں امریکی حکام سے بھی پوچھوں گا کہ یہ بات سچ ہے کہ نہیں، اور اگر یہ بات سچ نکلی تو ہم یہ ضرور بتائیں گے کہ آپ کی بات سچ نکلی۔ لیکن بھئی جہاں تک ہمیں معلومات حاصل ہیں ہم نہیں جانتے کہ اسامہ کہاں ہیں۔ شفیع نقی جامعی: صدر صاحب، کیا یہ بھی نہیں پتہ کہ اسامہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟ حامد کرزئی: آج کل ملنے والی وڈیو فلموں سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ شاید وہ زندہ ہیں مگر ہمیں یہ نہیں پتہ کہ وہ کہاں پر ہیں۔ انجینیئر طاہر بلال، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر: سوال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں آپ کی حکومت کا موقف کیا ہے؟ کیا آپ کشمیر کو متنازعہ خطہ تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ حامد کرزئی: افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو جنگ سے چھٹکارا پاکر خود کو بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ کشمیر کا معاملہ، کشمیر کے عوام کا مسئلہ ہے۔ ہم کشمیریوں کی بھلائی چاہتے ہیں، ان کے لئے امن چاہتے ہیں۔ اور کشمیر کے تنازعے کا پرامن حل چاہتے ہیں تاکہ پاکستان، کشمیر کے عوام اور بھارت اس تنازعے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالیں۔ مہوِش علی، اسلام آباد: پاکستان کے خلاف آپ کے الزامات کے کیا شواہد ہیں؟ حامد کرزئی: بہن جی، ہم تو پاکستان پر کوئی الزام تراشی نہیں کررہے ہیں۔ پاکستان کے لوگ افغان عوام کے بھائی بہن ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے دوستی ہے۔ عثمان خان، لندن: کیا آپ افغانستان میں دہشت گردی مخالف جنگ کے سلسلے میں پاکستانی صدر جنرل مشرف کی کوششوں سے مطمئن ہیں؟ بھارت، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے بارے میں پاکستانی حکومت کی جو تشویش ہے اسے دور کرنے کے لئے آپ کیا اقدامات کررہے ہیں؟ حامد کرزئی: صدر مشرف کے ساتھ میرے بڑے اچھے تعلقات ہیں۔ ہمارا ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ رہتا ہے، پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کی جانیوالی کوششوں کو ہم سراہتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ کوششیں زیادہ کردے تاکہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر امن ہوجائے تو یہ صحیح معنوں میں قابلِ تعریف ہوگا۔ ہمیں خوشی ہے کہ آج کل بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کررہے ہیں کیونکہ یہ ہمارے بھی مفاد میں ہے۔ جاوید سومرو: کرزئی صاحب، ایسے کون سے اقدامات ہیں جو پاکستان ابھی نہیں کررہا ہے اور اسے کرنا چاہئے؟ حامد کرزئی: میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان اقدامات نہیں کررہا ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ پاکستان اپنے اقدامات میں مزید اضافہ کرے۔ عتیق احمد چودھری، ٹیکسلا: آپ پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستقبل میں کیسے آگے بڑھائیں گے؟ پاکستان کے قبائلی علاقے میں جو اسلحہ بنتا ہے اس کا خام مال افغانستان سے آتا رہا ہے۔ لیکن اب چونکہ آپ نے سرحد بند کردی ہے، تو یہ لوگ روزگار کیسے کریں گے؟
حامد کرزئی: گذشتہ دو برس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے معاملے میں بہت بہتری آئی ہے۔ گذشتہ سال پاکستان نے افغانستان کو پینتالیس کروڑ ڈالر کی برآمدات کی ہیں۔ اور افغانستان کی جانب سے پاکستان اس سے کچھ کم برآمدات کی گئی ہیں۔ دونوں ملکوں کی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افغانستان کو غیرسرکاری برآمدات اسیٰ کروڑ ڈالر ہیں۔ دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات بہتر کرنے کے بہت مواقع ہیں۔ افغانستان پاکستان کے لئے ایک تجارتی راستے کے لئے کام کرسکتا ہے۔ محمد فہیم، راولپنڈی: افغانستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آئندہ برس ہونے والے انتخابات کا صاف و شفاف انعقاد ممکن ہے؟ حامد کرزئی: کچھ عرصہ پہلے لویا جرگہ کے لئے بڑی اچھی طرح انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں اٹھارہ سے بیس ہزار افراد نے حصہ لیا۔ ملک میں عام انتخابات کے لئے ووٹروں کی رجسٹریشن کا کام بعض صوبوں میں شروع ہوگیا ہے۔ علی قندھاری، قندھار: افغانستان کی کچھ زمین، کیا آپ کے خیال میں پاکستان کے کنٹرول میں ہے، جسے پشتون افراد پشتونستان کے نام سے پکارتے ہیں۔ اور اگر ایسا ہے تو کیا آپ پاکستانی حکومت سے بات چیت کریں گے؟ حامد کرزئی: پاکستان افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ اور افغانستان پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید اچھے بنانا چاہتا ہے۔ لیکن ابھی ہم صرف اتنا ہی کہیں گے۔ صابر مائیکل، کراچی: افغانستان میں گذشتہ جنگ کے باعث لگ بھگ پانچ لاکھ افراد معذور ہوگئے۔ کیا آپ نے امریکہ سمیت امدادی ممالک کے ساتھ ملکر اس محروم طبقے کے لئے کچھ کرنے کی کوشش کی؟ افغانستان میں اقلیتوں کا مسئلہ ملک میں پشتون، تاجک اور ازبک مسئلے کی بنیاد دکھائی دیتا ہے۔ کیا آپ اقلیتی کمیشن کے قیام کے بارے میں ارادہ رکھتے ہیں؟ حامد کرزئی: افغانستان میں معذوروں کے لئے ایک وزارت موجود ہے۔ اور افغانستان کے نئے آئین میں بھی معذوروں کے لئے ایک جگہ مخصوص ہے کیونکہ انہی لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے آج افغانستان آزاد ہے۔ افغانستان میں بہت سی قومیں آزاد ہیں اور سب کو برابر کے حقوق دستیاب ہیں۔ ہم اقلیتوں یا اکثریتوں کی بات نہیں کرتے، بلکہ ہم سب کے لئے برابر حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ہم کسی کو بڑا یا چھوٹا نہیں مانتے۔ خلیل اخون، بہاول نگر: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ طالبان حکومت کے مقابلے میں اب افغانستان میں زیادہ خوشحالی ہے؟ حامد کرزئی: جی ہاں۔ افغانستان میں جنگ نہیں ہے۔ لوگ امن سے ہیں۔ بیالیس لاکھ بچے اسکول جارہے ہیں۔ افغانستان کو دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ ختم شد |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||