| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حصہ دوم: آپ کے سوالات، کرزئی کے جوابات
فیصل سلطان، لاہور: حامد کرزئی صاحب، طالبان پر ہمیشہ دہشت گردی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے اور کوئی بھی دہشت گرد دنیا کا بھلا نہیں چاہتا۔ لیکن طالبان نے افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی لگائی جبکہ وہ پوست کی فروخت سے ملک کی اقتصادی حالت بہتر کرکے افغانستان کی قسمت بدل سکتے تھے۔ اس حوالے طالبان دہشت گرد ثابت نہیں ہوتے کیونکہ جب آپ کی حکومت آئی تو اتحادی فورسز کے ساتھ ملکر بھی پوست کی کاشت پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ نہ صرف یہ بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق افغانستان میں پوست کی پیداوار پہلے سے زیادہ ہورہی ہے۔ اس ضمن میں آپ کیا کہیں گے؟
حامد کرزئی: طالبان کی جانب سے جس برس پوست کی کاشت پر پابندی لگائی گئی اس سال پوست کی قیمت میں بہت زیادہ کمی واقع ہوئی کیونکہ اس سے پہلے پوست بہت بڑی مقدار میں کاشت کی جاچکی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ طالبان کے بہت سے رہنما پوست کی تجارت میں ملوث تھے۔ طالبان نے یہ پابندی دراصل پوست کی قیمتوں میں اضافے کی غرض سے لگائی تھی اور اس معاملے میں انہوں نے بہت سختی برتی یہاں تک کہ خلاف ورزی کرنیوالے بہت سے لوگوں کو ہلاک بھی کیا گیا۔ طالبان نے یہ کام اسلام کے نام پر نہیں کیا تھا۔ تاہم اس سال افغانستان میں پوست کی کاشت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثال کے طور پر، افغانستان کی ازسرنو تعمیر کی جارہی تھی، ہمارے پاس نہ تو کوئی سیکیورٹی فورس تھی، نہ ہی کوئی پولیس۔ اس لئے پوست کی کاشت پر پابندی پر عمل درآمد کرنا ناممکن ہوگیا۔ افغانستان میں چار پانچ برس کے قحط کے باعث اقتصادی صورتحال بہت ابتر ہوگئی ہے اور لوگ غریب ہوگئے ہیں۔ پوست کی کاشت پر قابو پانے کے لئے اس برس ہم نے بہت اقدامات کیے ہیں اور مزید کریں گے۔ کیونکہ یہ اقدام افغانستان، پاکستان اور پورے خطے کے لئے بہت ضروری ہے۔ لیکن یہ سب ایک ہی دن میں کرنا بہت مشکل ہے، اس کے لئے خاصا وقت درکار ہوگا۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ تھائی لینڈ میں پوست کی کاشت بند کرنے کے لئے پندرہ سے بیس سال لگے تھے۔ بی بی سی اردو سروِس کے صحافی شفیع نقی جامعی: اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پوست کی کاشت میں چھتیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پوست کی پیداوار میں بہت سے جنگجو سردار ملوث ہیں جن پر قابو پانے میں مبینہ طور پر آپ اور امریکہ ناکام رہے ہیں۔ حامد کرزئی: اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثال کے طور پر پوست کی کاشت میں بہت سے ایسے لوگ اور گروہ ملوث ہیں جو ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ اس میں بین الاقوامی اور مقامی مافیا کا بھی ہاتھ ہے۔ مقامی دہشت گردی کا بھی اس سے تعلق ہے۔ جرائم پیشہ گروہوں کا بھی پوست کی کاشت میں ہاتھ ہے۔ ملکی استحکام اور لوگوں کی بہبود کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم پوست کی پیداوار پر قابو پائیں۔ زاہدہ کلثوم، پشاور: صدر صاحب، آپ نے افغانستان میں تعمیرِنو کا ذکر کیا۔ گذشتہ پچیس برسوں کے دوران افغانستان کی ایک پوری نسل جنگ کے ماحول میں پروان چڑھی ہے۔ ان کے پاس نہ تو تعلیم ہے نہ ہنر، انہوں نے صرف ہتھیار دیکھے ہیں اور ان کا استعمال سیکھا ہے۔ آپ اس نوجوان نسل اور ملک کی آئندہ نسل کو ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لئے کیا اقدامات کررہے ہیں؟
حامد کرزئی: بہن جی، آپ نے بہت اچھا سوال کیا۔ جب میں کالج کے پہلے سال میں تھا، اس وقت میری عمر بیس یا اکیس برس تھی۔ اس وقت سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی جس کے بعد میری عمر کے بہت سے لڑکے افغانستان سے فرار ہوگئے۔ میرے بعد آنیوالے نوجوانوں کو علم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ گذشتہ تیس برس سے ملک میں انسانی وسائل کا جو خلاء ہے وہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جسے دور کرنا بہت اہم کام ہے۔ فی الحال ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ پچاس سے ساٹھ برس کے ایسے افراد جو کسی خاص شعبے میں مہارت بھی رکھتے ہیں، ملک کی انتظامیہ کے لئے ان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ان افراد میں بہت سے غیرملکی ماہرین بھی شامل میں جن میں پاکستان میں رہنے والے لوگ بھی شامل ہیں جو انجینئرنگ، تعمیرات، طبی سائنس اور دیگر اہم شعبوں میں سرگرم ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کابل میں تیس ہزار سے زیاد پاکستانی، اور قندھار میں بارہ ہزار سے زیادہ پاکستانی کام کررہے ہیں۔ ہم مقامی ماہرین کے علاوہ پاکستانی اور دیگر غیرملکی ماہرین کی مدد سے افغانستان کی بہبود کے لئے کام کررہے ہیں۔ جاوید سومرو: آپ کی حکومت میں شامل بعض کمانڈر اپنے ہتھیار حکومت کو جمع کرانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں ملک میں باقی لوگوں سے ہتھیار کس طرح واپس لئے جاسکتے ہیں؟
حامد کرزئی: افغانستان کے لوگ گذشتہ تیس برس سے بدبختی اور مصیبت میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس دوران ہم نے یہ بات ضرور سیکھی ہے کہ محنت ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ملک میں استحکام اور خوشی آسکتی ہے۔ عوام بندوق اور ظلم سے نفرت کرتے ہیں۔ میں جب صوبوں اور شہروں کے دوروں پر جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ لوگ بہت شوق سے اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور قبائلی سردار چاہتے ہیں کہ ان کے لوگوں کو زچگی کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ افغانستان میں نیا دور آگیا ہے۔ یہ امید کا اور مستقبل کی تعمیر کا زمانہ ہے۔ عبدالقدوس، مکران: آپ یقیناً ان حملہ آوروں کے بارے میں جانتے ہوں گے جنہوں نے ماضی میں آپ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا لیکن آپ کی جان بچ گئی تھی۔ اگر آپ ان کو فیصلہ کن مذاکرات کے لئے تیار کریں یا حکومتی سطح پر ان کو آگے لائیں تو کیا ایسے حملوں میں کمی واقع نہیں ہوگی؟ اور کیا اس طرح کرنے سے ملک میں امن و سلامتی کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔
حامد کرزئی: میں نہیں جانتا کہ مجھ پر حملہ کس نے کیا تھا، البتہ حملہ آور اسی وقت مارا گیا تھا۔ میں نے اس کے والدین سے دکھ کا اظہار کیا۔ میں نے حملہ آور کو معاف کردیا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ اس حملہ آور کا تعلق کس گروہ سے تھا کیونکہ میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔ صرف پچاس سے ساٹھ ایسے طالبان (رہنما) ہیں جن کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جیسا جرائم پیشہ افراد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مگر جو باقی لوگ ہیں، ہزاروں کی تعداد میں طالبان ہیں، وہ ہمارے لوگ ہیں، وہ ہمارے بچے ہیں، یہ ان کا ملک ہے۔ وہ ہمیشہ افغانستان آسکتے ہیں۔ ان کے خلاف ہمارے دل میں کچھ بھی نہیں ہے، ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||