آپ کے سوالات، کرزئی کے جوابات  | | صدر کرزئی نے دنیا بھر سے کئے گئے سوالات کےجوابات دیئے | |
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بی بی سی اردو سروِس کے پروگرام سیربین میں سامعین کے سوالوں کا براہ راست جواب دیا۔ سات دسمبر بروز اتوار کی شام دارالحکومت کابل کے صدارتی محل میں حامد کرزئی کے ساتھ اردو سروِس کے جاوید سومرو اور لندن میں شفیع نقی جامعی نے یہ پروگرام پیش کیا۔
بی بی سی اردو سروِس کے صحافی جاوید سومرو: غزنی میں امریکی بمباری کے باعث نو افغان بچوں کی ہلاکت کے بارے میں افغانستان کے بہت سے لوگوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا جس میں یہ کہا کہ امریکہ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ افغانستان کے عوام بہت غریب ہیں اور ان کے ساتھ ’ظالمانہ‘ کارروائیاں نہ کی جائیں۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ کسی بھی ایسی کارروائی سے پہلے افغان حکومت سے مشورہ کرے۔ حامد کرزئی صاحب اس خبر کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ کیا کارروائی سے پہلے امریکہ نے آپ سے رابطہ کیا تھا؟  | | پوچھنے کے بعد افسوس کا اظہار | | ہم نے افغانستان میں موجود امریکی حکام اور امریکہ سے اس واقعے کی تفصیلات پوچھنے کے بعد اپنے افسوس کا اظہار کیا۔ ہمیں اس بات پر بہت دکھ ہے کہ غزنی میں بہت سے بچے اتفاقی حملے کے نتیجے میں شہید ہوگئے ہیں۔
|  | صدر حامد کرزئی | |
صدر حامد کرزئی: جی نہیں، امریکہ نے ہم سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ کل (سنیچر) جب ہمیں یہ خبر موصول ہوئی تو ہم نے افغانستان میں موجود امریکی حکام اور امریکہ سے اس واقعے کی تفصیلات پوچھنے کے بعد اپنے افسوس کا اظہار کیا۔ ہمیں اس بات پر بہت دکھ ہے کہ غزنی میں بہت سے بچے اتفاقی حملے کے نتیجے میں شہید ہوگئے ہیں۔ ہم نے ایک وفد غزنی بھجوادیا ہے اور کل (پیر) کو ایک اور وفد روانہ کردیں گے تاکہ وہ اصل حقیقت جان سکیں۔ امریکہ نے جنرل آسٹن کو غزنی روانہ کیا ہے۔ ان کے نمائندے ہمارے پاس آئے تھے جن میں ذلمے خلیل زاد بھی شامل تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ غزنی میں انہوں نے لوگوں سے ملاقات کرکے اظہار افسوس کیا اور معذرت چاہی۔ عطاء الرحمان، کراچی: انیس سو نواسی سے آج تک افغانستان میں مختلف فوجیں اور بیرونی سیاسی مداخلتیں جاری رہی ہیں، چاہے وہ روس ہو یا امریکہ، پاکستان ہو یا ایران، بھارت ہو یا آزاد عرب جنگجو۔ صدر صاحب ان کے بارے میں آپ کا کیا نقطۂ نظر ہے؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ افغانستان میں قید پاکستانیوں کو رہا کیوں نہیں کرتے، کیوبا میں موجود قیدیوں کے لئے آپ نے کیا اقدامات کیے ہیں؟  | | ہمیں کوئی اعتراض نہیں | | وہ پاکستانی جو دہشت گردی کے حوالے سے (گوانتانامو بے) میں اسیر ہوگئے ان کی رہائی پر افغانستان حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہم نے امریکہ سے بھی کہا ہے کہ اگر وہ چاہتا ہے تو انہیں رہا کر
|  | صدر کرزئی | |
صدر کرزئی: بلاشبہہ انیس سو نواسی کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی مداخلتوں کے باعث ملک پوری طرح تباہ ہوگیا۔ بیس سے لاکھ سے زیادہ افراد شہید ہوگئے اور لاکھوں زخمی ہوئے۔ ہم آپ کے ملک (پاکستان) میں اور ایران میں مہاجر ہوگئے۔ بیرونی مداخلتوں کا نتیجہ افغانستان کے لئے انتہائی المناک ثابت ہوا۔ اس وقت جو کچھ افغانستان میں ہورہا ہے جس میں امریکہ اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں، یہ سب کچھ افغانستان کی بھلائی کے لئے ہے۔ انہوں نے افغانستان کو دہشت گردی سے نجات دلائی اور ملک میں تعمیر نو کا آغاز کیا۔ افغانستان کے عوام کو سیاسی آزادی حاصل ہوگئی اور اب پوری دنیا میں ہمارے سفارتی نمائندے موجود ہیں۔ بہت سے ممالک نے افغانستان میں اپنے سفارتخانے قائم کیے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ غرض ماضی کے مقابلے میں اب حالات بہت مختلف ہیں۔ دو برس قبل یہاں کوئی سڑک نہیں تھی۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی استحکام آرہا ہے لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں بیرونی مداخلت بہت ہوچکی ہے۔ ہمارے ملک کا پیکر بری طرح زخمی ہوگیا ہے۔ اس لئے ہمیں ملکر سب کچھ ٹھیک کرنا ہے۔ افغانستان میں موجود پاکستانی قیدیوں کو، جن کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا یا جن کے بارے میں مزید پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں تھی، رہا کردیا گیا ہے اور وہ پاکستان چلے گئے۔ عید کے موقع پر ہم نے مزید پچاس پاکستانیوں کو رہا کیا۔ لیکن وہ پاکستانی جو دہشت گردی کے حوالے سے (گوانتانامو بے) میں اسیر ہوگئے ان کی رہائی پر افغانستان حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہم نے امریکہ سے بھی کہا ہے کہ اگر وہ چاہتا ہے تو انہیں رہا کردے۔ ہم نے حکومت پاکستان سے بھی کہا ہے کہ ہمیں پاکستانی قیدیوں کی رہائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اگر وہ چاہیں تو یہ معاملہ امریکہ سے خود طے کرلیں۔ ہمیں قیدیوں کی رہائی اور ان کے وطن لوٹنے پر دلی مسرت ہوگی۔ عرفان صدیقی، جاپان: حامد کرزئی صاحب ساری دنیا یہ جانتی ہے کہ آپ کو افغانستان کا صدر منتخب کرانے میں پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور آپ سمیت بہت سے اہم افغان سیاست دان پاکستان میں پناہ لے چکے ہیں۔ شمالی اتحاد نے آپ کو آئندہ صدارتی انتخابات کے لئے نامزد کرنے سے انکار کردیا ہے۔ تو کیا آپ نے اس عہدے کے لئے نامزدگی اور پاکستان کو بدنام کرنے اور بھارت کو خوش کرنے کے لئے پاکستان مخالف بیانات شروع کردیے ہیں؟  | | سچے دل سے لڑیں | | ہم اس بات کے خواہش مند ہیں کہ دونوں ممالک کی حکومتیں دہشت گردی کے خلاف سچے دل سے لڑیں کیونکہ دہشت گردی کے باعث پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔
|  | حامد کرزئی | |
حامد کرزئی: جی نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ میں آپ پر واضح کرتا چلوں کہ افغان عوام کے دل میں پاکستانی بھائی بہنوں کے لئے بہت زیادہ محبت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سابق سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کرلیا تو ہم لوگ مہاجر بن کر آپ کے ملک چلے آئے۔ اس وقت پاکستانیوں نے ہم سے اپنوں کا سا سلوک کیا اور انتہائی محبت سے پیش آئے اور ہماری مہمان نوازی کی۔ ہم تقریبا بیس سال تک پاکستان میں رہے۔ اس دوران ہمیں کبھی احساس نہیں ہوا کہ ہم کسی غیر ملک میں ہیں۔ ہم اس برتاؤ سے بہت خوش ہیں۔ ہم احسان فراموش لوگ نہیں ہیں۔ پاکستانیوں کا احسان ہم کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔ پاکستانی عوام کی جگہ ہمارے دل میں ہے۔ لیکن سیاست اور دہشت گردی کے حوالے سے ہم اس بات کے خواہش مند ہیں کہ دونوں ممالک کی حکومتیں دہشت گردی کے خلاف سچے دل سے لڑیں کیونکہ دہشت گردی کے باعث پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام استحکام، امن اور محبت سے رہیں۔ جاوید سومرو: حامد کرزئی صاحب، آپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملا عمر کو کوئٹہ میں دیکھا گیا ہے۔ صدر صاحب اس بیان کا پس منظر کیا تھا؟  | | نہ کوئی الزام تھا نہ ثبوت | | ہم نے تو صرف یہ کہا تھا کہ موصول شدہ اطلاع کے مطابق ملاعمر کوئٹہ میں ہیں۔ بس اس میں نہ تو کوئی الزام تھا اور نہ ہی کوئی ثبوت۔
|  | حامد کرزئی | |
حامد کرزئی: صحافی حضرات ہم سے عموما یہ سوال کرتے ہیں کہ ملا عمر یا اسامہ بن لادن کہاں ہیں۔ کبھی کبھی ہمیں اطلاعات موصول ہوتی ہیں کہ فلاں شخص کو کسی جگہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے ہی ایک موقع پر جب مجھ سے ملاعمر کے بارے میں پوچھا گیا تو اس سے چار پانچ روز قبل یہ رپورٹ ملی تھی، جس کے بارے میں ہم نے یہ نہیں کہا کہ رپورٹ سچ ہے۔ بلکہ ہم نے تو صرف یہ کہا تھا کہ موصول شدہ اطلاع کے مطابق ملاعمر کوئٹہ میں ہیں۔ بس اس میں نہ تو کوئی الزام تھا اور نہ ہی کوئی ثبوت۔ یہ محض ایک صحافتی سوال کا جواب تھا۔
|