افغان پناہ گزینوں کا پاکستان پراثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی پھر سے شروع کردی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال میں لگ بھگ بیس لاکھ افغانوں کو وطن واپس پہنچایا گیا ہے۔ انیس سو اناسی میں روسی فوج کی افغانستان میں مداخلت سے لیکر طالبان کے دور تک لگ بھگ تیس لاکھ افغان پناہ گزینوں نے پاکستان میں پناہ لی۔ ان پناہ گزینوں نے بیشتر سرحد اور بلوچستان میں سکونت اختیار کی لیکن روزی کی تلاش میں بعض نے شہروں کا بھی رخ کیا۔ انیس سو اناسی سے قبل بھی افغان روزی روٹی کمانے کی غرض سے پاکستان آتے تھے۔ لیکن ان کی تعداد کم تھی۔ آپ کے خیال میں پاکستان میں پناہ لینے والے افغانوں نے گزشتہ دو عشرے میں پاکستانی معاشرے پر کیا اثر چھوڑا؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ محمد وقاص، پاکستان: اپنے سماجی مسائل کا الزام دوسروں پر ڈالنا صحیح نہیں ہے۔ اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ بحیثیت قوم کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ چند برے افراد ہمیں یرغمال بنالیں؟ سید شاہ، پشاور: اللہ کے فضل سے پاکستان ایک اسلامی وطن ہے۔ یہاں ہر ایک مسلم رہ سکتا ہے۔ صالح محمد، راولپنڈی: ہم نے اپنا اسلامی فرض تو پورا کرلیا لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ کس قیمت پر؟ پاکستان نے امریکہ کی لڑائی لڑی۔ اس کے ساتھ ملک میں امن و امان خراب ہوگیا۔ فیصل تقی، کراچی: افغان مہاجرین کے دور میں اسلحہ اور منشیات کی بیماری پھیل گئی۔ جاوید شارجہ، ایو اے ای: اس کی وجہ سے ہمیں پشاور اور بلوچستان میں کافی نقصان ہوا ہے۔ غیرقانونی تجارت ہورہی ہے۔ یہ مشرف حکومت کی ذمہ داری ہے کہ یہ ختم ہو۔ احمد خان، پیرس: انسی سو اسی کی دہائی میں افغانوں کو اے۔کے سینتالیس اور کلاشنیکوف سے لیس کرنے کی ذمہ داری جنرل ضیاء الحق پر نہیں ہے؟ افغانوں کو کیوں ذمہ دار ٹھہراتے ہیں؟ صالح محمد، دوبئی: افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر ایک پہچان بنی ہے۔ افغان پاکستانیوں کو دگنا کرایہ دیتے ہیں۔ بجلی استعمال کرتے ہیں تو اس کا بِل دیتے ہیں۔ انہیں پاکستانی عوام سے ایک روپیہ بھی نہیں ملتا۔ عمران، کراچی: افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لئے روزگار کا نقصان ہوا ہے۔ سید جعفری، امریکہ: انہیں فوری طور پر پاکستان سے نکال دینا چاہئے۔ ہمارے ملک کی معاشی حالت خراب ہوگئی ہے۔ میر عالم مسجدی، دوبئی: سچ تو یہ ہے کہ افغانوں کے رہنے سے پاکستان میں گزشتہ بیس پچیس سالوں میں صرف اور صرف مزدوروں اور غریب لوگوں کو نقصان ہوا۔ دوسری جانب افغانوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت سیاسی اور اقتصادی فائدے ہوئے۔ پاکستان ہر لحاظ سے خصوصی طور پر بین الاقوامی لحاظ سے بہت اوپر چلاگیا۔ افغانوں نے اگر پاکستان میں کچھ کمایا تو صرف اپنی محنت سے۔ ہر مسلمان کو سچ بولنا چاہئے۔ عمران رؤف، لاہور: افغانوں کے جانے سے ہمارا ملک بیس سال پیچھے گیا، ہم سب پاکستانیوں نے افغانوں کے نام پر بہت سے ملکوں میں پناہ حاصل کیے ہیں۔ ایسے لوگوں میں جنہوں نے افغانوں کے نام پر بیرون ملک پناہ حاصل کیے وہ لوگ زیادہ ہیں جن کا تعلق سرحد اور بلوچستان سے ہے۔ فریداللہ اورکزئی، دوبئی: اگر سچ بولیں تو افغان پناہ گزیں نہ پاکستان پر بوجھ تھے، اور نہ ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنی محنت اور غیرت سے اپنے لئے کچھ زندگی بنائے۔ ہم لوگوں نے انہیں کچھ نہیں دیا۔ صرف ان کی وجہ سے منفی اثرات اگر آیا تو وہ بھی صرف مزدوروں اور غریب پاکستانیوں پر آیا، صرف سرحد اور بلوچستان میں۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: مسلم ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے مسلم بھائی کی مدد کریں، جب وہ مشکل میں ہوں۔ ہمسائے کے حقوق اتنے زیادہ ہیں کہ صحابۂ کرام سوچ میں پڑگئے تھے کہ شاید جائداد میں بھی کہیں حصے داری کی وحی آجائے۔ پاکستان نے ہر صورت افغانوں کی مدد کی۔ نسیم وحید بھٹی، ملتان: پاکستان میں معیشت تو تباہ ہوئی ہے۔ حیات خان عظیمی، چین: مقامی لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونے پڑے، نئی نسل نوکری کے چکر میں ہیں جبکہ روزگار پر افغانوں کا قبضہ ہے۔ عبدالحادی، کرغزستان: ان کی آمد سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ وہ بھی انسان ہی ہیں اور انسانوں کی انسانوں میں آمد سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ہاں البتہ کچھ نام نہاد علاقائی، قومی اور مذہبی لیڈرس نے ان کی آمد سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ کامران، پشاور: بہت اشیاء مہنگی ہوگئیں، کچھ لوگوں کا بزنس ڈاؤن ہوگیا۔ سلمان عابد، شمالی ناظم آباد، پاکستان: غیرقانونی تجارت، بلیک منی، اسمگلِنگ، وغیرہ۔۔۔ جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے انسانی امداد کے نام پر سرحد کھول دیا۔ اب افغان پاکستان میں بس گئے ہیں، رفیوجی کیمپوں سے باہر بھی، اور پاکستانیوں سے شادیاں بھی کررہے ہیں۔ محمد عامر خان، کراچی: ہم پاکستانیوں نے افغانستان کو جتنا سہارا دیا افغانوں نے ہمارا اتنا ہی نقصان پہنچایا۔ ہیروئین اور کلاشنِکوف سے ہماری نئی نسل تباہ ہورہی ہے۔ کمال احمد منصور، فیصل آباد: افغانوں کی وجہ سے پاکستانی لوگوں نے مکئی کے بھٹے، نمک میں بھنے ہوئے چنے خوب کھانے شروع کردیے ہیں، اور پاکستانی لوگوں کے جوتے بہت چمکدار رہنے لگے ہیں۔ عارف ریاض، کراچی: میرے خیال میں افغان پناہ گزینوں نے پاکستانی معاشرے پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہم نے انہیں بھائی سمجھ کر گلے لگایا۔ اب کلاشنِکوف اور ہیروئین کی اسمگلِنگ بھی عام ہوئی۔ سجاد حیدر: میرے خیال میں ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے افغان بھائیوں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنا چاہئے، ہم پر کتنا بھی بوجھ کیوں نہ ہو۔ غالب بریالائی، کوئٹہ: پاکستان افغانوں کا سیکنڈ ہوم ہے کیونکہ سرحد اور بلوچستان کے بعض علاقے افغانستان کا حصہ تھے۔ سن اٹھارہ سن ترانوے میں انڈیا اور افغانستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا اور پاکستان کا پشتون بیلٹ بھی ان کے قبضے میں تھا۔ پاکستانی پشتون افغانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوجاتا انہیں پاکستان کے پشتون علاقوں میں رہنے کا حق ہے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے کم قیمت پر مزدور دستیاب ہیں۔ البتہ اس دور میں ہیروئین، کلاشنِکوف اور طوائف وغیرہ بھی عام ہیں۔ شفیق اعوان، لاہور: ہمارا معاشرہ اتنی جلدی اثرات قبول نہیں کرتا۔ روزی خان، کوئٹہ: ان دو عشروں میں اسلحہ کلچر شروع ہوا۔ محمد حیدر اورکزئی، ہنگو: افغانوں نے پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ بلکہ اب یہاں بسنے والے افغان کہتے ہیں کہ وہ رفیوجی نہیں ہے اور پاکستان ہی ان کا وطن ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ماضی میں اٹک برِج تک کا علاقہ افغانستان کا حصہ تھا اس لئے انہیں رفیوجی نہیں کہاجاسکتا۔ ان علاقوں میں جہاں افغان ہیں پاکستانیوں نے بھی پشتو بولنا سیکھ لیا۔ غل خان، پشاور: ہیروئین، کلاشنیکوف۔۔۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: افغان رفیوجیوں کی پاکستان میں موجودگی سے پاکستان کی آبادی پر اثر پڑا۔ آغاز میں پاکستانی اپنے پڑوسیوں کی مدد کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ مشکل میں تھے۔ لیکن بعد میں مشکلات کی وجہ سے ہم میں سے بعض نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ ہماری دوستی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے۔ ہتھیاروں کو فروخت بھی اسی دور میں شروع ہوئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||