افغانستان کا ’دشمن صوبہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان اور دوسرے باغیوں کے خلاف امریکی جنگ پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے لیکن پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع ایک صوبہ اب بھی ’مشکلات‘ کا باعث ہے۔ صوبہ کنہڑ پر بہت سے بڑے حملوں کے باوجود جنگجو دوبارہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے غیر ملکی ہیں جنہیں طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ ان کی طرف سے پیدا کیے گئے اس مسئلے کی وجہ سے امریکی فوجی نفسیاتی حربے استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جو ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جنیوا کنونشن کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ امریکی فوج ایسے پیغامات نشر کر رہی ہے جن میں وادی کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کنہڑ میں ہی امریکی فوج کو اپنے سب سے بڑے جانی نقصان کا شکار ہونا پڑا۔ گزشتہ جون میں ان کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا جس میں 16 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس علاقے کا مغربی عراق کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے جہاں باغی بار بار امریکی فوج کے جانے کے بعد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی اونچائی اور مشکل جغرافیائی حالات کے علاوہ ہمسایہ ملک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ان کی پناہ گاہیں بھی مشکلات میں اضافے کا باعث ہیں۔ ان کے مطابق نومبر کے بڑے آپریشن کے بعد دوبارہ بہت سے جنگجو اس علاقے میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ آپریشن ’سرخ خر‘ کے بارے میں پریس ریلیز میں امریکی فوج نے اسے کامیاب قرار دیا۔ لیکن اس علاقے کے رہائشیوں اور حکام کا کہنا ہے کہ شرپسند دوبارہ آگئے ہیں۔ ان گروہوں کے لیے محفوظ علاقہ وادی کورنگال ہے جو صوبائی دارالحکومت اسد آباد کے شمال مغرب میں ہے۔ اسی جگہ پر امریکی ہیلی کاپٹر گرایا گیا تھا۔
یہ وادی ایک طرح سے امریکہ مخالف قوتوں کی ملاقاتوں کے لیے پسندیدہ جگہ بن گئی ہے۔ ایک امریکی فوجی نے اسے ’دشمن کا گڑھ‘ قرار دیا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ القائدہ اور طالبان کے حامی یہاں حزب اسلامی گلبدین کے ساتھ بھی تعاون کر رہے ہیں جس کے سربراہ سابق افغان وزیر اعظم گلبدین حکمت یار ہیں۔ ان کے ٹھکانوں کے بارے میں صحیح طور پرمعلومات نہیں ہیں۔ اسی طرح کی صورتحال ایک عرب جنگجو ابو اخلاص المصری کی ہے جو روس کے خلاف جنگ میں یہاں آئے تھے اور اب انہوں نے یہیں شادی کر لی ہے۔ ان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ امریکی ہیلی کاپٹر گرانے والے کمانڈر احمد شاہ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ جیری او ہارا کا کہنا ہے کہ اس مشکل صورتحال میں جرائم نے مزید اضافہ کیا ہے جن میں منشیات، لکڑی اور قیمتی جواہرات کی نقل و حمل شامل ہے۔ لیکن امریکہ اس سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ’اس کا حل صرف فوجی طریقے سے ہی ممکن ہے۔ افغان حکومت اور سیکیورٹی کو اس کا کنٹرول سنبھالنا ہو گا‘۔ ایک نیا حربہ جس کا حال ہی میں امریکی فوج نے استعمال کرنا شروع کیا ہے وہ ہے لوگوں کو کنہڑ کے گورنر کی جانب سے پیغامات بجھوانا کہ وہ ’دہشت گردوں‘ کو اپنے علاقے سے نکال دیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ لوگ ’دہشت گردوں‘ کو دباؤ اور خوف کی وجہ سے پناہ دیتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’لاشیں جلا کر جرم نہیں کیا‘ 26 November, 2005 | آس پاس القاعدہ کارروائیوں میں اضافہ16 November, 2005 | آس پاس کابل: مبینہ خودکش حملے، 3 ہلاک14 November, 2005 | آس پاس ’طالبان‘ کارروائیاں: نو ہلاک10 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||