’لاشیں جلا کر جرم نہیں کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے کہا ہے کہ ان کے فوجی جنہوں نے دو طالبان کی لاشوں کا جلایا تھا ایسا کرکے کوئی جرم نہیں کیا۔ امریکی فوج کے تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ ان فوجیوں نے ایسا حفظان صحت کے تقاضوں کے تحت کیا۔ لاشیں جلانے والے چاروں فوجیوں کے خلاف اس رپورٹ کے باوجود کارروائی کی جائے گی۔ دو فوجیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے مقامی حالات کے بارے میں سمجھ بوجھ کا مظاہرہ نہیں کیا اور دو پر لاشوں کو جلا کر دیگر طالبان کو طعنے دینے کا الزام ہے۔ طالبان کی لاشیں جلانے کی وڈیو گزشتہ ماہ آسٹریلیا میں دکھائی گئی تھی۔ یہ امریکی فوج کے ساتھ سفر کرنے والے ایک آسٹریلوی کیمرہ مین سٹیفن دوپونٹ نے ریکارڈ کی تھی۔ ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس خبر سے مسلمانوں میں نفرت کے جذبات ابھریں گے۔ یہ فِلم افغانستان میں نہیں دکھائی گئی اور نہ ہی وہاں سے عوامی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ قندھار میں ایک اخباری کانفرنس سے بات کرتے ہوئے علاقے میں غیر ملکی فوج کے امریکی آپریشنل کمانڈر نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث فوجیوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ جو کچھ کر رہے تھے وہ غلط ہے۔ موقع پر موجود قندھار کے گورنر اسداللہ خالد نے کہا کہ انہیں امریکی تفتیش پر اعتبار ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے امریکی فوجی کمانڈر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ واقعے کی وڈیو ریکارڈنگ میں دکھایا گیا ہے کہ امریکی فوجی طالبان کو اپنی پنا گاہوں سے نکالنے کے لیے اونچی آواز میں تیز مغربی موسیقی بجا رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک منظر میں دکھایا گیا کہ طالبان کی لاشوں کو مکہ رخ لٹا کر آگ لگا دی گئی جسے ’جان بوجھ کر مسلمانوں کے کچھ عقائد کی توہین‘ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ فلم کے آخر میں دو امریکی فوجیوں کو لاؤڈسپیکر پر بار بار طالبان کو ’بزدل کتے‘ اور ’زنانہ لڑکے‘ کہہ کر بلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ03 July, 2005 | صفحۂ اول ’دہشت گردی، منبع پر دھیان دیں‘13 September, 2005 | صفحۂ اول افغانستان: امریکی طیاروں کی بمباری 02 July, 2005 | صفحۂ اول ’وائٹ ہاؤس اورطالبان کی ذہنیت‘12 August, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||