’دہشت گردی، منبع پر دھیان دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکہ اور دیگر بین الاقوامی قوتوں کو افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ گزشتہ ایک سال میں افغانستان میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ایسے حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں جن کی ذمہ داری طالبان پر ڈالی جاتی ہے۔ سن دو ہزار ایک کے بعد سے ایک سال میں افغانستان میں اتنے لوگ ہلاک نہیں ہوئے۔ حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ’دہشت گردی کے منبع‘ کی طرف دھیان دینا ہوگا جہاں سے دہشت گرد تربیت اور ایسے کام کرنے کی حوصلہ افزائی حاصل کرتے ہیں۔ بہت سے افغان اس بات کا مطلب پاکستان سمجھیں گے جہاں سے شدت پسند اکثر حملے کرتے رہتے ہیں۔ دریں اثناء پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کی پیشکش کی ہے۔ حامد کرزئی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک میں تشدد کے حالیہ واقعات کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا امریکہ کی افغانستان میں پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ’ہمیں، عالمی برادری اور اتحادیوں کو مل کر غور کرنا ہوگا کہ آیا دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے ہم نے درست پالیسی اپنائی ہے‘۔ کرزئی نے پھر کہا کہ ’میرا خیال میں ہمیں اس کے منبع تک پہنچنا ہوگا جہاں دہشت گرد تربیت پاتے ہیں اور کھڑے کیے جاتے ہیں‘۔ صدر کرزئی نے اس بات کی تردید کی کہ ’دہشت گردی کے منبع‘ سے ان کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا لیکن ان کی انتظامیہ میں شامل لوگ ماضی میں اس طرح کی بات کر چکے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے سرحد پر باڑ لگانے کی پیشکش کی ہے تاکہ منشیات کے سمگلروں اور شدت پسندوں کی آمد و رفت روکی جا سکے۔ حامد کرزئی نے عالمی برادری سے ملک کی تعمیر نو کے لیےمزید امداد کی بھی اپیل کی اور کہا کہ ان کے مصرف میں افغانوں کی ترجیحات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اس بابت بہت سے لوگوں کے تحفظات ہوں گے کیونکہ افغانستان میں فنڈز کے استعمال میں بدعنوانی کی شکایات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||