بُش کا کرزئی کوانکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بُش نے افغانستان میں موجود امریکی فوجوں کو افغان حکومت کے ماتحت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کےصدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ صدر بُش کے ساتھ وہائیٹ ہاؤس میں اپنی ملاقات کے دوران اس بات کا مطالبہ کریں گے کہ امریکی فوجیں ان کی حکومت کے تحت کام کریں۔ یہ مسئلہ افغانستان میں امریکی فوجوں کے مرکزی اڈے پر دو افغان شہریوں پر تشدد اور ان کی اموات کی تازہ تفصیلات کے منظر عام پر آنے کے بعد اٹھا ہے۔ صحافیوں کی طرف سےایک سوال پر اصرار کے جواب میں صدر بُش نے کہا ’ہماری فوجیں امریکی کمانڈروں کو جوابدہ ہوں گی‘ تاہم دونوں ممالک افغانستان میں فوجی کاروائیوں کے بارے میں ایک دوسرے سے ’مشورہ اورتعاون کریں گے۔‘ صدر بُش نے قیدیوں کو افغان حکومت کےحوالے کرنے کے بارے میں بھی کوئی وعد نہیں کیا تاہم دونوں رہنماؤں نے صحافیوں سے اپنی بات چیت کا آغاز ایک دوسرے کے بارے میں نہایت تعریفی کلمات سے کیا۔ صدر بُش نے حامد کرزئی کے بارے میں صحافیوں سے کہا ’ایک رہنما کے ناطے مجھے اس شخص پر بہت بھروسہ ہے‘۔ اس موقعہ پر صدر بُش نے یہ اعلان بھی کیا کہ دونوں صدور نے افغانستان کے مستقبل کے لیےتعاون کےایک معاہدہ پر دستخط کیے ہیں جو دونوں ملکوں کے مابین فوجی، معاشی اور سیاسی تعلقات کو مضبوط کرنے میں مدد دےگا۔ مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد حامد کرزئی نےصحافیوں کو بتایا کہ وہ امریکی فوج کے ہاتھوں افغان شہریوں پر تشدد پر افسردہ ہیں تاہم یہ بات امریکی عوام کی اچھائیوں پراثرانداز نہیں ہوتی۔ واضح رہے کہ اس ماہ افغانستان میں امریکہ مخالف ہنگاموں میں شدت آ گئی ہے۔ پیر کووہائیٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے پہلے بگرام کے فوجی مرکز میں افغان شہریوں پر شدت کی خبر سے امریکی مخالف جذبات میں شدت آ چکی تھی۔ اتوار کی رات سی این این کو انٹرویوں دیتے ہوئے صدر حامد کرزئی نے کہا ’(شہریوں پر تشدد والی بات) کو نِگلا نہیں جاسکتا۔ ہم اس پر خفا ہیں اور انصاف چاہتے ہیں۔‘ 2002 میں بگرام میں امریکی تحویل میں دو افغانیوں کی ہلاکتوں اور دوسرے قیدیوں پر تشدد کے بارے میں تفصیلات نیو یارک ٹائمز نے اپنی جمعہ کی اشاعت
اس خبر کے شائع ہونے کے بعد صدرحامد کرزئی نے کہا کہ وہ صدر بُش سے درخواست کریں گے کہ امریکی قید میں تمام افغانوں کو اُن کی حکومت کے حوالے کیا جائے اور افغانستان میں امریکی فوج کو بھی افغان حکومت کی ماتحتی میں دیا جائے۔ لیکن حامد کرزئی کو امریکہ کی طرف سے اس دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ اُن کی حکومت منشیات کی غیرقانونی تجارت کو روکنے کے سلسلہ میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی۔ نیویارک ٹائمز کے ہاتھ آنےوالی ایک دوسری خفیہ رپورٹ میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ کابل میں تعینات امریکی سفارتکاروں نےبُش انتظامیہ سے کہا ہے صدر کرزئی افغانستان میں ہیرؤین کی روک تھام کے لیے’ دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے۔‘ تاہم کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ باوجود ان اختلافات کے، امریکہ افغان تعلقات کی بنیاد اپنی جگہ قائم ہے اور وہ یہ ہے کہ افغانستان کواپنی سیکورٹی اور ترقی کے لیےامریکہ کی مدد کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||