افغانستان: امریکی طیاروں کی بمباری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے ملک کے مشرقی حصوں پر بمباری کی ہے جہاں اس کے سترہ فوجی لاپتہ ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق جس گھر پر بمباری کی گئی اس پر طالبان کی پناہ گاہ ہونے کا شبہ تھا۔ ایک سینیئر افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کنڑ صوبے میں چیچل نامی گاؤں میں گھر پر دو حملہ کیے گئے جن میں پچیس افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی فوج کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ’ہم نے ایک ایسے مقام پر فضائی حملہ کیا جس پر ہمارے خیال میں فوری طور پر وار کرنا ضروری تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ کنڑ صوبے میں جس عمارت پر حملہ کیا گیا وہ دشمن کی پناہ گاہ تھی۔ انہوں نے حملے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ چیچل گاؤں میں دو حملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے فضائی حملے کے بعد کچھ لوگ بمباری کا نشانہ بننے والوں کی مدد کے لیے پہنچے لیکن وہ خود دوسرے حملے میں بمباری کا نشانہ بن گئے۔ اہلکار نے بتایا کہ یہ جاننے کے لیے اس عمارت میں کون لوگ تھے حفاظتی دستے روانہ کیے گئے ہیں۔ یار رہے کہ منگل کو اسی علاقے میں تحقیقات کرنے والی امریکی خصوصی دستوں کی ایک ٹیم لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس ٹیم کی تلاش میں بھیجا جانے والا ہیلی کاپٹر گرا دیا گیا تھا اور اس میں سوار سولہ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج لاپتہ امریکی خصوصی فوجیوں کی تلاش کے لیے تمام ذرائع استعمال کر رہی ہے لیکن خراب موسم کے باعث انہیں اس میں شدید مشکل پیش آ رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||