شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی حکام نے افغانستان میں سنیچر کو امریکی طیاروں کی بمباری سے شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ امریکی طیاروں نے افغانستان کے مشرقی حصوں پر بمباری کی تھی جہاں اس کے سترہ فوجی لاپتہ ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق جس گھر پر بمباری کی گئی اس پر طالبان کی پناہ گاہ ہونے کا شبہ تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جس عمارت حملے کیا گیا وہاں شدت پسند چھپے ہوئے تھے لیکن اس حملے میں ممکن ہے شہری بھی ہلاک ہوگئے ہوں۔
دریں اثناء ایک افغان اہلکار نے بتایا کہ اتوار کو امریکی فوج کنڑ صوبے کی ننگلم وادی میں حملے کیے ہیں۔ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغان فوج کو علاقے میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ تاہم بگرام میں امریکی فوج کے ترجمان نے اس کارروائی کی خبروں کی تردید کی۔ اب تک کے اندازے کے مطابق افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں گزشتہ تین ماہ میں پانچ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت ’شدت پسندوں‘ کی ہے۔ کنڑ میں ہونے والے حملے کے بارے میں امریکی فوج کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا تھا کہ ’ہم نے ایک ایسے مقام پر فضائی حملہ کیا جس پر ہمارے خیال میں فوری طور پر وار کرنا ضروری تھا‘۔ ایک اعلیٰ افغان اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا تھا کہ چیچل گاؤں میں دو حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے فضائی حملے کے بعد کچھ لوگ بمباری کا نشانہ بننے والوں کی مدد کے لیے پہنچے لیکن وہ خود دوسرے حملے میں بمباری کا نشانہ بن گئے۔ یار رہے کہ منگل کو اسی علاقے میں تحقیقات کرنے والی امریکی خصوصی دستوں کی ایک ٹیم لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس ٹیم کی تلاش میں بھیجا جانے والا ہیلی کاپٹر گرا دیا گیا تھا اور اس میں سوار سولہ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||