’طالبان حوالے کرنے کاخیرمقدم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان نے پاکستان کی جانب سے چودہ مشتبہ طالبان کو افغان حکام کےحوالے کیے جانےکا خیر مقدم کیا ہے۔ دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی جانب سے مشتبہ طالبان اراکین کو افغانستان کے حوالے کیا گیا ہے۔ ان چودہ مشتبہ افراد کو بدھ کو افغانستان کے حوالے کیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ ان افراد میں طالبان کے مرکزی ترجمان عبدالطیف حکیمی بھی شامل ہیں۔ کابل متواتر اسلام آباد کوسرحدی علاقے میں موجود مزاحمت کاروں کی جانب سے افغانستان پر حملوں کو روکنے کے خلاف موثر قدم نہ اٹھانے کا ذمہ دار قرار دیتا رہا ہے۔ پاکستان کے حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ عبدالطیف حکیمی اور سینئر شخصیت محمد یار ان چودہ افراد میں شامل تھے جنہیں فوجی طیارے کے ذریعے کابل لے جایا گیا۔ افغان ٹی وی پر سپاہیوں کو آنکھوں پر پٹی بندھے افراد کو کابل کے ہوائی اڈے سے باہر لے جاتے ہوئے دیکھایا گیا۔ افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے امید ظاہر کی کہ اس نئے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد پرافغان حکومت اور امریکی اتحادی فورسز کے خلاف بغاوت میں ان کے کردار کے حوالے سے مقدمے چلائے جائیں گے۔ صرف اس سال اس بغاوت کے بعد بڑھتے ہوئے تشدد میں بارہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نےاس ماہ کے آغاز میں پاکستان کے شہر کوئٹہ میں عبدالطیف حکیمی کی گرفتاری کے بعد سے ان کی افغانستان سپردگی کا مطالبہ کیاتھا۔ عبدالطیف حکیمی کےطالبان حکومت سے تعلقات کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی تھی لیکن افغان اور امریکی فوجی حکام کے مطابق ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ باغی گروہوں میں سے ہی کچھ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’103 طالبان کو ہلاک کر دیا ہے‘23 June, 2005 | آس پاس ’مسئلہ زندگی کی بھیک نہیں‘ طالبان09 May, 2005 | آس پاس بمباری میں 32 طالبان ہلاک: حکام21 June, 2005 | آس پاس افغان سردار کو20 سال قید کی سزا19 July, 2005 | آس پاس طالبان کےاہم کمانڈر کی گرفتاری 14 August, 2005 | آس پاس طالبان کے ہاتھوں چھ افراد کا قتل03 September, 2005 | آس پاس افغانستان: جیل پر طالبان کا حملہ24 September, 2005 | آس پاس ہلاکتوں پرطالبان کی مذمت 20 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||