ہلاکتوں پرطالبان کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی افغانستان میں کئی ہزار افغانیوں نے شدت پسند طالبان کی کارروائیوں کی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیاہے۔ اس احتجاج کا شعلہ مشتبہ طالبان کے ہاتھوں گزشتہ جمعہ کو خوست میں ایک ممتاز عالم دین کی ہلاکت کے بعد بھڑکا ہے۔ ملا محمد خان اس وقت ہلاک ہوئے جب اس مسجد میں جمعہ کی نماز کے وقت بم کا دھماکہ ہوا تھا جس میں وہ نماز پڑھاتے تھے۔ اس کے بعد سے دوسرے دو صوبوں میں بھی دو علماء کو قتل کیا گیا۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ مظاہرے میں لوگوں کی شرکت منتظمین کو توقعات کے بر خلاف بہت کم تھی۔ مقامی حکومتی دفتر کے منتظمین اس مظاہرے میں پچاس ہزار لوگوں کی شرکت کی توقع کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے منظم کیے جانے والے اس مظاہرے میں چار سے پانچ ہزار لوگ شریک ہوئے۔ وسطی خوست میں مارچ کرتے ہوئے ان مظاہریں نے ’دہشت گردی کی موت‘ کے نعرے لگائے۔ مظاہرین کے اس اجتماع میں قبائلی رہنما اور سکولوں کے بچے بھی شامل تھے۔ احتجاج میں شریک لوگوں میں کچھ نے مختلف نعروں پر مشتمل بینر بھی اٹھا رکھے تھے جن پر القاعدہ اور طالبان کی موت کا نعرہ لکھا ہوا تھا۔ اس سال اب تک طالبان پر افغانستان میں بارہ سو سب افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||