آٹھ مشتبہ طالبان مزاحمت کار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں امریکی اور افغان فوجوں کے درمیان ایک طویل جھڑپ میں آٹھ مشتبہ طالبان مزاحمت کار ہلاک ہوگئے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ صوبہ زابل میں مزاحمت کاروں کے خلاف جاری مسلح آپریشن کا ایک حصہ تھی۔ ان مزاحمت کاروں کوسابق طالبان حکومت کا وفادار کہا جاتا تھا۔ ستمبر میں افغانستان کی پارلیمان کےانتخابات متوقع ہیں اور اس کے بعد سے باغیوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کے حامی مذہبی رہنماؤں اور حکام کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی بڑھ چکا ہے۔ افغان پولیس کمانڈر غلام رسول ا کا نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس جھڑپ کے دوران آٹھ طالبان ہلاک اور تین دوسرے گرفتار ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس جھڑپ میں ایک افغان فوجی بھی زخمی ہوا ہے۔ پولیس کےمطابق افغانستان کےشمالی شہر مزار شریف میں اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والے ایک امیدوار عمر سیفی پرمسلحہ حملہ کیا گیا۔ وہ اس حملےمیں بال بال بچے۔ حملہ آور نے عمر پراس وقت گولیاں برسائیں جب وہ ایک ہجوم کے ساتھ چل رہے تھے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ارزگان اور کونار صوبوں سمیت جنوبی افغانستان کے کچھ حصوں میں امریکی اور افغان حکام پر مزاحمت کاروں کی جانب سے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ’ہمیں توقع ہے کہ ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل مزاحمت کاروں کی جانب سے حملوں میں تیزی آئے گی‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||