افغان قیدیوں کی بتدریج حوالگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ افغانستان میں قائم فوجی اڈوں پر قید افغان قیدیوں کو بتدریج افغان حکام کے حوالے کر دے گا۔ امریکی سفارت خانے کے ترجمان لو فنٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تبادلہ اس وقت شروع ہوگا جب افغان نظام اس قابل ہو جائے گا کہ وہ قیدیوں کو سنبھال سکے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ قیدیوں کی دیکھ بھال کے سلسلے میں افغان حکام کی مدد بھی کرے گا۔ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ سینیئر امریکی حکام کے تین روزہ دورہ افغانستان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے پر مئی میں افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی صدر بش کی ملاقات میں بات چیت بھی ہوئی تھی۔ امریکہ اور افغانستان کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ افغانستان واپس آنے والے افغان شہریوں کی ذمہ داری قبول کرے گی اور اس بات کی یقین دہانی کروائے گی کہ وہ افغانستان، اتحادی افواج، اور بین الاقوامی آبادی کے لیے خطرہ ثابت نہ ہوں۔ 2001 میں افغانستان پر امریکی فوجی ایکشن کے بعد سے 110 افغان باشندوں کو گوا نتانامو بے بھیجا گیا ہے جبکہ 350 کے قریب افغانی بگرام ائر بیس پر قید ہیں۔ افغانستان میں گوانتانامو بے اور بگرام میں قید افراد کی رہائی کے لیے مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ جولائی میں امریکی فوج نے بگرام میں قید چھ افغان باشندوں کو پر تشدد مظاہروں کے بعد مقامی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ مئی کے مہینے میں امریکی جریدے نیوزویک میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی خبر چھپنے کے بعد افغانستان میں امریکہ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||