BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 August, 2005, 07:05 GMT 12:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان قیدیوں کی بتدریج حوالگی
 افغان باشندے
110 افغان باشندے گوا نتانامو بے میں قید ہیں
امریکہ افغانستان میں قائم فوجی اڈوں پر قید افغان قیدیوں کو بتدریج افغان حکام کے حوالے کر دے گا۔

امریکی سفارت خانے کے ترجمان لو فنٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تبادلہ اس وقت شروع ہوگا جب افغان نظام اس قابل ہو جائے گا کہ وہ قیدیوں کو سنبھال سکے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ قیدیوں کی دیکھ بھال کے سلسلے میں افغان حکام کی مدد بھی کرے گا۔

قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ سینیئر امریکی حکام کے تین روزہ دورہ افغانستان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے پر مئی میں افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی صدر بش کی ملاقات میں بات چیت بھی ہوئی تھی۔

امریکہ اور افغانستان کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ افغانستان واپس آنے والے افغان شہریوں کی ذمہ داری قبول کرے گی اور اس بات کی یقین دہانی کروائے گی کہ وہ افغانستان، اتحادی افواج، اور بین الاقوامی آبادی کے لیے خطرہ ثابت نہ ہوں۔

2001 میں افغانستان پر امریکی فوجی ایکشن کے بعد سے 110 افغان باشندوں کو گوا نتانامو بے بھیجا گیا ہے جبکہ 350 کے قریب افغانی بگرام ائر بیس پر قید ہیں۔

افغانستان میں گوانتانامو بے اور بگرام میں قید افراد کی رہائی کے لیے مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ جولائی میں امریکی فوج نے بگرام میں قید چھ افغان باشندوں کو پر تشدد مظاہروں کے بعد مقامی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

مئی کے مہینے میں امریکی جریدے نیوزویک میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی خبر چھپنے کے بعد افغانستان میں امریکہ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد