اسُی افغان قیدی رہا: امریکی فوج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے لگ بھگ اسُی قیدیوں کو رہا کردیا ہے جو دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے افغانستان میں قید تھے۔ صدر حامد کرزئی کے ایک ترجمان نے کہا کہ رہائی کے بعد ان قیدیوں کو بگرام کے امریکی اڈے سے کابل منتقل کردیا گیا ہے۔ یہ سبھی افراد افغان شہری ہیں۔ گزشتہ سال کے اختتام پر افغانستان میں اتحادی افواج کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ڈیوِڈ بارنو نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکہ اڈوں پر قید کئی مشتبہ شدت پسندوں کو جلد رہا کردیا جائے گا۔ ان قیدیوں کو بگرام سے کابل میں سپریم کورٹ لایا گیا جہاں سے حکام نے انہیں بس ٹرمینل تک پہنچایا تاکہ وہاں سے وہ گھر واپسی کا سفر شروع کرسکیں۔ افغانستان میں بگرام اور قندھار کے امریکی فوجی اڈوں پر پانچ سو سے زائد مشتبہ طالبان قید میں ہیں۔ حقوق انسانی کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے امریکی اہلکاروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کررہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے امریکی فوج سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں واقع اپنے حراستی مراکز کے بارے میں اپنی داخلی رپورٹ جلد شائع کرے جس میں تاخیر ہوئی ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ سن دو ہزار دو سے افغانستان میں امریکی قید میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||