’افغان فوجی ہلاک نہیں ہوئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ پر مشتمل ایک سہہ فریقی کمیشن پاک افغان سرحد پر گزشتہ دنوں فائرنگ کے تبادلے کے واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے۔ افغان حکام نے اس تصادم میں پندرہ فوجیوں کی ہلاکت کی خبر کی بھی تردید کی ہے۔ پشاور میں افغانستان کے کونسل جنرل حاجی عبدالخالق نے بی بی سی سے بات چیت میں منگل کے روز پاکستانی اور افغان سرحدی محافظوں کے درمیان جھڑپ کو معمولی واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستانی اخبارات میں چھپنے والی ان خبروں پر افسوس کا اظہار کیا جن میں پندرہ فوجیوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان دستوں کو کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام شمالی وزیرستان میں سرحد پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اس کے تنائج جلد سامنے آجائیں گے۔ افغان کونسل جنرل حاجی عبدالخالق کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا میں پندرہ افغان فوجیوں کے ہلاک اور کئی کے زخمی ہونے کی خبر مکمل طور پر غلط ہے۔ انہوں نے کہا: ’میری پاکستانی میڈیا سے خصوصی اپیل ہے کہ وہ بے بنیاد خبریں شائع نہ کریں۔ اس واقعہ کو زیادہ ہوا نہ دیں‘۔ کونسل جنرل نے ذرائع ابلاغ سے توقع کی کہ وہ ایسے چھوٹے حادثوں کو جوکہ ایک گھر میں بھی ہوتے رہتے ہیں زیادہ توجہ نہ دیں جن سے دونوں ممالک کے عوام کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔ شمالی وزیرستان میں گزشتہ دنوں سرحدی گاؤں غلام خان کلی کے قریب بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوسی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا اور اس کے ملبہ پر دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھگڑا پیدا ہوگیا تھا۔ افغان سرحد سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک پاکستانی سپاہی ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔ دوسرے روز پاکستان کے مختلف اخبارات نے اس جھڑپ میں پندرہ افغان فوجیوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||