وطن تو ماں کی طرح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قندھار شہر کے علاقے ہرات دروازے کے ایک ریسٹورنٹ میں کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے عمر سے میں سیاسی حالات پر گپ شپ کر رہا تھا۔ ایک بچہ داخل ہوا تو عمر نے اس سے پشتو میں پوچھا: ’تم اتنی جلدی پڑھ کر آگئے؟‘ بچے نےکہا: ’مجھے سبق یاد ہوگیا اس لیے جلدی چھٹی مل گئی۔‘ یہ عمر کا سات سالہ بیٹا نجیب تھا جو انگریزی کی ٹیوشن لے کر آیا تھا۔ عمر کا کہنا ہے کہ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے، اس کے بغیر کام نہیں چلتا اور چونکہ سکول میں فارسی اور پشتو پڑھائی جاتی ہے اس لیے وہ اپنے بچوں کو ایک پرائیوٹ ٹیچر کے پاس بھیجتے ہیں۔ نجیب سے میں نے پوچھا کہ اپنا سبق سنائے تو اس نے فرفر پہلے انگریزی پڑھی اور ساتھ اس کا پشتو ترجمہ سنایا۔ نجیب کو بڑی اچھی اردو آتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کوئٹہ میں پیدا ہوا اور ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ مگر وہ قندھار میں خوش ہے۔ میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگا: ’یہ اپنا وطن ہے، میں پاکستان میں پیدا ہوا ہوں مگر میرے ابو یہاں پیدا ہوئے ہیں۔‘ نجیب پتنگ اڑاتا ہے اور ٹی وی دیکھتا ہے۔ اسے جیت، جال اور تیرے نام جیسی فلمیں پسند ہیں۔ میں نے پوچھا ایکٹر کون سا پسند ہے تو کہا ’سلمان خان‘۔ میں نے پوچھا ہیروئن، کہا ’وہ بھی سلمان خان‘! حکمت اللہ، نجیب اللہ کا بڑا بھائی ہے۔ وہ کوئٹہ میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا لیکن قندھار میں اسے دوسری جماعت میں داخلہ ملا کیونکہ اس نے کوئٹہ میں ارود میں تعلیم حاصل کی تھی جبکہ افغانستان میں ذریعہ تعلیم فارسی اور پشتو ہے۔ حکمت اللہ کو بھی فلمیں دیکھنےکا شوق ہے۔ اس کا پسندیدہ ہیرو بھی سنی دیول ہے اور ہیروئن بھی سنی دیول! حکمت کو پشتو اور اردو گانے بھی اچھے لگتے ہیں۔ اس نے گانا سنایا: ’جانِ من چپکے چپکے ساری دنیا سے چھپ کے۔۔۔‘ ان بچوں کے والد عمر کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے بچوں کے فلمیں دیکھنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ عمر کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے افغانستان سے ہجرت کی وہ کچھ نہ کچھ سیکھ کر اپنے ساتھ لائے مگر جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی ان میں تمیز نہیں ہے۔ عمر اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول افغانستان کو ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ عمر نے جوانی میں ہجرت کی، پاکستان میں شادی ہوئی، وہیں بچے پیدا ہوئے۔ لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ افغانستان میں حالات بہتر ہیں تو وطن لوٹ آئے۔ عمر کا کہنا ہے کہ وطن تو ماں کی طرح ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||