BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرے بھی کچھ خواب ہیں‘

نازیہ بشیر
نازیہ بشیر
نازیہ بشیر اسلام آباد میں ایک پٹرول پمپ پر کام کرتی ہیں۔ وہ ان چند باہمت لڑکیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ایک ایسے شعبے کا انتخاب کیا جس پر ہمیشہ مردوں کی حکمرانی رہی ہے۔ آپ کی آواز کے صفحے کے لیے انہوں نے اپنی کہانی محمد اشتیاق کو سنائی۔ اگر آپ بھی اپنی کہانی ہمیں سنانا چاہیں تو لکھ بھیجیں۔

میرا نام نازیہ بشیر ہے اور میری عمر تیئیس سال ہے۔ میں پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سےگریجویشن (بی اے) کر رہی ہوں۔

اس فلنگ سٹیشن پر کام کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹے سے پرائیوٹ سکول میں پڑھاتی تھی۔ میری خواہش تو تھی کہ میں پڑھاتی رہتی اور ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھتی کیونکہ ٹیچنگ کو بہت قابل احترام سمجھا جاتا ہے لیکن مجھے اس سے تنخواہ بس برائے نام ہی ملتی تھی۔ بڑی مشکل سے ہمارے گھر کا خرچ چلتا تھا۔

میری تین بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ وہ سب شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔ میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہوں اور میری ملازمت ہی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔

کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود میری یہ کوشش تھی کہ کوئی ایسا کام کروں جو کچھ نیا سا ہو، ظاہر سی بات ہے کہ ہر ایک کے خواب ہوتے ہیں اور میرے بھی کچھ خواب تھے بلکہ اب بھی ہیں۔ پھر میں نے ایک دن اخبار میں ایک اشتہار پڑھا کہ ایک خاتون کی فلنگ شٹیشن پر ضرورت ہے۔

اس سے پہلے میں نے کسی فلنگ سٹیشن پر کسی خاتون کو کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اس لیے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ ملازمت کے لیے درخواست دینے سے پہلے میں نے اپنے والد سے مشورہ کیا تو انہوں نے میری ہمت بندھائی جس سے مجھے کچھ حوصلہ ہوا۔

انٹرویو کے بعد مجھے یہ ملازمت مل گئی۔ پہلے کچھ دن تو عجیب لگا کیونکہ یہ ایک مختلف دنیا تھی اور میری گاڑیوں کے بارے میں معلومات بھی بہت کم تھیں لیکن اب میں نے سب کاموں کو سمجھ لیا ہے اور اب میں یہاں سارے کام کر لیتی ہوں۔

میرے بھی ہیں کچھ خواب
 کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود میری یہ کوشش تھی کہ کوئی ایسا کام کروں جو کچھ نیا سا ہو، ظاہر سی بات ہے کہ ہر ایک کے خواب ہوتے ہیں اور میرے بھی کچھ خواب تھے بلکہ اب بھی ہیں۔

میں گاڑیوں میں پٹرول بھی بھرتی ہوں، اُنکے شیشے بھی صاف کرتی ہوں، کیش بھی وصول کرتی ہوں اور جو کام کہا جائے اُس کے لیے تیار رہتی ہوں۔

مجھے یہاں کام کرتے ہوئے تقریباً پانچ ماہ ہو گئے ہیں لیکن کبھی کوئی مشکل نہیں ہوئی اور اسی کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اسلام آباد کے زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہیں اور اکثر غیر ملکی بھی ہمارے فلنگ سٹیشن پر آتے ہیں۔ کبھی کسی نے مجھے حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔

مجھے میری پڑھائی کا بہت فائدہ ہوا۔ اکثر غیر ملکی لوگ جو یہاں آتے ہیں، مجھے اُن سے انگریزی میں بات کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور میں تو یہ کہوں گی کہ میں اس طرح مزید انگریزی سیکھ رہی ہوں۔

خواتین کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد میں گاڑیاں چلاتی ہے اور اُن میں سے کافی تعداد میں خواتین اپنی گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانے یا اپنی گاڑی دھلوانے کے لیے یہاں آتی ہیں۔ عورت ہونے کی وجہ سے اُنکو مجھے سے بات جیت کرنے میں آسانی رہتی ہے اور وہ اپنی شکایات بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مجھ سے بیان کر دیتی ہیں جو شاید اُن کے لیے ایک مرد سٹاف کو بتانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس طرح میں اپنی انتظامیہ کو خواتین کی شکایات سے آگاہ کرتی رہتی ہوں۔

میں یہاں صبح نو بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک کام کرتی ہوں اور اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اتنے پیسے مل جاتے ہیں کہ نہ صرف میرے اور میرے ماں باپ کے اخراجات پورے ہو رہے ہیں بلکہ میں نے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

میں نے جو کچھ اس ملازمت کے دوران سکیھا ہے وہ میرے لیے بہت اہم ہے۔دنیا کا کوئی بھی کام انسان کو آگے بڑھنے سے نہیں روکتا، میں یہاں کام کرنے والے مردوں میں واحد عورت ہونے کے باوجود کبھی کسی کمپلکس کا شکار نہیں ہوئی، اور ان سب کامیابیوں کے پیچھے میرے والد کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اُن کی اجازت کے بغیر یہ سب کچھ میرے لیے ناممکن تھا۔

فلنگ سٹیشن پر کام کرنے کے باوجود میری آگے بڑھنے کی کوشش جاری ہے اور میں دوسروں کے لیے ایک مثال بننا چاہتی ہوں۔



نازیہ بشیر کی کہانی پر ہمارے کئی قارئین نے اپنی آراء بھیجیں۔ ان کا ایک انتخاب یہاں دیا جا رہا ہے۔


افتخار رانا، دبئی:
اگر نازیہ جیسی ہمت سب لڑکیوں میں ہو تو ہمارا ملک یقیناً بےروزگاری پر قابو پا لے گا۔ ہمیں ایسے معاملات میں لڑکیوں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔

عطا محمد مہر، ابو ظبی، عرب امارات:
بہت خوب۔

عامر اکرام، ہینوور، امریکہ:
جی چاہتا آپ جیسی باہمت لڑکیاں پاکستان میں زیادہ سے زیادہ ہوں۔

عمران، سیالکوٹ، پاکستان:
نازیہ نے ثابت کر دیا ہے کہ آج بھی قوم کی بیٹیوں میں نئے چیلنجوں کا سامنے کی ہمت موجود ہے۔

فیصل رضا، کراچی، پاکستان:
ہمیں نازیہ جیسی لڑکیوں پر فخر ہے لیکن میرا خیال ہے کہ یہ ہماری حکومت کے بھی لمحہِ فکریہ ہونا چاہیے کہ اب قوم کی بیٹیوں کو بھی وہ کام کرنے پڑ رہے ہیں جو ان کے لیے مناسب نہیں سمجھے جاتے۔

سچی لگن
 زندگی بنائی جا سکتی ہے بشرطیکہ محنت اورلگن سے کام کیا جائے اور اپنی انا کو اپنے راستے کی دیوار نہ بننے دیا جائے۔واقعی سچی لگن انسان کو ہر طرح کے خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔
محمد تیمورخان، اسلام آباد

آصف سید، الہد، بحرین:
اس میں کوئی شک نہیں کہ نازیہ بشیر ایک باہمت اور عظیم لڑکی ہیں۔ میری لوگوں سے گذارش ہے کہ ایسے محنتی جوانوں کی خوب حوصلہ افزائی کریں تا کہ وہ اپنی منزلیں حاصل کر سکیں۔

سجاد، ہیلی فیکس، کینیڈا:
نازیہ آپ بہت ہمت والی ہیں، اللہ کرے آپ زندگی میں وہ حاصل کریں جو آپ کی خواہش ہے۔ آپ کی طرح کئی ایک نوجوان لڑکے اور لڑکیاں معاشرے میں ایک باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے محنت کریں رہے ہیں، ہم سب کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ ایسے نوجوانوں کا ساتھ دیں۔

طاہراعظم، سپین:
بہت خوب نازیہ جی۔

ریاض الھارون، عارف والا، پاکستان:
جو چیز مجھے سب سے اچھی لگی ہے وہ لوگوں کا رویہ ہے کیونکہ بقول نازیہ کے لوگ بہت تعاون کرتے ہیں ورنہ ہمارے ماشرے میں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے لڑکیوں کو ملازمتوں میں صرف شو پیس کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ نازیہ باقی لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔

افتخار علوی، امریکہ:
بہت خوب، وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں عام گھرانوں کی لڑکیاں مردوں کے شانہ بشانہ فخر کے ساتھ کام کر سکیں گی۔

یاسر خان، انقرہ، ترکی:
بہن اللہ آپ کو ہمت دے اور آپ کی ہر تمنا پوری کرے۔ آمین۔

محمد تیمورخان، اسلام آباد، پاکستان:
نازیہ آپ کی کہانی محض کہانی نہیں بلکہ تمام نوجوانوں کیے لیے یہ پیغام ہے کہ زندگی بنائی جا سکتی ہے بشرطیکہ محنت اورلگن سے کام کیا جائے اور اپنی انا کو اپنے راستے کی دیوار نہ بننے دیا جائے۔واقعی سچی لگن انسان کو ہر طرح کے خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔

عبدل خان، کراچی، پاکستان:
مجھے یقین ہے آپ کے والد صاحب کو آپ پر بہت فخر ہو گا۔

فرخ عظیم ملک، ملتان، پاکستان:
واقعی خدا ان کی مدد ضرور کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ میری نیک خواہشات اور دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

مومنہ عروج، مشیگن، امریکہ:
بہت خوب، امریکہ اسی لیے کامیاب ملک ہے کہ یہاں لڑکیوں کو بھی انسان سمجھا جاتا ہے۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اب بھی پاکستان کے بیشتر شہروں میں لڑکی نوکری کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو اسے جان ہتھیلی پر رکھنا پڑتی ہے۔

رانا ناصر خان، آکلینڈ، نیوزی لینڈ:
آپ نےپٹرول پمپ پر کام کر کے ’دیوار برلن‘ کوگرا دیا ہے۔مردوں کے معاشرے میں آپ کا حوصلہ قابلِ داد ہے۔ ہم مسلمان لوگ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے نہیں تھکتے لیکن ان کو کبھی بھی مردوں کے برابر حقوق نہیں دیتے۔ بہرحال، آپ کو گڈ لک۔

بدر عربی، اونٹاریو، کینیڈا:
نازیہ بشیر کو میرا پیغام یہ ہے کہ وہ ایمانداری سے محنت کرتی رہے۔ انشاءاللہ ایک دن اسے ضرور کامیابی ملے گی۔

عابد رحمٰن، جاپان:
میں چودہ سال سے جاپان میں رہ رہا ہوں۔ جب بھی پاکستان جاتا ہوں دکھ ہوتا ہے لڑکیوں کو دیکھ کر۔ ان پر کتنا ظلم ہوتا ہے، ان کی اپنی کوئی مرضی نہیں اور ان کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اللہ سے دعا ہے کہ نازیہ جیسی لڑکیاں ہر گھر میں پیدا ہوں اور نازیہ کے والد صاحب کی طرح سب کے دل صاف ہوں۔ آپ کو اندازہ نہیں یہ کہانی پڑھ کر میں کس قدر خوش ہوں۔ بہت شکریہ بی بی سی۔

سلیم جاوید، راولپنڈی، پاکستان:
بہت خوب نازیہ، ہمیں آپ پر فخر ہے۔

شازیہ عندلیب، منڈی بہاوالدین، پاکستان:
زبردست۔

طیب اطہر، پاکستان:
ہمیں نازیہ جیسی لڑکیوں کی قدر کرنی چاہیے۔ ہمارے ہاں ایسی لڑکیاں ملتی کہاں ہیں۔

ابو محسن میاں، سرگودھا، پاکستان:
اللہ آپ کو ہمت دے۔

عمران خان، ایتھنز، یونان:
آپ زبردست کام کر رہی ہیں۔ مجھے آپ کی کہانی پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد