’کٹھن دنوں سے میں ہارا نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا نام صابر مسیح ہے میری عمر ستائیس سال ہے اور میرا تعلق گجرانوالہ کی کرسچن کمیونٹی سے ہے۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور ہم میں سے تین نابینا ہیں۔ میری رہائش کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی کی ہے۔ فخر کی بات یہ ہے کہ ہم سب تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہمارے والدین سڑک پر صفائی کا کام کرتےہیں لیکن اس پیشے نے کبھی ہمیں شرمسار نہیں کیا۔ میں نے حال ہی میں کراچی یونیورسٹی سے اقلیتوں کے سماجی و معاشی مسائل پر اپنا پی ایچ ڈی کا فائنل تھیسس جمع کرایا ہے۔
یہ پہلی بار ہو گا کہ کسی اقلیتی کمیونٹی سے اقلیتوں کے سماجی و معاشی مسائل پر ریسرچ کے بعد ایسا تھیسس جمع کرایا گیا ہو۔ اقلیتوں پر اب تک جتنا بھی کام ہوا ہے وہ ان کے انسانی حقوق کے حوالے سے ہوا ہے۔ جہاں تک سوال ہے کہ میں نے اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کا فیصلہ کیوں کیا تو یہ فیصلہ فوری طور پر نہیں کیا بلکہ یہ سوچ تو اس وقت سے ذہن میں پل رہی تھی کہ جب سے میں نے آنکھ کھول کر اپنے ارد گرد کے ماحول کو محسوس کرنا شروع کیا۔ مجھ میں ہمیشہ آگے بڑھنے اور زندگی کو کارآمد بنانے کی لگن تھی۔اور اسی لگن کو سب سے پہلے میری نن مس روز میری نے بھانپا ، جس کے بعد انہوں نے مجھے اوکاڑہ کے سکول فار بلائنڈ چلڈرن میں داخل کر وا دیا۔ یوں سات برس کی عمر میں میں اوکاڑہ چلا گیا اور پھر میٹرک کے بعد یہاں کراچی لوٹا۔ اس دوران شعور کی آنکھ مزید بیدار ہو چکی تھی۔ صرف ایسا ہی نہیں تھا کے مجھے اپنے گھر کے سماجی و معاشی حلات کی پرواہ تھی بلکہ پرواہ تھی تو اس بات کی کہ آخر ہماری کرسچن کمیونٹی کے اس قدر پسماندہ ہونے کی وجہ کیا ہے۔ خاص کر جب میں نویں اور دسویں جماعت کے دور سے گزر رہا تھا تو میرے تمام دوست کہا کرتے تھے کہ ہم ڈاکٹر یا انجینئر بنیں گے۔ میں سوچا کرتا تھا کہ میں کیا کروں گا؟ صرف اسی لیے نہیں کہ میرا سماجی و معاشی سٹیٹس کمزور تھا بلکہ اس لیے کہ میں اپنی بینائی کے بارے میں سوچ کر بھی اکثر مایوس ہو جایا کرتا تھا۔ لیکن ہمت نہیں ہاری۔
اسی دوران کالج شروع ہوا یہ وہ دور تھا جب نیلسن منڈیلا کی مہم اپنے زوروں پر تھی۔ میں ان کی تقاریر کا ترجمہ اپنے ٹیچر سے فرمائش کر کے سنا کرتا تھا اور میرے لیے یہ بڑی انسپریشن تھی۔ تب مجھے پتہ چلا کہ میں بھی ڈاکٹر بن سکتا ہوں خواہ ایک مختلف طرح کا ہی سہی۔ پڑھائی کے دوران کے مسائل کا ذکر کہاں سے شروع کروں۔ سکول و کالج آنے جانے کی مشکلات سے یا کتابوں کو خود بریل میں لکھنے سے۔ بس اتنا ہی کہ کٹھن دنوں سے میں ہارا نہیں۔ کالج کے دنوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ ہم کل سینتیس لڑکے تھے جو کرسچن اقلیت سے تعلق رکھتے تھے مگر مستقبل میں کچھ کر جانے کی لگن صرف تین میں تھی۔ باقی حالات کے حساب سے وقت اور قسمت کا تعین کرتے ملے۔ مجھے احساس ہوا کہ ہماری کمیونٹی میں رہنمائی کا فقدان ہے۔ جو ہے وہ گوئن یا اینگلوسیکسنز کو حاصل ہے اور ہم پنجابی کرسچنز خسارے کا شکار ہیں۔ چونکہ اینگلو سیکسکنز یا گوئن کمیونٹی ہمیشہ پڑھی لکھی رہی ہے اسی لیے حکومت بھی انہی کو سہولیات دیتی رہی۔
یہ احساس بڑھتا گیا کہ معاشرے میں پنجابی کرسچن اقلیت کس طرح اپنی سوشیو اکنامک صورتحال سے نمٹ رہی ہے سو اسی کو آگے بڑھا کر میں نے اقلیتوں کی سماجی و معاشی صورتحال کو اپنے پی ایچ ڈی تھیسس کے لیے چنا۔ کراچی یونیورسٹی نے اس سلسلے میں تعاون کیا۔ میرے مضمون میں دلچسپی کو سراہا اور آنے جانے کے لیے مجھے گاڑی کی سہولت بھی فراہم کی۔ بہر حال تھیسس جمع کرا دیا ہے۔ نوکری ملنے کا انتظار ہے میری ہمت و حوصلہ مجتمع ہیں اور یہ کوشش جاری رہے گی۔ نوٹ: صابر مسیح نے کراچی میں بی بی سی کے دفتر میں یہ گفتگو ہماری ساتھی عروج جعفری سے کی۔ صابر مسیح کی کہانی پر ہمارے کئی قارئین نے اپنی آراء بھیجیں۔ ان کا ایک انتخاب یہاں دیا جا رہا ہے۔ محمد محسن جاوید، کینیڈا: ہمتِ مرداں، مددِ خدا، صابر آپ ہیلن کیلر سے کم نہیں ہیں۔ خدا کرے خوش قسمتی تمہارے قدم چومے۔ اکبر ملک، اسلام آباد: فیصل زمان، جرمنی: رانا ناصر خان، آکلینڈ، نیوزی لینڈ: سید عتیق احمد، کراچی، پاکستان: محمد کامران، پاکستان: سید شبار رضا رضوی، اسام آباد، پاکستان: مرزا محمد کاشف، جاپان:
محمد اقبال، میلان، اٹلی: خالد سرور، شکاگو، امریکہ: عبدالصمد، اوسلو، ناروے: ڈاکٹر الطاف حسین بوک، اٹلی: سرفرازاحمد، تھورن کلف، کینیڈا: خرم رحمٰن، اونٹاریو، کینیڈا: شاہد منیر حسین، کویت: محمد سلیم ہاشمی، سرگودھا، پاکستان :
جیسپر غوری، ٹورانٹو، کینیڈا: ندا عباس، ٹوراٹو، کینیڈا: مبشر احمد، لندن، برطانیہ: ظہیرلاشاری، لاہور، پاکستان: محمد کاشان حبیب، کراچی، پاکستان : دلیپ دھرانی، کراچی، پاکستان : خالد خان، ٹیکساس، امریکہ: عاطف محمود، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان: وجاہت فیروز، ٹورانٹو، کینیڈا: مظاہرشاہ، پشاور، پاکستان : |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||