BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 October, 2004, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کٹھن دنوں سے میں ہارا نہیں‘

صابر مسیح
صابر مسیح
میرا نام صابر مسیح ہے میری عمر ستائیس سال ہے اور میرا تعلق گجرانوالہ کی کرسچن کمیونٹی سے ہے۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور ہم میں سے تین نابینا ہیں۔ میری رہائش کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی کی ہے۔

فخر کی بات یہ ہے کہ ہم سب تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہمارے والدین سڑک پر صفائی کا کام کرتےہیں لیکن اس پیشے نے کبھی ہمیں شرمسار نہیں کیا۔ میں نے حال ہی میں کراچی یونیورسٹی سے اقلیتوں کے سماجی و معاشی مسائل پر اپنا پی ایچ ڈی کا فائنل تھیسس جمع کرایا ہے۔

محنت کی عظمت
 ہمارے والدین سڑک پر صفائی کا کام کرتےہیں لیکن اس پیشے نے کبھی ہمیں شرمسار نہیں کیا۔

یہ پہلی بار ہو گا کہ کسی اقلیتی کمیونٹی سے اقلیتوں کے سماجی و معاشی مسائل پر ریسرچ کے بعد ایسا تھیسس جمع کرایا گیا ہو۔ اقلیتوں پر اب تک جتنا بھی کام ہوا ہے وہ ان کے انسانی حقوق کے حوالے سے ہوا ہے۔

جہاں تک سوال ہے کہ میں نے اسی مضمون میں پی ایچ ڈی کا فیصلہ کیوں کیا تو یہ فیصلہ فوری طور پر نہیں کیا بلکہ یہ سوچ تو اس وقت سے ذہن میں پل رہی تھی کہ جب سے میں نے آنکھ کھول کر اپنے ارد گرد کے ماحول کو محسوس کرنا شروع کیا۔

مجھ میں ہمیشہ آگے بڑھنے اور زندگی کو کارآمد بنانے کی لگن تھی۔اور اسی لگن کو سب سے پہلے میری نن مس روز میری نے بھانپا ، جس کے بعد انہوں نے مجھے اوکاڑہ کے سکول فار بلائنڈ چلڈرن میں داخل کر وا دیا۔ یوں سات برس کی عمر میں میں اوکاڑہ چلا گیا اور پھر میٹرک کے بعد یہاں کراچی لوٹا۔ اس دوران شعور کی آنکھ مزید بیدار ہو چکی تھی۔

صرف ایسا ہی نہیں تھا کے مجھے اپنے گھر کے سماجی و معاشی حلات کی پرواہ تھی بلکہ پرواہ تھی تو اس بات کی کہ آخر ہماری کرسچن کمیونٹی کے اس قدر پسماندہ ہونے کی وجہ کیا ہے۔

خاص کر جب میں نویں اور دسویں جماعت کے دور سے گزر رہا تھا تو میرے تمام دوست کہا کرتے تھے کہ ہم ڈاکٹر یا انجینئر بنیں گے۔ میں سوچا کرتا تھا کہ میں کیا کروں گا؟ صرف اسی لیے نہیں کہ میرا سماجی و معاشی سٹیٹس کمزور تھا بلکہ اس لیے کہ میں اپنی بینائی کے بارے میں سوچ کر بھی اکثر مایوس ہو جایا کرتا تھا۔ لیکن ہمت نہیں ہاری۔

میں کیا بنوں گا؟
 میرے تمام دوست کہا کرتے تھے کہ ہم ڈاکٹر یا انجینئر بنیں گے۔ میں سوچا کرتا تھا کہ میں کیا کروں گا؟ صرف اسی لیے نہیں کہ میرا سماجی و معاشی سٹیٹس کمزور تھا بلکہ اس لیے کہ میں اپنی بینائی کے بارے میں سوچ کر بھی اکثر مایوس ہو جایا کرتا تھا۔

اسی دوران کالج شروع ہوا یہ وہ دور تھا جب نیلسن منڈیلا کی مہم اپنے زوروں پر تھی۔ میں ان کی تقاریر کا ترجمہ اپنے ٹیچر سے فرمائش کر کے سنا کرتا تھا اور میرے لیے یہ بڑی انسپریشن تھی۔ تب مجھے پتہ چلا کہ میں بھی ڈاکٹر بن سکتا ہوں خواہ ایک مختلف طرح کا ہی سہی۔

پڑھائی کے دوران کے مسائل کا ذکر کہاں سے شروع کروں۔ سکول و کالج آنے جانے کی مشکلات سے یا کتابوں کو خود بریل میں لکھنے سے۔ بس اتنا ہی کہ کٹھن دنوں سے میں ہارا نہیں۔

کالج کے دنوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ ہم کل سینتیس لڑکے تھے جو کرسچن اقلیت سے تعلق رکھتے تھے مگر مستقبل میں کچھ کر جانے کی لگن صرف تین میں تھی۔ باقی حالات کے حساب سے وقت اور قسمت کا تعین کرتے ملے۔

مجھے احساس ہوا کہ ہماری کمیونٹی میں رہنمائی کا فقدان ہے۔ جو ہے وہ گوئن یا اینگلوسیکسنز کو حاصل ہے اور ہم پنجابی کرسچنز خسارے کا شکار ہیں۔ چونکہ اینگلو سیکسکنز یا گوئن کمیونٹی ہمیشہ پڑھی لکھی رہی ہے اسی لیے حکومت بھی انہی کو سہولیات دیتی رہی۔

پنجابی کرسچنز
 ہماری کمیونٹی میں رہنمائی کا فقدان ہے۔ جو ہے وہ گوئن یا اینگلوسیکسنز کو حاصل ہے اور ہم پنجابی کرسچنز خسارے کا شکار ہیں۔

یہ احساس بڑھتا گیا کہ معاشرے میں پنجابی کرسچن اقلیت کس طرح اپنی سوشیو اکنامک صورتحال سے نمٹ رہی ہے سو اسی کو آگے بڑھا کر میں نے اقلیتوں کی سماجی و معاشی صورتحال کو اپنے پی ایچ ڈی تھیسس کے لیے چنا۔

کراچی یونیورسٹی نے اس سلسلے میں تعاون کیا۔ میرے مضمون میں دلچسپی کو سراہا اور آنے جانے کے لیے مجھے گاڑی کی سہولت بھی فراہم کی۔

بہر حال تھیسس جمع کرا دیا ہے۔ نوکری ملنے کا انتظار ہے میری ہمت و حوصلہ مجتمع ہیں اور یہ کوشش جاری رہے گی۔



نوٹ: صابر مسیح نے کراچی میں بی بی سی کے دفتر میں یہ گفتگو ہماری ساتھی عروج جعفری سے کی۔

صابر مسیح کی کہانی پر ہمارے کئی قارئین نے اپنی آراء بھیجیں۔ ان کا ایک انتخاب یہاں دیا جا رہا ہے۔



محمد محسن جاوید، کینیڈا:
ہمتِ مرداں، مددِ خدا، صابر آپ ہیلن کیلر سے کم نہیں ہیں۔ خدا کرے خوش قسمتی تمہارے قدم چومے۔

اکبر ملک، اسلام آباد:
زبردست صابر، آپ کی ہمت کی داد دیتے ہیں۔

فیصل زمان، جرمنی:
یہ ایک جدوجہد اور کامیابی کی زبردست داستان ہے۔ صابر ایک باہمت اور محترم شحض ہیں۔ ہم ہمیشہ دوسرے ممالک پر تنقید کرتے ہیں لیکن ہم خود اپنے پاکستانی اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ خاصا برا ہے۔ ان کو اور ان کے خاندان کو میری مبارک باد۔

رانا ناصر خان، آکلینڈ، نیوزی لینڈ:
میں آپ کے لیے یہی کہوں گا کہ عظیم لوگ ہی عظیم کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔

سید عتیق احمد، کراچی، پاکستان:
صابر صاحب آپ کو اپنے صبر کا خوب سلا ملا۔ میرا خیال آپ قائداعظم کے اصول کام کام اود صرف کام کی منہ بولتی تصویر ہیں۔

محمد کامران، پاکستان:
آپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ارادہ مضبوط ہو تو سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

سید شبار رضا رضوی، اسام آباد، پاکستان:
زبردست، آپ واقعی عظیم ہیں۔

مرزا محمد کاشف، جاپان:
صابر صاحب میں آپ کی ہمت کی داددیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کو اور بھی زیادہ کامیابی نصیب فرمائے۔

وڈیروں کی چھٹی
 آپ نے ان تمام پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں جو مسکین لوگوں کی اولاد ہیں۔اگر آپ جیسے لوگ اس طرح محنت کرتے رہے تو پاکستان سے وڈیروں کی جلد ہی چھٹی ہو جائے گی۔
الطاف حسین بوک، اٹلی

محمد اقبال، میلان، اٹلی:
صابر بھائی اللہ آپ کو کامیاب کرے۔ بھائی جہاں تک تعلق ہے حقوق غصب ہونے کا تو میں یہی کہوں گا کہ حقوق غصب کرنے والی ہماری نوکر شاہی ہے اور اس میں اکثریت یا اقلیت کا کوئی سوال نہیں ہے۔ پاکستان کو محمد علی جناح کے بعد مٹھی بھر لوگوں نے یرغمال بنا لیا ہے اور وہی گذشتہ چھپن سالوں سے ہم سب کا استحصال کر رہے ہیں۔

خالد سرور، شکاگو، امریکہ:
صابر ہمیں آپ پر فخر ہے۔ آپ دیگر سپیشل لوگوں کے لیےامید کا پیغام ہیں۔ دنیا کو آپ جیسے باہمت لوگوں کی ضرورت ہے۔

عبدالصمد، اوسلو، ناروے:
صابر صاحب نابینا اور پسماندہ علاقے سے تعلق ہونے کے باوجود آپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں جھاڑو لگانے کے لیے ہی پیدا نہیں ہوئیں۔

ڈاکٹر الطاف حسین بوک، اٹلی:
آپ نے ان تمام پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں جو مسکین لوگوں کی اولاد ہیں۔اگر آپ جیسے لوگ اس طرح محنت کرتے رہے تو پاکستان سے وڈیروں کی جلد ہی چھٹی ہو جائے گی۔

سرفرازاحمد، تھورن کلف، کینیڈا:
کام میں عظمت ہے اور صفائی کوئی بری بات نہیں۔ دوسرے ملکوں میں بےشمار مسلمان یہ کام کرتے ہیں، مگر پاکستان میں ان کو شرم آتی ہے۔ آپ کے آئندہ منصوبوں کے لیے ویری گڈ لک۔

خرم رحمٰن، اونٹاریو، کینیڈا:
میں صابر صاحب کی ہمت اور محنت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں بھی ایک امتحان میں فیل ہو گیا ہوں لیکن مجھے آپ کی باتوں سے بہت حوصلہ ملا ہے۔

شاہد منیر حسین، کویت:
صابر آپ واقعی صابر ہیں۔ اللہ تعالٰی آپ کی مدد کرے اور آپ کو بہت اچھی ملازمت ملے۔

محمد سلیم ہاشمی، سرگودھا، پاکستان :
اللہ آپ پر اپنی رحمت فرمائے۔

احساس
 مجھے زندگی میں پہلی بار احساس ہوا ہے میرے پاس بہت کچھ ہے اور میں اللہ کی نعمتوں کا بھرپور فائدہ اٹھا کر کچھ کر سکتی ہوں۔
ندا عباس، کینیڈا

جیسپر غوری، ٹورانٹو، کینیڈا:
صابر بھائی، آپ اور آپ کے خاندان کو بہت بہت مباک ہو۔

ندا عباس، ٹوراٹو، کینیڈا:
میں صابر کے جذبے کی قدر کرتی ہوں اور میں ان کی ہمت سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ مجھے زندگی میں پہلی بار احساس ہوا ہے میرے پاس بہت کچھ ہے اور میں اللہ کی نعمتوں کا بھرپور فائدہ اٹھا کر کچھ کر سکتی ہوں۔

مبشر احمد، لندن، برطانیہ:
صابر مسیح زندہ باد

ظہیرلاشاری، لاہور، پاکستان:
تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

محمد کاشان حبیب، کراچی، پاکستان :
ہمیں آپ پر فخر ہے اور دعا ہے کہ آپ کو ہر لمحہ کامیابی نصیب ہو۔

دلیپ دھرانی، کراچی، پاکستان :
صابر آپ ایک عظیم آدمی ہیں اور اللہ کرے آپ اپنا اور ملک کا نام مذید روشن کریں۔

خالد خان، ٹیکساس، امریکہ:
آپ نے زبردست کام کر دکھایا ہے۔ آپ کی کہانی ہمارے لیے حوصلے کا باعث بنی ہے اور یہ امید دلاتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیے ایک اچھا مستقبل ہے۔

عاطف محمود، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکستان:
بس تھوڑی اور ہمت کریں۔ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

وجاہت فیروز، ٹورانٹو، کینیڈا:
آپ واقعی ایک نفیس اور عظیم انسان ہیں۔ اللہ آپ کو مزید کامیابی دلائے۔ آپ جہاں بھی جائیں اپنے والدین اور اپنے ملک کو نہ بھولیے گا کیونکہ آپ جو کچھ بھی ہیں ان دونوں کی وجہ سے ہیں۔

مظاہرشاہ، پشاور، پاکستان :
میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں آپ کے حوصلے کی تعریف کر سکوں۔ میں صرف اتنا کہ سکتا ہوں کہ آپ نے زبردست کام کیا ہے اور میں آپ کی آئندہ کامیابی کے لیے دعاگو رہوں گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد