لباس امریکی، دل مسلمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ پچیس برسوں کے دوران افغان ایک انتہائی پُر آشوب دور سے گزرے ہیں۔ اس عرصے میں دو ملین سے زیادہ افغان ہلاک ہوئے، ایک ملین سے زیادہ معذور بنے اور تین ملین سے زیادہ افغانوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ ہر افغان ذہن پر اس عہد کے انمٹ نقوش ثبت ہیں۔ ان میں مسلمان، سکھ اور ہندو افغان شامل ہیں۔ ان افغانوں پر کیا گزری؟ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی اس نئ سیریز کی پہلی کہانی زابل کے رہنے والے نقیب اللہ کی ہے جو اپنے وطن میں اجنبی بن گیا تھا۔ نقیب جب پندرہ سال بعد اپنے وطن لوٹا تو گاؤں والوں کو اس کے سلام کے جواب میں وعلیکم کہنا بھی گوارا نہیں تھا۔ ’مجھے زابل آئے ہوئے ابھی چھ ماہ ہی ہوئے ہیں۔ میں پندرہ سال بعد پاکستان سے یہاں آیا ہوں۔ میری پیدائش یہیں کی ہے۔ میں بہت چھوٹا تھا کہ جنگ کی وجہ سے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت پر مجبور ہوگیا۔ میرا گھر کوئٹہ میں تھا اور میرے والد کا کاروبار بھی وہیں پر تھا۔ ’پندرہ سال بعد میں یہاں آیا تو مجھے بہت اچھا لگا۔ مگر یہاں کے لوگ بڑے عجیب ہیں۔ یہ پرانا زابل نہیں ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے لاتعلق ہیں۔ لوگ بس اسی کو مسلمان سمجھتے ہیں جس کی داڑھی ہو، پگڑی ہو اور سادہ لباس ہو۔ اگر یہ سب نہیں تو یہ لوگ آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ ’میں جب یہاں آیا تو یہ لوگ مجھے امریکی سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ میں ان کے لیے کام کرتا ہوں۔ جب میں کسی کو سلام کہتا تو وہ لوگ جواب میں وعلیکم سلام نہیں کہتے تھے۔ ’ایک دن میں نماز کے بعد مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ مُلاّ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے امریکیوں جیسی شکل بنا رکھی ہے تو میرے مسلمان ہونے کا کون یقین کرے گا۔ میں نے مُلاّ سے کہا کہ میں تو مسلمان ہوں۔ اس پر ملا نے کہا کہ تمہاری شکل میں مسلمانوں کی کوئی نشانی نہیں ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ خدا دل کا حال جانتا ہے اور میرا دل تو مسلمان ہے۔ مگر وہ کہنے لگا کہ نہیں مسلمانوں کی نشانی بھی ہونی چاہئے۔ ’میں نے مُلاّ سے پوچھا کہ اگر کوئی امریکی داڑھی رکھ لے اور پگڑی پہننا شروع کر دے تو کیا وہ مسلمان ہوجائے گا؟ مُلاّ نے کہا کہ نہیں۔ تو میں نے اس سے کہا کہ میرا لباس امریکی ہے مگر میرا دل مسلمان ہے۔ اس پر مُلاّ خاموش ہوگیا۔ ’پھر میں نے اپنا لباس بدل لیا۔ داڑھی رکھ لی، ٹوپی پہننے لگا، صدری بنوالی۔ اس کے بعد یہ لوگ مطمئن ہوگئے۔ ’مجھے تنہائی محسوس نہیں ہوتی۔ میں کتابیں پڑھتا ہوں۔ ایک آدھ دوست بھی بن گئے ہیں۔ اور پھر یہ میرا وطن ہے مجھے اچھا لگتا ہے۔ میں یہاں خوش ہوں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||