افغانستان میں نئی امریکی کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے افغانستان میں طالبان کے خلاف ایک اور بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں اٹھارہ ہزار فوجی حصہ لیں گے۔ یہ کارروائی افغانستان میں اگلے برس ہونے والے انتخابات سے پہلے شروع کی گئی ہے۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی جس کا نام ’آپریشن لائٹنگ فریڈم‘ رکھا گیا ہے گزشتہ ہفتے صدر حامد کرزئی کے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد شروع کی گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ کارروائی اس لیے بھی کی جا رہی ہے تاکہ طالبان کے شدت پسندوں کو اس بات کی ترغیب دی جائے کہ وہ حال ہی میں اعلان کردہ عام معافی کو قبول کر لیں اور غیر مسلح ہو جائیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اگلے برس پارلیمانی انتخابات کے لیے جو بہار کے موسم میں ہوں گے، سکیورٹی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کی رائے ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ یہ انتخابات اگلے سال موسمِ بہار کی بجائے موسمِ گرما میں ہی ہو سکیں گے۔ بی بی سی کے انڈریو نارتھ کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا نئی فوجی کارروائی کا مطلب افغانستان کے جنوب اور مشرق میں امریکی فوج کی حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی کرنا ہے۔ ان علاقوں میں طالبان کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ ایک بریفنگ میں امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ایک طرف شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی تو دوسری جانب امدادی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔ گزشتہ سال بھی امریکی فوج نے یہی پالیسی اپنا رکھی تھی۔ امریکی کمانڈروں کے مطابق عام معافی کا اعلان بھی بہتر نتائج پیدا کر رہا ہے۔ لیکن نامہ نگاروں کے مطابق اس کی کوئی ٹھوس اور واضح شہادت نہیں ملی۔ امریکی فوج کو امید ہے کہ کچھ عرصے کے بعد طالبان کی بغاوت ختم ہو جائے گی اور امریکی فوج کو واپس بلا لیا جائے گا تا کہ وہ عراق میں مدد فراہم کر سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||