چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبے ارزگان کے گورنر کا کہنا ہے کہ افغان اور امریکی فوجوں نے وسطی افغانستان میں کم از کم چالیس طالبان کو ہلاک کر دیا ہے۔ گورنر جان محمد خان کا کہنا تھا کہ یہ طالبان پیر کی رات ارزگان میں باغیوں کے ایک کیمپ پر امریکی اور افغان فوج کے مشترکہ حملے کے دوران ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں بھی اس حملے میں جانی نقصان اٹھانا پڑا لیکن طالبان کے چالیس سے پچاس فوجی بمباری اور فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں‘۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران اس نے پچیس مشتبہ طالبان فوجیوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس سے قبل پیر کوامریکی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایک امریکی ، ایک افغان فوجی اور گیارہ مشتبہ طالبان ارزگان کے ایک قصبے دہ راؤد میں ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں ستمبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور امریکہ طالبان، القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو ان حالات کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ پیر کو ہی کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ کابل شہر میں دو ماہ کے دوران پیش آنے والا ایسا پہلا واقعہ تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||