طالبان: قبائلی رہنما کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے قبائلی رہنما ملک آغا کو اغواء کر کے پھانسی دے دی ہے۔ زابل پولیس کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی کے حامی ملک آغا کو جمعہ کے روز اغواء کیا گیا تھا اور اُسی روز شام کو ان کی لاش ملی۔ طالبان پر اس سے پہلے بھی علماء دین سمیت حامد کرزئی کے کئی حامیوں کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں طالبان اور امریکہ کی سربراہی والی اتحادی فوج کے مابین جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کے بعد سے تیس سے زائد افراد، جن میں زیادہ تعداد طالبان اور ان کے حامیوں کی ہے، ہلاک ہوئے ہیں۔ ملک آغا کے اغواء کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں زابل کے ضلع اتاغر کی ایک مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے سے پہلے یا بعد میں اغواء کیا گیا۔ طالبان کے ترجمان عبدالاطک حکیمی کا کہنا ہے کہ طالبان نے ملک آغا کو پھانسی دے دی ہے کیونکہ وہ امریکہ کے مخبر تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||