افغانستان: دو جرمن فوجی زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے فوجی حکام نے کہا ہے کہ اس کے دو فوجی شمالی مشرقی افغانستان میں اسلحہ کے ایک ذخیرے میں دھماکہ ہوجانے کے باعث زخمی ہوگئے ہیں جب کے دو لاپتہ ہیں۔ یہ دھماکہ کابل سے تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبے رستک میں ہوا جہاں پر ایک ٹرک میں اسلحہ اور گولہ بارود لادا جا رہا تھا ابھی دھماکہ کی وجوہات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ افغانستان میں جرمنی کے تقریباً دو ہزار فوجی تعینات ہیں۔. دریں اثناء افغان اور امریکی فوجی حکام نے جنوبی افغانستان میں قبائلی سرداروں سے ملاقات کی ہے جس میں علاقے میں طالبان کے خلاف کیے جانے والی کارروائیاوں پر غور کیا گیا۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق اس ملاقات کا مقصد علاقے میں طالبان کے اثر کو کم کرنے کے لیے اقدامات پر غور کرنا تھا۔ افغان وزارت دفاع نے کا کہنا ہے کہ افغان فوجیوں نے علاقے سے چھہتر مزیدطالبان جنگجوؤں کی لاشیں ملیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں طالبان کے چند سرکردہ ارکان بھی شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||