BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 10:11 GMT 15:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان میں جھڑپیں: 40 ہلاک
افغانستان
حال ہی میں افغانستان میں تشدد کی ایک تازہ لہر شروع ہوئی ہے
امریکی فوج کے مطابق جنوبی افغانستان میں امریکی اور افغان افواج کے ساتھ زبردست جھڑپوں میں کم سے کم 40 مشتبہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج کے بیان کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب جنگجوؤں نے زابل صوبے میں فوج کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا۔

اس حملے میں ایک افغان پولیس والا ہلاک اور پانچ امریکی فوجی زخمی ہوگئے۔

حال ہی میں افغانستان میں تشدد کی ایک تازہ لہر شروع ہوئی ہے جس کا ذمہ دار طالبان اور ان کے اتحادیوں کو ٹھرایا جا رہا ہے۔

امریکی فوجی ترجمان کے مطابق یہ جنگجو زبول صوبے کے دائی چوپان علاقے میں گیارہ گھنٹے تک چلنے والی شدید لڑائی میں ہلاک ہوئے۔

بیان کے مطابقجنگجؤں نےمنگل کے دن اتحادی افواج پر راکٹ لاؤنچروں سے حملہ کیا تھا۔جس وقت یہ حملہ کیا گیا فوج دائی چوپان میں گشت پر تھی۔

اس لڑائی کے دوران دو ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا ہے۔

افغان پولیس کمانڈر جنرل سلیم خان نے خبر رساں ایجنسی ای پی کو بتایا کہ ان جھڑپوں کے بعد تقریباً 23 جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ’ پہاڑیوں میں بنے کیمپوں میں سینکڑوں طالبان موجود ہیں ہمارے افسران ان کا پتہ لگاتے ہیں اور پھر ان اطلاعات کی بنیاد پر امریکی طیارے ان پر بمباری کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے جنگجو علاقہ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جیری او ہارہ نے کہا کہ علاقے سے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کی مہم ابھی جاری ہے۔اور یہ مہم باغیوں سے ان کی پناہ گاہیں چھینے کی ایک کوشش ہے۔

منگل کا یہ واقعہ اس ہفتے کے اوائیل سے جاری تشدد کے سلسلے کا ایک حصہ ہےجس میں جنوبی افغانستان میں امریکی اور افغان فوج کے ساتھ لرائی میں 38 جنگجو مارے گئے ۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں تشدد کے واقعات کے بغیر ایک دن نہیں گزرتا۔

تشدد کی اس لہر کے سبب افغانستان کی حکومت نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ حکومت پاکستان ان جنگجؤں کے خلاف مناسب کاروائی نہیں کرتی جو اس کے خیال میں پاکستان میں پناہ لیتے ہیں۔

واشنگٹن کو بھی ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پر تشویش ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے اہم اتحادی ہیں۔

منگل کو جارج بش نے صدر مشرف سے ٹیلی فون پر بات کی جس کے بعد صدر مشرف نے افغانستان کے اپنے ہم منصب حامد کرزئی سے بات کی۔

افغانستان کے جنوب اور مشرقی علاقوں میں تشدد میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے سبب ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران سکیورٹی کے مسائل پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

اس سال تشدد کے واقعات میں اب تک تقریباً 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر مشتبہ باغی اور 30 امریکی فوجی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد