افغانستان میں نیٹو فوج پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں پولیس اور نیٹو اہلکاروں کے مطابق ایک خود کش حملے میں نیٹو کی امن فوج کے تین اطالوی ارکان زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ تینوں ارکان ائیرپورٹ سے شہر کی طرف جا رہے تھے جب دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی ایک ان کی گاڑی کے قریب آکر پھٹ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ خود کو طالبان کا ترجمان بتانے والے ایک شخص نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت اس علاقے میں عام شہری بھی موجود تھے تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں نیٹو کی امن فوج پر خود کش حملوں میں تیزی آئی ہے۔ اس سے پہلے کابل اور قندھار میں بھی نیٹو کی امن فوج پر خود کش حملے کیے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حملوں میں یہ تیزی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت آئی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں یورپی ممالک کو افغانستان میں نیٹو افواج کا حصہ بننے سے روکنا ہے۔ اسی ماہ نیٹو کے وزرائے خارجہ نے افغانستان میں نیٹو کے کردار کو وسیع تر کرنے کے منصوبے کو منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت افغانستان کے جنوب میں مزید چھ ہزار نیٹو فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ ان میں سے ایک تہائی تعداد برطانوی فوجیوں کی ہوگی۔ افغانستان کے جنوب اور مشرق میں اس سال تشدد کے واقعات کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک ایک ہزار چار سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں افغان پارلیمان کا افتتاحی اجلاس19 December, 2005 | آس پاس نومنتخب افغان پارلیمینٹ کا پہلا اجلاس19 December, 2005 | آس پاس طالبان کے حملے میں بارہ ہلاکتیں10 December, 2005 | آس پاس ’طالبان‘ کا آپریشن، 15 ڈاکو قتل07 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||