BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 May, 2006, 07:15 GMT 12:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستان

حامد کرزئی
افغان صدر کرزئی نے تازہ الزامات ہلمند میں لڑائی کے پس منظر میں عائد کیے
پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ان الزامات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان پر افغانستان میں جاری طالبان کی شورش کو ہوا دینے اور مدرسوں میں افغان طلبہ کو افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے اکسانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ صرف افغان صدر کے ذہن کی اختراع ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان طالبان کی کوئی مدد نہیں کر رہا ہے۔

ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مفادات وسطی ایشیا میں تجارت اور وہاں سے گیس کی فراہمی میں ہیں، لہذا پاکستان افغانستان میں عدم استحکام کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو اپنا فوجی اڈہ نہیں بنانا چاہ رہا جیسا کہ افغان صدر نے الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن اور استحکام کی تمام بین الاقوامی کوششوں جن میں بون کانفرنس بھی شامل ہے، بھرپور طریقے سے یہ بات کہی ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے پاکستان سنجیدگی سے پوری کوشش کرے گا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں موجود اتحادی افواج اور افغانی فوج سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور دنیا بھر میں کسی بھی ملک سے زیادہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

 پاکستان افغانستان کو اپنا فوجی اڈہ نہیں بنانا چاہ رہا جیسا کہ افغان صدر نے الزام لگایا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں امن اور استحکام کی تمام بین الاقوامی کوششوں جن میں بون کانفرنس بھی شامل ہے، بھرپور طریقے سے یہ بات کہی ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے پاکستان سنجیدگی سے پوری کوشش کرے گا۔
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم
تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دل سے کردار ادا نہ کرنے کا الزام بےہودہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکام کو پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے اپنے ملک کے حالات کو ٹھیک کرنا چاہیے اور اگر ان کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے پاکستان حکومت کے سامنے لایا جائے نہ کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے مضحکہ خیز الزامات عائد کیے جائیں۔

جمعرات کے روز صدر کرزئی نے صوبہ کنڑ کے دارالحکومت اسدآباد میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک افغان نوجوان جو ہجرت یا بے چارگی کے ہاتھوں مجبور ہوکر پاکستان کے کسی مدرسے میں جاکر تعلیم حاصل کرتا ہے، وہاں کوئی اسے اکستا ہے کہ جاؤ افغانستان میں کسی عالم دین کو شہید کردو، اسکے بیٹے کو شہید کردو، بیٹی کو بے گھر کردو، غیر ملکی کو شہید کر دو، امریکی انجنیئر جو ہمارے لیے سڑک بناتا ہے اسے ماردو، ہندوستانی انجنیئر جو ہمارے لیے ٹیلی فون نصب کرتا اسے ماردو۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں صدر حامد کرزئی نے کہا: ’میں نے کہا کہ بھائی مشرف صاحب، ایسا وقت تھا کہ افغانستان کی حکومتیں پاکستان میں بنتی تھیں۔ وہ الگ وقت تھا۔ ہم اس وقت مہاجر تھے۔ اب یہ خواب و خیال چھوڑ دیں کہ افغانستان کی حکومت غیر بنائیں گے۔‘

’دوسری بات یہ ہے کہ جسے آپ پاکستان میں سٹریٹجک ڈپتھ کہتے ہیں یعنی میری سرزمین آپ کا اڈہ ہوگی اور میری مٹی کو آپ اپنے اڈے کے طور پر استعمال کریں گے ۔۔۔ اور میری کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔۔۔ یہ بھی بھول جائیں، یہ بھی ناممکن ہے۔‘

افغانستان کے ہلمند اور دیگر علاقوں میں طالبان اور اتحادی افواج کے درمیان گزشتہ چند روز سے جاری مسلح لڑائی میں لگ بھگ ایک سو افراد مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد