’دراندازی کا ذمہ دار پاکستان ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبے خوست کے گورنر نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے افغان اور بین الاقوامی فوج پر حملے کرنے والے طالبان اور القاعدہ جنگجوؤں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ صوبائی گورنر نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند اب بھی طویل اور غیر محفوظ پاک افغان سرحد کو عبور کر رہے ہیں۔ پاک افغان سرحد دونوں طرف واقع قبائلی علاقوں کو ملانے کے لیئے کئی سمگلنگ روٹ اور غاروں کے سلسلے موجود ہیں۔ طالبان کی حکومت کے آخری دنوں میں اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں نے امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری سے بچنے کے لیئے تورا بوڑا کے غاروں اور ایسے کی خفیہ راستوں کو استعمال کیا تھا۔ افغان صوبے خوست کے گورنر کے مطابق پاکستانی خفیہ ادارے نہ صرف مزاحمت کاروں کی سرگرمیوں کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ ان کی سرحد عبور کرکے افغان اور بین الاقوامی فوج کے خلاف حملے کرنے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے، خاص طور پر ملک کے جنوبی حصوں میں جہاں مزاحمت کاروں بین الاقوامی فوج اور افغان اہداف کے خلاف سڑک کے کنارے نصب بموں سے دھماکے اور خودکش حملے کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ پاک افغان سرحد پر شدت پسندوں سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنے سے متعلق لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ | اسی بارے میں ’یہ یہودیوں کی صلیبی جنگ ہے‘23 April, 2006 | آس پاس مشرف کو ہٹا دیں: ایمن الظواہری29 April, 2006 | آس پاس القاعدہ کے جھنڈے تلے لڑنے کا اعلان 04 May, 2006 | آس پاس افغان کابینہ میں بیس نئے وزراء20 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||