’یہ یہودیوں کی صلیبی جنگ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عرب ٹیلی ویژن چینل الجزیرا نے اسامہ بن لادن سے منسوب ایک نیا ٹیپ نشر کیا ہے جس میں القاعدہ رہنما نے کہا ہے کہ فلسطین میں حماس اور دارفور سوڈان کے حوالے سے مغربی دنیا کا رویہ ’صلیبی جنگوں‘ کا مظہر ہے۔ ’یہ یہودیوں کی صلیبی جنگ ہے‘ الجزیرا پر نشر ہونے والے پیغام میں کہا گیا۔ اس پیغام کی آواز سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے شدت پسنداسامہ بن لادن جیسی تھی۔ امریکی خبرساں ادارے اے پی کے مطابق اس پیغام میں اسامہ بن لادن نے مغربی دنیا میں شہری اہداف پر حملے کرنے کو جائز قرار دیا۔ اسامہ نے کہا کہ یہ جنگ عوام اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے دوران لوگ اپنی حکومتوں سے وفاداریاں نبھا رہے ہیں جبکہ سیاست دان ان کے بچوں کو جنگ میں شامل ہونے کے لیے بھیج رہے ہیں۔ القاعدہ کے رہنما کو نیا ٹیپ تین ماہ کے بعد جاری ہوا ہے اس سے قبل انیس جنوری کو ان کا ایک ٹیپ نشر کیا گیا تھا۔ اس نئے پیغام میں انہوں نے کہا کہ مغرب کے لوگ اور حکومتیں اس یہودی صلیبی جنگ کے یکساں طور پر ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے بعد یورپی برادری کی طرف سے حماس کی مالی امداد روکنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ اور یورپ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں برابر کےشریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے فنڈ روکنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کی صلیبی جنگ ہے۔ جنوری میں ایک ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں اسامہ بن لادن نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ زندہ نہیں پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے آزادہ رہنے کی قسم کھاتے ہوئے کہا تھا کہ مرنا اگرچہ آسان نہیں ہے لیکن اسے وہ ذلت کی زندگی پر ترجیح دیں گے۔ انہوں نے اپنے اس چھبیسویں پیغام میں امریکہ کو امن کا معاہدہ کرنے کی بھی پیشکش کی تھی اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی تھی کہ القاعدہ جلد ہی امریکہ کے خلاف تازہ حملے کرے گی۔ | اسی بارے میں زندہ ہاتھ نہ آؤں گا: اسامہ بن لادن20 February, 2006 | آس پاس اسامہ کی تعریف سے کتاب بکنے لگی23 January, 2006 | پاکستان ایمن الظواہری کی تازہ ویڈیو ٹیپ 30 January, 2006 | آس پاس الجزیرہ پر’اسامہ بن لادن کی ٹیپ‘19 January, 2006 | آس پاس ’مسلمان متاثرین کی مدد کریں‘23 October, 2005 | پاکستان ’کفار کو ہلاک کرنا مذہبی فریضہ ہے‘12 January, 2006 | آس پاس اسامہ بن لادن کے بعد الظواہری ٹیپ21 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||