BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 January, 2006, 00:03 GMT 05:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ کی تعریف سے کتاب بکنے لگی
اسامہ نے اپنے بیان میں کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے
اسامہ نے اپنے بیان میں کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے
امریکہ کے ایک غیر معروف مصنف کی کتاب اسامہ بن لادن کے حالیہ بیان کی وجہ سے امریکہ کی سب سے زیادہ بکنے یا ’بیسٹ سیلر‘ کتابوں میں شامل ہو گئی ہے۔

’روگ اسٹیٹ، اے گائیڈ ٹو دی ورلڈ اونلی سپر پاور‘ نامی یہ کتاب جو ایمازن کمپنی کی فہرست پردو لاکھ سے بھی نیچے تھی اب اکیسویں نمبر پر آ گئی ہے۔

اس کتاب کے بہتر سالہ مصنف ولیم بلم کا کہنا ہے کہ اسامہ کی طرف سے ان کی کتاب کی تعریف پر انہیں کوئی ملال یا افسوس نہیں ہے۔

تین سو بیس صفحوں پر مشتمل اس کتاب میں امریکہ کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کی گئی ہے اور اس میں اس بات کی پیشن گوئی کی گئی ہے کہ امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔

اسامہ بن لادن کی حالیہ آڈیو ٹیپ میں امریکہ کو نئی کارروائیوں کی دھمکی بھی دی گئی تھی اور اس کے ساتھ ہی اسے مسلمان ملکوں سے نکل جانے پر معاہدے کی دعوت بھی دی گئی تھی۔

اسامہ بن لادن میں اس پیغام میں امریکی شہریوں کو کہا تھا کہ اگر صدر بش جھوٹ بولنا اور مظلوموں کو دبانے کی پالیسی جاری رکھتے ہیں تو وہ یہ کتاب ’روگ اسٹیٹ‘ پڑھ لیں۔

بن لادن نے اپنے پیغام میں اس کتاب کے مصنف کی ایک لائن کا ذکر بھی کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ امریکی صدر بن جائیں تو وہ دوسرے ملکوں میں امریکی مداخلت بند کردیں گے۔

کتاب کے مصنف مسٹر بلم نے واشنگٹن میں اپنے گھر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کے سربراہ کی طرف سے ان کی کتاب کا تذکرہ ان کے لیےانتہائی حیران کن تھا اور اس پر وہ محضوظ بھی ہوئے۔

انہوں نے نیویارک کے ایک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن کی تعریف کرنا انہیں برا نہیں لگا۔ ’مجھے کوئی برا نہیں لگا اور نہ ہی میں ایسا کوئی تاثر دینا چاہوں گا۔‘

انہوں نے کہا اسامہ کی جانب سے ان کی کتاب سے ان کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا۔

امریکہ پر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے رد عمل میں ہوئے تاہم انہوں نے کہا کہ ان حملوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نئی ٹیپ کا اثر
اسامہ کی ٹیپ کا رائے عامہ پر کیا اثر ہوگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد