اسامہ بن لادن کہتے ہیں: بیان کا مکمل متن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ کو میرا یہ پیغام افغانستان اور عراق میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے بارے میں ہے۔ میرا آپ سے بات کرنے کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہیرے کو ہیرا ہی کاٹتا ہے۔اللہ کی مہربانی سے ہماری پوزیشن بہتر ہو رہی ہے جبکہ آپکی پوزیشن دن بدن خراب ہو رہی ہے۔
جس بات نے مجھے آپ سے مخاطب ہونے پر مجبور کیا کہ وہ یہ ہے کہ آپ کی اکثریت تو عراق سے امریکی فوجوں کا انخلاء چاہتی ہے لیکن صدر بش عوامی رائے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں کہ اس سے ہمیں [دہشت گرودوں کو ] غلط پیغام ملے گا۔ بش کہتے ہیں کہ دشمن سے اس کی زمین پر ہی لڑنا بہتر ہے ورنہ وہ آپکی زمین پر آجائے گا۔ میرا جواب یہ ہے۔ عراق میں جنگ عروج پر ہے اور اللہ کی مہربانی سے افغانستان میں بھی آپریشن بڑھ رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق عراق جنگ میں مرنے اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ فوجیوں کا مورال دن بدن گر رہا اور ان میں خود کشی کے واقعات زیادہ ہو گئے ہیں۔ امریکہ کا مالی نقصان اس کے علاوہ ہے۔
امریکی فوجی دوہری مشکل میں ہیں ۔ اگر وہ بیرک سے باہر جاتے ہیں تو مجاہدوں کا نشانہ بنتے ہیں۔اگر وہ بیرک چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں تو وہ ’ویتنام کے قصائی‘ کے غضب کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر فوجی جب یہ محسوس کرے کہ اس کے ہم وطن اس کے بارے میں بے حس ہیں تو پھر اس کے لیے خود کشی ہی بہتر راستہ ہے۔ امریکی فوجیوں کی نسبت مجاہد بھائیوں کی حالت اس سے بہتر ہے جو امریکی محکمہ دفاع بتاتا ہے۔ خبروں میں جو کچھ آتا ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا کہ گراؤنڈ پر ہو ر ہا ہے۔ شاید اسی وجہ سے امریکی محکمہ دفاع نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کے افغانستان اور عراق میں دفاتر کو تباہ کرنے کے بعد قطر میں الجزیرہ کے ہیڈکواٹر کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ امریکی فوجیوں اور اس کے ایجنٹوں کے ظلم و تشدد کے باوجود اللہ کی مہربانی سے جہاد جاری و ساری ہے۔ امریکہ اور اس کے حواری جو ظلم و تشدد جاری رکھے ہوئے ہیں وہ کسی طرح بھی صدام حسین کے مظالم سے کم نہیں ہے۔ امریکہ اور ان کے حواری جو کچھ کر رہے ہیں اس کی کچھ مثالیں ابوغریب جیل اور گوانتانامو کے حراستی مرکز میں مظالم کے منظر عام پر آنے سے پتہ چلتی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تمام تر جبر کے باوجود وہ مزاحمت کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور مجاہدوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ عراق پر جنگ تھوپنے والا چار کا ٹولا ( بش، ڈک چینی، رمزفیلڈ اور پاول ولفوٹز) عراق میں اپنی ہار مان چکے ہیں اور اب صرف اس کا اعلان ہونا باقی ہے۔ عقلمند جانتے ہیں کہ جارج بش کا عراق میں فتح حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے۔
بش انتظامیہ اپنے مخصوص مفادات کے پیش نظر عراق میں اپنی شکست تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔حقیت تو یہ ہے کہ امریکہ کے خلاف مجاہدین کی جنگ اب صرف عراق تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ عراق جنگ کی وجہ مجاہدوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اللہ کی مہربانی سے مجاہدین نے امریکہ کے حواریوں کے دفاعی حصار توڑ کر ان کے دارالخلافوں پر حملے کیے ہیں۔ امریکہ میں مجاہدین کی کارروائیوں کے نہ ہونے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ امریکی دفاعی حصار کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ امریکہ میں نئے آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں اور جیسے ہی یہ تیاریاں مکمل ہو جائیں گی انشااللہ آپ ان کو اپنی سرزمین پر دیکھیں گے۔ اوپر بیان کیے گئے حالات کی روشنی میں عراق سے امریکی فوج کو واپس نہ بلانے کی دلیل غلط ثابت ہو جاتی ہے کہ دشمن کی سرزمین پر ہی اس سے لڑنا بہتر ہے۔ ہم ایک قوم ہیں اور ہمیں اللہ نے ہمیں جھوٹ اور دھوکہ بازی سے منع کیا ہے۔ اس جنگ بندی میں دونوں فریق امن اور سلامتی سے رہ سکیں گے۔ ہم عراق اور افغانستان کی تعمیر نو کر لیں گے۔ اس تجویز میں کوئی نقص نہیں سوائے ان کے لیے جو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں اربوں ڈالر کما رہے ہیں اور انہوں نے بش کی انتخابی مہم میں رقوم لگائی تھیں۔
اگر بش ہماری تجویز ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اپنے جھوٹے بیانات جاری رکھتے ہیں تو آپ کے لیے بہتر ہے کہ آپ ’دی روگ سٹیٹ‘ کتاب پڑھیں۔ اس کتاب کے ابتدائیہ میں کہا گیا کہ اگر میں صدر ہوں تو میں تمام آپریشنز کو روک دوں گا۔ سب سے پہلے میں بیواؤں، یتیموں اور جن پر تشدد ہوا ہے ان سے معافی مانگوں گا اور اعلان کروں گا کہ امریکہ کی طرف سے دنیا کے معاملات میں مداخلت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا اعلان کروں گا۔ آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر جنگ میں فتح ہماری ہوئی تو یہ آپکی دائمی ذلت کا سبب ہوگا۔ اگر جنگ میں جیت آپکی ہوتی ہے تو پھر مسلمانوں کی تاریخ کو پڑھو۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ناانصافی کو برداشت نہیں کرتی اور اس کا بدلہ لیتی ہے۔ ہمارے پاس اس جنگ میں کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔سمندر میں تیرنے والے کو بارش سے ڈر نہیں لگتا۔آپ نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر رکھا، ہمارے عزت و وقار کو مجروع کیا ہے ، ہمارا خون بہایا ہے، ہماری دولت لوٹی ہے ، ہمارے گھر تباہ کیے ہیں، اور ہمیں بے گھر کر دیا ہے۔ جب ہماری باری آئے گی تو ہم آپ کے ساتھ یہی برتاؤ کریں گے۔ آپ نے ہمارے لیے باعزت زندگی گزارنا ناممکن بنا دیا ہے لیکن آپ ہم سے باعزت موت کا راستہ نہیں چھین سکتے۔ کسی کو حج کی سعادت ادا کرنے سے روکنا گناہ کبیرہ ہے ۔ہمارے لیے باعزت موت تلوار کے سائے میں ہے۔ آپ جدید ہتھیار سے لڑائی تو جیت سکتے ہو لیکن جنگ نہیں جیت سکتے۔ صبر اور استقامت جدید ہتھیاروں سے بہتر ہیں۔ہم نے روس سے بھی صبر کے ساتھ دس سال تک لڑائی لڑی اور اسے کھوکلا کر دیا۔ اللہ کی مہربانی سے روسی اب تاریخ بن چکے ہیں۔ آپ بھی روسں سے سبق سیکھیں۔ ہم استقامت سے آپکا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ہم جنگ سے نہیں بھاگیں گے اور جب تک ہم میں ہتھیار اٹھانے کی سکت باقی ہے ہم لڑیں گے۔ میں یہ قسم کھاتا ہوں کہ میں ایک آزاد آدمی کی موت مرنا پسند کروں گا مجھے دشمن کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے خوف آتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’اسامہ کا نیا ٹیپ اصلی ہے‘04 January, 2004 | صفحۂ اول اسامہ زندہ ہیں: مشرف23 September, 2003 | صفحۂ اول القاعدہ سے منسوب نیا بیان نشر18 June, 2005 | صفحۂ اول ’اسامہ کی پیشکش نامنظور‘15 April, 2004 | صفحۂ اول الجزیرہ پر’اسامہ بن لادن کی ٹیپ‘19 January, 2006 | آس پاس ’سروں کی قیمت سونا‘06 May, 2004 | آس پاس ’اسامہ کے بارے میں اندازے بے بنیاد‘25 June, 2005 | پاکستان ووٹ دینے والے کافر ہوں گے: لادن27 December, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||