BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 20 January, 2006, 12:20 GMT 17:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ کی نئی ٹیپ پر آپ کا ردًِعمل
اسامہ بن لادن (فائل فوٹو)
اسامہ بن لادن (فائل فوٹو)
عرب ٹیلی ویژن الجزیرہ نے اسامہ بن لادن سے منسوب ایک آڈیو ٹیپ نشر کی ہے جس میں امریکہ کو اس شرط پر طویل المیعاد مفاہمت کی دعوت بھی دی گئی ہے کہ وہ مسلم ممالک سے اپنی فوج نکال لے۔ امریکی وائٹ ہاؤس نے اسامہ کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔

خبر کی تفصیل:


مبصرین کا خیال ہے کہ اس ٹیپ سے صدر بش اور جنگ کے حمایتوں کو تقویت ملے گی جو امریکی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ امریکہ حالت جنگ میں ہے۔ اسامہ بن لادن نے ٹیپ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ ایک جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اسامہ بن لادن کی امریکہ کو جنگ بندی کی پیش کش کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ آپ کا اس بیان کے متن پر کیا تبصرہ ہے؟ کیا اس سے امریکی رائے عامہ میں کو ئی تبدیلی آئے گی یا اس کا فائدہ امریکہ میں بش اور ان کے حامیوں کو ہوگا؟ کیا امریکہ کو اسامہ بن لادن کی بیشکش قبول کرلینی چاہئے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


عبداللہ خان، کراچی:
جو بھی اسامہ بن لادن کے بارے میں غلط زبان استعمال کرے، اس کا ایمان کمزور ہے۔ جو مجاہفین کے خلاف اور امریکہ کی حمایت میں بولتے ہیں، انہیں حشر کے دن اللہ کو جواب دینا ہے، وہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ اب تک دنیا کی نام نہاد ’سپر پاور‘ اللہ کی حفاظت میں رہنے والے مجاہدین کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ انشاء اللہ جیت مسلمانوں کی ہی ہوگی۔

محمد کاشف، کویت:
اسلام کسی طور شخصیت پرستی کی دعوت نہیں دیتا ہے۔ اسامہ ہیرو ہو یا کوئی دہشت گرد عام مسلمانوں کو اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ اسلامی دنیا کے اجتماعی مفادات کس کام میں ہیں۔ اسامہ پوری مسلم امت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

اسامہ امت کی نمائندگی نہیں کرتا
 اسلام کسی طور شخصیت پرستی کی دعوت نہیں دیتا ہے۔ اسامہ ہیرو ہو یا کوئی دہشت گرد عام مسلمانوں کو اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ اسلامی دنیا کے اجتماعی مفادات کس کام میں ہیں۔ اسامہ پوری مسلم امت کی نمائندگی نہیں کرتے۔
محمد کاشف، کویت

اماد حسین، سویڈن:
آج کل بہت کم لوگ سچ بولتے ہیں لیکن اسامہ بن لادن نے صحیح بات کی ہے۔

اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان:
یہ اسامہ کی ٹیپیں نہیں ہو سکتیں، امریکیوں کے ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ اپنے نقصان کو چھپاتے ہیں۔ اب وہ اگر اس ٹیپ کو اصلی کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس ٹیپ سے فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں۔ اسامہ اگر ہلاک بھی ہو چکے ہیں تو بش ان کو زندہ رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ انہوں نے پوری دنیا کو اور خاص طور پر مسلمان ممالک کو اپنی طاقت کے زور پر غلام بنا کر رکھنا ہے۔

محمد ارشاد خٹک، شارجہ، یو اے ای:
اسامہ کا اس دنیا پر نام و نشان باقی نہیں ہے وقتاً فوقتاً ان کی ٹیپیں کیوں جاری ہوتی ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

شاہ، مانسہرہ، پاکستان:
اسامہ کی پیشکش اچھی ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تا کہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔ اس کا مطالبہ بلکل درست ہے کہ دشمن ہمارے علاقے خالی کرے جب اوروں کو مزاکرات کا درس دیا جاتا تو ہے اپنے لیے اس فارمولے کو کیوں بھلا دیا جاتا ہے۔

سائرہ یاسمین خان، جرمنی:
اصل میں اگر اسامہ کو عقل ہوتی تو وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہوتے کیونکہ اس کی وجہ سے امریکہ نے بےگناہ بچوں اور عورتوں کا قتل کیا۔

سجال احمد، نامعلوم:
یہ ٹیپیں کہاں سے آتی ہیں اور پہلے کس تک پہنچتی ہیں۔ اگر بش اتناہے چلاک ہے تو اس چھوٹی سے بات پر غور کر کے ہی اسامہ کو پکڑ سکتا ہے۔

شکیل شہزاد، لاہور، پاکستان:
ویسے تو مجھے کسی القاعدہ کے ہونے کا یقین نہیں۔ یہ سب امریکہ کا سجایا ہوا کھیل ہے کیونکہ وہی شخص ہے جو کبھی وائیٹ ہاؤس کی میٹینگ میں بیٹھا کرتا تھا۔

امین خان، ریاض، سعودی عرب:
اسامہ شیر ہے اور اسلامی دنیا کا ہیرو ہے۔ وہ امریکہ کا ایجنٹ نہیں وہ ہمارہ لیڈر ہے۔

اسحاق ملک، لاہور، پاکستان:
اگر آپ اسامہ کا ماضی پڑھیں تو یہ بات عیاں ہے کہ اس شخص نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر صرف امریکہ کو ہی فائدہ پہنچایا اور مسلمانوں کے لیے ذرہ برابر بھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ اس لیے اس کی ٹیپیں جب امریکہ چاہتا ہے چلا دیتا ہے۔ حالانکہ یہ سب داستانیں اور کہانیاں ہیں۔

عباس مہدی، ٹوبہ ٹیک سنگ، پاکستان:
بہت خوشی ہوئی یہ پڑھ کر کہ تمام لوگ اسامہ کی اصلیت سے واقف ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر خرم کھوکھر صاحب نے میرے دل کی بات کہی ہے۔ اسامہ امریکہ میں ہے وہ امریکہ کا ایجنٹ ہے۔ وہ وہی کر رہا جس کی بش کو ضرورت ہے۔ کہاں کا اسلام اور کہاں کے مجاہد؟

حسیب احسن، پاکستان:
اس بات کا فیصلہ ہوئے بغیر کہ 11/9 میں کس کا ہاتھ تھا، اس بات کا فیصلہ ہوئے بغیر کہ یہ آیڈیو اور ویڈیو اسے شخص کے ہیں۔ یاد رہے کہ ’سنتھیٹک امیجینگ ٹیکنولوجی‘ کی تحقیق جو امریکی ایجنسیوں کی فنڈنگ ہی سے فلوریڈا یونیورسٹی میں چل رہی ہے، اس میں کافی ترقی ہو چکی ہے۔ ہم اتنے آرام سے ہر قسم کی اطلاع کو کیوں مان لیتے ہیں؟

اکرام چوھدری، نامعلوم:
نہ اسامہ بن لادن ہیرو ہے نہ بش ہیرو ہے اور اسامہ بن لادن کو ابھی خیال آیا ہے انسانی جانوں کا۔

عادل، امریکہ:
اسامہ ایک انفرادی شخصیت سے بڑھ کر اجتماعی نظریے کے روپ میں ڈھل چکے ہیں۔ ظلم کے خلاف مزاحمت کا نظریہ یزدیت کے مقابل حسینیت کا نظریہاور اگر نظریہ سچا ہو تو ہار بھی جیت بن جاتی ہے۔ جیسے قتلِ حسین مرگِ یزید بن گئی تھی۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان، لندن، پاکستان:
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج نام کے مسلمان خوب دولت کما کر ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کے دین کو بچانے کے کیے قربانیوں سے بھاگ رہے ہیں۔ افسوس ہے ایسے مسلمانوں پر کیونکہ نہ وہ یہودیوں سے زیادہ دولت مند ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ جہاد تو قیامت تک جاری رہے گا چا ہے ہم اس میں شامل ہوں یا اس کے خلاف باتیں کریں کیونکہ یہ تو قرآن میں اللہ کا فرمان ہے۔

شاہد خٹک، کرک، پاکستان:
امریکہ کو اسامہ کی پیشکش قبول کر کے امریکہ سے فوجیں نکال لینی چاہیں اس میں امریکہ کا فائدہ ہے۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد، پاکستان:
کہیں دنیا میں آپ نے کبھی دیکھا کہ دشمن کو پہلے سے وارنیگ دے کہ میں تم پر حملہ کرنے والا ہوں۔ پوری دنیا کو پاگل بنا رکھا ہے۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
میرا شک اب یقین میں تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ سب ایک ڈرامہ اور فرضی کردار ہے جو امریکی فلم میں امریکہ کے مفاد کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔

یہ سب ایک ڈرامہ ہے
 میرا شک اب یقین میں تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ سب ایک ڈرامہ اور فرضی کردار ہے جو امریکی فلم میں امریکہ کے مفاد کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔
امین اللہ شاہ، پاکستان

عذرا یاسمین، لاہور، پاکستان:
مومن کبھی موت سے نہیں ڈرتا اگر اسامہ واقعی ایک سچا مومن ہے تو اس کو سینہ تان کر امیکہ کا مقابلہ کرنا چاہیے جس نے پہلے اس کو پالا پوسا اور مجاہد بنا کر پوری امتِ مسلمہ کا سکون غارت کیا۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی، پاکستان:
اسامہ بن لادن کی یہ پیشکش کہ امریکہ مسلم مملک سے اپنی فوج نکال لے کوئی آسان بات نہیں ہے۔ امریکہ کی تمام افواج جو کہ دنیا کہ کسی بھی حصے میں موجود ہیں ان سب کے اخراجات امریکہ مسلمان ممالک اور خصوصاً تیل پیدا کرنے والے ممالک سے حاصل کرتا ہے۔

محمد یوسف، جرمنی:
اسامہ بن لاون ایک ایسا شخص ہے جس نے اسلام کو بدنام کر رکھا ہے۔

غلام مصطفٰی، کویت:
امریکہ کو افغانستان اور عراق سے نکل جانا چاہیے تا کہ امن قائم ہو سکے۔

ماجد قاسمی، حیدرآباد، پاکستان:
اسامہ کل بھی امریکہ کا ایجنٹ تھا اور آج بھی ہے۔ سی آئی اے ہی اسامہ کو افغانستان لے کر آئی اور آج بھی امریکہ کو ضرورت ہے، اسی وجہ سے اسامہ کی کوئی نہ کوئی ٹیپ میڈیا پر آ جاتی ہے۔

خرم کھوکھر، سعودی عرب:
میری رائے کسی عام آدمی کے رائے سے مختلف نہیں ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اسامہ بن لادن امریکہ کا ایجیٹ ہے جو اس وقت واشینگٹن میں آرام فرما رہا ہے اور امریکہ اس کا نام استعمال کر کے مسلم امہ کی تباہی کر رہا ہے۔ آخر القاعدہ کا مطلب کیا ہے؟ اب عام مسلمان کو سمجھ جانا چاہیے کہ صرف ہم کو تباہ کرنے کے کا ڈھونگ ہے اور کچھ نہیں۔ اس لیے جتنی جلدی ہو سکے ایک آواز میں دنیا کو باور کروائیں کہ ہم ان ڈراموں کو سمجھ رہے ہیں۔

اسحاق ملک، ملتان، پاکستان:
موجودہ دور میں اسامہ بن لادن نے عالم اسلام کی جو مٹی پلید کی ہے وہ ماضی میں کسی دوسری مسلم کش ایجنٹ نے نہیں کی کیونکہ اس نے امریکہ کا آلہ کار بن کر روس کو پارہ پارہ کر کے ان کو سپر پاور بنایا۔ یہ کردار امریکہ کے مفاد میں ہے، نہ کبھی مرے گا اور نہ اس کی ٹیپیں بند ہوں گی کیونکہ فلی ہیرو کبھی مرتا نہیں۔ اس کی ٹیپیں دنیا کے خاتمے تک چلتی رہیں گی کیونکہ اس میں کسی نہ کسی طرح امریکہ کی بھلائی کے پہلو ضرور پوشیدہ ہیں۔

افشاں خان، کینیڈا:
اسامہ بن لادن کے بیان اور عمل میں بہت فرق ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے وہ ایک مفرور زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر نہیں ہوتی؟ لگتا ہے بن لادن ایک امریکی پٹھو ہیں جو امریکی مفادات کے لیے اپنا فرض بھرپور طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ ان کی ذات سے امت مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔

امبرین رائے، نیویارک:
ہمارے ملک کے لوگ بھی کتنے سادہ ہیں۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ چلو کوئی تو ہے جو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے۔ اس فارمولے کے تحت تو دنیا کے تمام مفرور اپنے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکیں گے۔ کیا کسی نے یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ اسامہ کا ٹیپ اسی وقت کیوں سامنے آتا ہے جب بش کو اندرونی طور پر دباؤ کا سامنا ہوتا ہے یا اس کی مقبولیت میں کمی ہونے لگتی ہے۔ یہی سب باتیں امریکہ کے صدارتی انتخابات کے دوران ہوئی تھیں۔

نصراللہ کھوسہ، نواب شاہ، پاکستان:
یہ امریکہ کی کوئی نئی چال ہے۔ جب بھی امریکہ کو کوئی نئی پالیسی بنانی ہوتی ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔ اس وقت اسامہ کو پھر زندہ کیا جاتا ہے۔ القاعدہ اگر شیر ہے تو وہ صرف ایشیا میں ہے۔ عراق، افغانستان اور پاکستان میں مسلمان ہی تو مر رہے ہیں۔ بس یہ سب ان کی کھوکھلی باتیں ہیں۔

عفاف اظہر، کینیڈا:
اسامہ بھی ان کا اور بیان بھی ان کی مرضی کا۔ اسامہ تو صرف ایک کٹھ پتلی ہے جس کا نام استعمال کر کے مسلمانوں کو مزید مارنے کا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ ہم مسلمان اتنے بےوقوف ہیں کہ مار بھی کھا رہے ہیں اور اسامہ کے نام کی مالا بھی جپ رہے ہیں۔ اسامہ نے اسلام اور جہاد کا نام استعمال کر کے ساری دنیا میں مسلمانوں کو بدنام کر دیا ہے۔ معلوم نہیں ہماری آنکھوں سے پٹی کب اترے گی اور ہم یہ جانیں گے کہ اسامہ، صدام اور الزرقاوی سب امریکی ایجنٹ ہیں۔ ان میں سے نہ تو کوئی مسلمان ہے، بس ایک سازش ہے جس کا شکار ہم اپنی بےوقوفی کی وجہ سے بن رہے ہیں۔

اسامہ، سی آئی اے اور صدر بش
 اسامہ، سی آئی اے اور صدر بش سب ایک ہی سکے کے مختلف پہلو ہیں۔ یہ سب انسانیت کے دشمن ہیں اور اب یہ ڈرامہ جلد بند ہوجانا چاہیے۔
ڈوڈو شیدی، کراچی

ڈوڈو شیدی، کراچی:
اسامہ، سی آئی اے اور صدر بش سب ایک ہی سکے کے مختلف پہلو ہیں۔ یہ سب انسانیت کے دشمن ہیں اور اب یہ ڈرامہ جلد بند ہوجانا چاہیے۔

عمران چیمہ، برطانیہ:
اسامہ امریکی عوام کی نفسیات سے کھیل رہا ہے۔ اس وقت جب عراق میں حالات امریکی مفاد میں نہیں ہیں اور صدر بش کی امریکہ میں مقبولیت میں کمی آرہی ہے۔

ثنااللہ خٹک، لاہور:
نقصان نہ تو اسامہ کا ہو رہا ہے اور نہ ہی بش کا، نقصان تو صرف بےگناہ لوگوں کا ہو رہا ہے۔ کہیں پر بم دھماکے ہورہے ہیں اور کہیں پر میزائل گر رہے ہیں اور غریب عوام مارے جا رہے ہیں۔ صدر بش تو چاہتے ہیں کہ ان کو تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ملک کا کنٹرول حاصل ہوجائے۔ ایک دن بش اور اسامہ اس دنیا سے چلے جائیں گے لیکن یہ لڑائی اسی طرح چلتی رہے گی۔

سلیم احمد، کینیڈا:
اسامہ بش کے ساتھی ہیں۔ ان کا مقصد صدر بش کی دہشت گردی کو دنیا میں ہوا دینا ہے۔

ستار سومرو، سنگاپور:
آج صدر بش جو بھی ہیں وہ اسامہ کی وجہ سے ہیں۔ انہیں جب بھی ضرورت پڑی اسامہ نے ایک اچھے دوست کی طرح ساتھ دیا۔ 2004 کے الیکشن سے چند روز قبل اگر اسامہ سکرین پر نہ آتے تو بش اتنے آرام سے دوبارہ صدر نہیں بنتے۔ اب جب دوبارہ صدر بش کی کشتی منجدھار میں ہے تو۔۔۔

عثمان ربّانی، کراچی، پاکستان:
دنیا جانتی ہے کہ کون حق پر ہے اور کون باطل۔ سب لوگ اپنی جیبیں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

شوکت ملک، پاکستان:
سمجھ نہیں آتی کہ اسامہ کس جہاد کی بات کرتے ہیں۔ کیا یہ ہی جہاد ہے کہ جس کو کلمہ پڑھنے کو کہو اگر وہ نہ پڑھے تو اس کو قتل کر دو۔ آپ نے ہر وقت ہاتھ میں تلوار لی ہوتی ہے جو غیر مسلم نظر آئے اس کو قتل کر دو۔ یہ جہاد نہیں ہے یہ تو ظلم ہے جو اسامہ اور اس کے ساتھی کر رہے ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ اسلام میں جہاد کا کچھ اور مطلب ہے جو ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ یہ لوگ مفت میں اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔

یاسر، میرپور، کشمیر:
امریکہ اور اس کے ساتھی ایسے لوگوں کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوں گے جن کے نزدیک موت ہی فتح ہے۔ امریکہ کو اسامہ کی تجویز مان لینی چاہیے اور مسلم ممالک سے اپنی افواج بلوا لینی چاہئیں۔

مسلمان تشدد کے خلاف ہیں
 تمام مسلمان تشدد کے خلاف ہیں۔ مسلمانوں کو تشدد پر مغربی ممالک کے دوہرے معیار نے اکسایا ہے۔
ڈاکٹر طارق عباس، فیصل آباد، پاکستان
ڈاکٹر طارق عباس، فیصل آباد، پاکستان:
تمام مسلمان تشدد کے خلاف ہیں۔ مسلمانوں کو تشدد پر مغربی ممالک کے دوہرے معیار نے اکسایا ہے۔

آصف خان، کوہاٹ، پاکستان:
یہ ایک جعلی ٹیپ ہےاور اب یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ اسامہ بن لادن نام کے انسان کا کوئی وجود نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ امریکہ کا جاسوس ہے۔ بیان میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ ایک مجاہد کے نہیں ہو سکتے۔

محمد بشیر خان، اسلام آباد، پاکستان:
اسامہ کا بیان درست ہے کیوں کہ معصوم لوگوں کو قتل کرنے سے امن قائم نہیں ہو سکتا اور ایسا کرنے سے صرف اور صرف تشدد میں اضافہ ہوگا۔ صدر بش کو آنکھیں کھول کر فیصلہ کرناہوگا۔

محمد عابد، کینیڈا:
کیسا اسلام، کون سا مذہب؟ سب اپنی اپنی دکان چمکانے کے دھندے ہیں۔ اگر دنیا میں امن و امان چاہتے ہو تو سی آئی اے اور آئی ایس آئی سے پیچھا چھڑانا ہوگا۔ اسامہ تو ان کا ایک مہرہ ہے۔

انجم ملک، جرمنی:
دنیا اب روز روز کی ہلاکتوں سے تنگ آچکی ہے۔ کسی نہ کسی کو تو جھکنا ہوگا مگر اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

زاہد اقبال، پیرس:
اسامہ اور صدام دونوں ہی اسلام کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے اس سے مسلمانوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔ مسلم قوم کو اس وقت تعلیمی، معاشی اور میڈیا کے میدان میں ترقی کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم دنیا تک اسلام کی حقیقی تعلیمات پہنچا سکیں اور دنیا میں امن قائم ہوجائے۔

عاشق اعوان، ہری پور، پاکستان:
یہ ایک جعلی بیان ہے۔ دنیا میں القاعدہ اور اسامہ نامی کوئی بھی نہیں ہے۔ یہ تمام چیزیں فرضی ہیں۔

شاہد اکرام، ابوظہبی:
اسامہ کی اس پیشکش کا جواب وہی ہونا تھا جو امریکہ نے دیا ہے کیوں کہ امریکہ کے نزدیک نہ ہی انسانی جانوں کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی انسانیت کی۔ اس کو عراق اور عراقی عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ امریکہ کو ان سے جو کچھ حاصل کرنا ہے وہ حاصل کر کے رہے گا۔ جنگ بندی کی اس پیشکش کا کوئی مثبت اثر ہونے والا نہیں ہے۔

مسعود روات، متحدہ عرب امارات:
اس ٹیپ کے ذریعے اسامہ مسلمانوں سے مزید ہمدردی سمیٹنا چاہتےہیں۔

عطاری قادری، مرکزالاولیاء، پاکستان:
سبحان اللہ، کیسا مردانہ بیان دیا ہے اسامہ بن لادن نے۔ دیکھ لیں امریکیوں نے کیسا غلط کام کیا ہے۔ کمال کا مرد مومن ہے اللہ اس کی حفاظت کرے۔

عبدالوہاب، راولپنڈی، پاکستان:
میں جانتا ہوں کہ اگر امریکہ ختم ہو گیا تو اس کا کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر افغانستان، عراق، ایران اور پاکستان کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں کو دنیا سے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

واجد علی، اسلام آباد، پاکستان:
جب ہم بات کرتے ہیں جہاد کی تو صرف بات ہی کرتے ہیں عملی کام ہم سے نہیں ہوتا۔ اسامہ بلاشبہ دور حاضر کے ہیرو ہیں۔ اگر جذبہ ایمانی کہیں بیدار دیکھنا ہو تو اسامہ کے مجاہدین کو دیکھ لیا جائے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ہم خود میرجعفر اور میر صادق بن گئے ہیں ورنہ کسی بش کی کیا مجال کہ آنکھ اٹھا کر بھی دیکھتا۔ اگر جینا سیکھنا ہو تو اسامہ سے سیکھو۔

پتھر کے زمانے کا ڈر
 ہم امن چاہتے ہیں۔ کیا یہ دونوں، اسامہ اور امریکہ مل کر دنیا میں امن قائم کرنے کی پالیسی نہیں بنا سکتے۔ اسلام اور عیسائیت دونوں عوام کو مارنے کی اجازت نہیں دیتے۔
سجاد علی، دبئی

سجاد علی، دبئی، متحدہ عرب امارات:
میں اس بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا لیکن ہم امن چاہتے ہیں۔ کیا یہ دونوں، اسامہ اور امریکہ مل کر دنیا میں امن قائم کرنے کی پالیسی نہیں بنا سکتے۔ اسلام اور عیسائیت دونوں عوام کو مارنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو ڈر ہے کہ پتّھروں کا زمانہ واپس نہ آجائے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
اگر اسامہ جنگ بندی چاہتا ہے تو امریکہ اس پر رضامند کیوں نہیں ہے؟

محمد اجمل بنگش، اسلام آباد، پاکستان:
دنیا میں کوئی تو ایسا ہے کہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔ کوئی بھی حقیقت پسند آدمی اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتا اگر اس کا ضمیر زندہ ہے۔ دنیا ان کو جس نام سے بھی یاد کرے وہ ہمارے لیے ایک مسیحا ہیں، مجاہد مسیحا۔ اگر اسامہ کی زندگی میں ایسا نہ ہوا پھر بھی ایک دن دنیا دیکھے گی کہ امریکہ اور اس کے حواریوں کے غرور کا خاتمہ ایک درویش مجاہد کی تحریک ہی کے مرہون منت ہوگا۔

فراز احمد، کراچی، پاکستان:
اللہ آپ کی مدد فرمائے۔ بش اور اس کے حواریوں کو ابھی سبق سیکھانا چاہیے۔ بے شک صحیح کہا کہ مسلمانوں کی تاریخ پڑھو۔ اللہ آپ سب کو اپنے ارادوں میں کامیاب کرے۔

عمر دراز اعوان، کوہاٹ، پاکستان:
ویڈیو ٹیپ حقائق سے بھرپور ہے۔ امریکہ کو حقائق مانتے ہوئے اسامہ کی تجویز کو تسلیم کرنا چاہیے۔

محمد علی، سیول، کوریا:
اگر تمام مسلمان ملکوں کے سربراہ امریکہ کی غلامی چھوڑ دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان عزت کی زندگی بسر کر سکیں۔ سچا بش ہے یا پھر اسامہ؟ برائے مہربانی اب تو تمام مغربی ملک جانبداری چھوڑ دیں۔

محمد فیصل، بریمنٹ، جرمنی:
محترم یہ جنگ آپ کی تو ہو سکتی ہے لیکن اس کو امّت مسلمہ کی جنگ نہیں کہا جا سکتا۔ میرے خیال میں امّت مسلمہ کی جنگ اس وقت جہالت کے خلاف اور حصول علم کے لئے ہونی چاہیے۔

نامعلوم، نیویارک، امریکہ:
اسامہ مسلمانوں کے عظیم رہنما ہیں۔ وہ ایک سچے آدمی ہیں اور تمام دنیا جانتی ہے کہ بش ایک چالاک شخص ہیں۔ہم اسامہ کو پسند کرتے ہیں۔ خدا ان کی حفاظت کرے۔

محمد صدیقی، لاہور، پاکستان:
حقیقت الفاظ میں بیان کردی ہے۔

عثمان، سرگودھا، پاکستان:
اسامہ کا یہ بیان بش کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ جہاں بھی بے انصافی ہوگی، اس قوم اور مذہب کے لوگ ایسا ہی کریں گے۔ بہتر یہ ہے کہ امریکہ اپنی فوج واپس بلوالے تاکہ اپنے ملک کے بے گناہ لوگوں کو بچا سکے۔

پرویز بلوچ، بحرین:
اس دنیا میں کب امن ہوگا۔ کب لوگ بے خوف و خطر اپنے بچوں کے ساتھ خوشگوار ماحول میں امن کے ساتھ سانس لیں گے؟ ہم کب تک فضائی اور خودکش حملوں سے بچتے رہیں۔ ہمیں ایک آزاد اور پُر امن ماحول چاہیے، بس۔

ثاقب علی، سیالکوٹ، پاکستان:
سچ، سچ ہے اور سچ یہ کہ امریکہ ہار رہا ہے اور میرے خیال میں امریکہ کو سنجیدگی کے ساتھ اسامہ کے پیغام پر سوچنا چاہیے۔ وقت ہمیشہ تبدیل ہوتا ہے اور اب جب وقت تبدیل ہوگا تو وہ امریکہ کے لئے خطرناک ہوگا۔

نامعلوم:
میرا نہیں خیال کہ یہ ٹیپ اسامہ کی ہے۔ امریکہ ایسی خبریں پھیلا کر مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیلا رہا ہے۔

مرتضی جاوید، کویت:
یہ سب تیل کے لئے ہو رہا ہے۔ یہ ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا کہ اسامہ کون ہے صدام کون ہے؟ جو ہونا ہے وہ ہو رہا ہے۔ عقل مند انسان کے لئے اشارہ کافی ہے۔

امجد نذیر، اسلام آباد، پاکستان:
عراق اور افغانستان امریکی دھشت گردی کی مثال ہیں۔ امریکہ نے اس جنگ میں کیا پایا ہے، اس نے صرف اپنے فوجی کھوئے ہیں اور دشمنوں میں اضافہ کیا ہے۔

امجدعلی امجد، لاہور، پاکستان:
مجھ کو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ یہ اچھا وقت ہے کہ امریکہ مسلمانوں کی سر زمین چھوڑ دے ورنہ امریکہ کے لئے ہر شخص اسامہ ہو گا۔ امریکہ اس وقت نتائج سے آنکھ چرا رہا ہے۔

اسامہ کی نئی دھمکیاسامہ کی نئی دھمکی
پیغام کے اس وقت سامنے آنے پر آپ کا ردِّعمل
’اسامہ‘ کی یورپ کو صلح کی پیشکشآپ کی رائے
’اسامہ‘ کی یورپ کو صلح کی پیشکش
مدارس پر کریک ڈاؤن کے بعد جنرل مشرف کا قوم سے خطابآپ کی رائے
دھماکے: نام پاکستان کا ہی کیوں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد