BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 April, 2004, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسامہ‘ کی یورپ کو صلح کی پیشکش
’اسامہ‘ کی یورپ کو صلح کی پیشکش
عربی ٹیلی وژن الجزیرہ پر نشر کی جانیوالی اسامہ بن لادن سے منسوب ایک ٹیپ میں یورپ سے اس شرط پر صلح کی پیشکش کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں پر حملے بندکردے۔ یہ پیشکش امریکہ کے لئے نہیں کی گئی ہے۔ ٹیپ کے اصلی ہونے کی فی الحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

برطانیہ، اسپین، اٹلی، جرمنی سمیت متعدد یورپی ممالک نے اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔ جرمنی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ مجرموں اور دہشت گردوں سے سودا ناممکن ہے۔

’اسامہ‘ کی یورپ کو صلح کی پیشکش پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ یورپی ممالک کو کیا کرنا چاہئے؟ امریکہ کیا کرے؟ صلح کی اس پیشکش پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟

آپ کی رائے

آپ اپنے خیالات اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں

انجینئر ہمایوں ارشد، کراچی: ہمیں معلوم نہیں کہ اسامہ اسلام کا ایجنٹ ہے یا امریکہ کا، لیکن اگر امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے ظلم بند نہیں کیا تو اسامہ جیسے لوگ اسلام کی قیادت اپنے ہا تھ میں لے لیں گے اور اس کے ذمہ دار تہذیب کے جھوٹے دعوے دار ہوں گے۔

عبید الرحمان، برطانیہ: مسلمانوں کو آج ایک ایسے اسامہ کی ضرورت ہے جو جہالت کے خلاف لڑ سکے۔ جب ایسا ہو جائے گا تو نہ جنگ ہو گی نہ دہشت گردی۔

مثبت پیشکش
 یہ یورپین ممالک کے لئے بہت اچھی پیشکش ہے۔ مسلمان امن پسند ہیں۔ القائدہ امریکہ کی جارحانہ کاروائیوں کا ایک ردعمل ہے۔ یورپ کو اس پیشکش پر سوچنا چاہیے۔
رضوان اللہ خان، دبئی

راشد علی، جرمنی: اسامہ بن لادن کی یہ بہت اچھی پیشکش ہے۔ یورپ کو اسے قبول کر لینا چاہیے۔

رضون اللہ خان، دبئی: یہ یورپین ممالک کے لئے بہت اچھی پیشکش ہے۔ مسلمان امن پسند ہیں۔ القائدہ امریکہ کی جارحانہ کاروائیوں کا ایک ردعمل ہے۔ یورپ کو اس پیشکش پر سوچنا چاہیے۔

ساجد زمان، جھنگ: اسامہ نے نہایت سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اور دنیا کو ایک معقول بات پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

جان شینون، کینیڈا: اگر یہ ٹیپ حقیقی ہے تو یہ ایک اچھی پیشکش ہے۔ یہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے اچھا ہو گا بلکہ یورپ اور باقی ساری دنیا کے لئے بھی اچھا ہو گا۔

علی احمد، کراچی: اسامہ کی پیشکش اس دنیا کو پرامن بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر یورپ امریکی دباؤ کی وجہ سے اس پیشکش سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اسے مستقبل میں ناقابل ِ تلافی نقصان اٹھانا پڑےگا۔

ابو ھنان، اوکاڑہ: اسامہ ایک فرد کا نام نہیں بلکہ امریکہ کے مظالم اور نامنصفانہ اقدامات کا ایک رد عمل ہے۔یورپ کو اس پیشکش کو ایک فرد کی پیشکش نہیں بلکہ ایک اسلامی تحریک کی پیشکش سمجھنا چاہیے۔

سوباس تہیم، سعودی عرب: یہ سب امریکہ کی اڑائی ہوئی باتیں ہیں تاکہ اس معاملہ پر دوسرے ممالک کی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔ امریکہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ القائدہ صدر بش کی عمدہ پالیسی سے خوفزدہ ہو گئی ہے۔ یہ سب الیکشن ’سٹنٹ‘ ہے اور ایسی کوئی ٹیپ نہیں۔

شکیل اعوان، اسلام آباد: یہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اچھی پیشکش ہے۔ یورپی ممالک اور امریکہ کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

عبداللہ کلیمی، بھارت: یورپ کو اسامہ سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا کیونکہ وہ مستقبل کی سپر پاور ہیں۔

پیشگی تنبیہہ
 یہ اسامہ کی امریکہ کی یورپین ممالک کے خلاف بہت بڑی کاروائی کرنے کی پیشگی تنبیہہ ہو سکتی ہے تاکہ ایسی کسی کاروائی کے بعد اسامہ یورپ کو یہ کہہ سکے کہ اس نے یورپ کو صلح کی پیشکش کی تھی جو قبول نہیں کی گئی۔
کمال احمد منصور، فیصل آباد

ناظم شیخ، بھارت: یورپ کے عوام تو امن چاہتے ہیں مگر حکومتیں نہیں۔ ذرائع ابلاغ اور اسلام دشمن اس پیشکش کا غلط فائدہ اٹھائیں گے۔ یورو بیٹھ رہا ہے اور ڈالر پر ساری دنیا کا اعتبار اٹھ رہا ہے۔ اس لئے اس پیشکش سے امریکہ کو ہی فائدہ پہنچے گا۔

سید فیصل علی شاہ، کراچی: یہ یورپ کے لئے بہت اچھی خوشخبری ہے۔ان کو اسامہ کی بات پر غور کرنا چاہیے کیونکہ امریکہ ساری دنیا کو اپنی بادشاہت اور تیل کی دولت کے لئے جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔

رحمت اللہ بلوچ، کوئٹہ: بڑا افسوس ہے ان لوگوں پر جو اسامہ پر تنقید کرتے ہیں۔ ایک اسامہ ہی تو باقی ہے جں سے کفر ڈرتا ہے۔ باقی سب تو امریکہ کے غلام بن گئے ہیں۔ مثال کے طور پر وانا آپریشن کو لیں۔کل جو مجاہد تھے، آج وہ دہشت گرد بن گئے ہیں۔

فرزانہ اسلم، کینیڈا: معلوم نہیں کہ یہ ٹیپ اصلی ہے یا نہیں لیکن سب جانتے ہیں مسلمان دنیا میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اس لئے یہ اکٹھے ہو کر کام کرنے کا وقت ہے۔

کمال احمد منصور، فیصل آباد: یہ اسامہ کی امریکہ کی یورپین ممالک کے خلاف بہت بڑی کاروائی کرنے کی پیشگی تنبیہہ ہو سکتی ہے تاکہ ایسی کسی کاروائی کے بعد اسامہ یورپ کو یہ کہہ سکے کہ اس نے یورپ کو صلح کی پیشکش کی تھی جو قبول نہیں کی گئی۔

اسد صدر، پاکستان: اگر یہ آوا ز اسامہ کی ہے تو پھر اتنے خون خرابے کی کیا ضرورت تھی اور اگر یہ آواز واقعی اسامہ کی ہے تو پھر یورپ اور امریکہ کو مسلمان ملک سے اپنی فوجیں نکال لینی چاہیں۔

اچھی سفارتی کوشش
 یہ ایک اچھی سفارتی کوشش ہے۔ اس پیشکش سے واضح ہوتا ہے کہ اسامہ کو اپنے مقاصد اور اہداف کا اچھی طرح اندازہ ہے اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی۔
اسامہ بن وحید

محمد قمر شبیر، اسلا آباد: میرا خیال ہے کہ اسامہ نے صحیح وقت پر صحیح قدم اٹھایا ہے۔ اگر یورپ اس کی پیشکش قبول نہیں کرتا تو اسے ساری دنیا کے مسلمانوں کی حمایت حاصل ہو گی۔ مزید یہ کہ اسامہ کو کسی قوم کے شہریوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے ورنہ اس میں اور دوسرے حملہ آوروں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

شیر یار خان: اسامہ آخر کیا شئے ہے جس نے دنیا کے بڑے سے بڑے طاقتور ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اگر اسامہ کوئی اصلی شخصیت ہے تو امریکہ اس کو اب تک پکڑ کیوں نہیں سکا۔ ایسا لگتا ہے کہ اسامہ کوئی کردار ہے جو کبھی نہ مٹ سکے گا۔ اسامہ نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو دنیا کے دوسرے ممالک کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔

اسامہ بن وحید، کراچی: یہ ایک اچھی سفارتی کوشش ہے۔ اس پیشکش سے واضح ہوتا ہے کہ اسامہ کو اپنے مقاصد اور اہداف کا اچھی طرح اندازہ ہے اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی۔

شیدن واسطی، کینیڈا: یہ بہت اچھا خیال ہے۔ برائے مہربانی یورپ کے ممالک مسلمان علاقوں کو چھوڑ دیں اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر کسی جنگ اور دہشت گردی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

نادرہ بشیر، کراچی: اسامہ اور امریکہ کو چاہیے کہ لڑنے کے بجائے مشرق وسطیٰ کی تیل کی دولت اپنے اپنے جنگی جرائم کے تناسب سے آپس میں بانٹ لیں۔

طاہر چوہدری، جاپان: سائنس اور دنیا سارے مذاہب اس بات پر متفق ہیں کے ہر عمل کا ویسا ہی رد ِعمل ہوتا ہے۔ اسامہ امریکی کاروائیوں کا رد ِعمل ہے۔ امریکہ کو اپنی کاروائیاں بند کرنی چاہیں ورنہ ایک اسامہ جائے گا تو اس کی جگہ دوسرا اسامہ لے لے گا۔

اصل قضیہ
 اسامہ اور امریکہ کو چاہیے کہ لڑنے کے بجائے مشرق وسطیٰ کی تیل کی دولت اپنے اپنے جنگی جرائم کے تناسب سے آپس میں بانٹ لیں۔
نادرہ بشیر

محمد عامر خان، کراچی: اب اسامہ کے ذریعے امریکہ یورپی یونین کے اتحاد کو نشانہ بنائے گا۔یہ امریکہ کی ایک چال ہے۔اس پیشکش سے یورو بھی متاثر ہو گا۔ اسامہ کی کاروائیوں سے اب تک جتنا فائدہ امریکہ کو ہوا ہے، وہ کسی اور کو نہیں ہوا۔

یاسر، میرپور: میرے خیال میں اسامہ کی یہ پیشکش جعلی پیشکش ہے جو امریکی پروپیگینڈا کا حصہ ہے۔اس سے صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسامہ دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے۔ یہ امریکی ایف بی آئی اور سی آئی اے کے مسلمانوں پر مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

نجیب الرحمان، جنوبی کوریا:اسامہ کی اس پیشکش سے کوئی حل نہیں نکلے گا کیونکہ یہ جنگ مسلمانوں کو ختم کرنے اور غلام بنانے کے لئے ہے اور اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ اگر زندہ رہنا ہے تو سر اٹھا کے چلنا ہو گا، ظلم نہیں مگر اپنی بقاء کے لئے۔

شمس الاسلام، جاپان: سب سے پہلے اسامہ کو ھتھیار ڈالنا چاہیے اور جتنے قتل اس نے کئے ہیں ان تمام کا بین الاقوامی عدالت میں سامنا کرنا چاہیے، پھر اس کے بعد تمام یورپ اور امریکہ کو اس سے بات کرنی چاہیے۔ صرف انہیں حالات میں کسی کو اسامہ سے بات کرنی چاہیے۔

خرم نومی، فیصل آباد:میری رائے میں یہ ایک بہترین پیشکش ہے۔ اگر یورپ اسے قبول کر لے تو بہت اچھا ہے ورنہ اس کا انجام بہت برا ہو سکتا ہے۔

صدر بش غلط راہ پر
 میں یہ کہنا چاہوں گا کہ صدر بش غلط راہ پر چل رہے ہیں۔ ہمیں اپنی پالیسیوں کو ازسر نو ترتیب دینا چاہیے۔ ہمیں دنیا میں امن اور خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہیے۔
محمد خان راجپوت منہاس

محمد خان راجپوت منہاس، چکوال: میں یہ کہنا چاہوں گا کہ صدر بش غلط راہ پر چل رہے ہیں۔ ہمیں اپنی پالیسیوں کو ازسر نو ترتیب دینا چاہیے۔ ہمیں دنیا میں امن اور خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہیے۔ میں دنیا بھر کے رہنماؤں پر زور دوں گا کہ وہ دنیا میں محبت، پیار اور خوشحالی کو پھیلائیں۔ یہی خدا کا حکم ہے اور ہمارے پیارے نبی کا فرمان ہے۔

علی کاظمی، کینیڈا: یہ سب امریکی پراپیگینڈا ہے کیونکہ اسامہ کی تنظیم القائدہ امریکی سی آئی اے نے بنائی تھی۔ وہ دنیا میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول لئے یہ نام استعمال کر رہے ہیں۔ وقت یہ ثابت کرے گا کہ امریکی اور اسرائیلی غلط تھے اور القائدہ دراصل اسلام اور مسلم دنیا پر حملے کے لئے ایک بہانے کے طور قائم کی گئی تھی۔

اسفندیار خان، مانسہرہ، پاکستان: امریکیوں نے ساری دنیا میں مسلمانوں کا قتل ِ عام شروع کر رکھا ہے۔اسامہ ایک جائز مقصد کے تحت امریکہ سے لڑ رہا ہے۔ اس لئے یورپ بیچ میں نہیں آنا چاہیے اور اس پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

محمد طاہر، اسلام آباد: مجھے شک ہے کہ آیا یہ واقعی اسامہ کا ٹیپ ہے۔

اللہ بخش خان بگتی، پاکستان: میرے خیال میں اسامہ کو یہ پیشکش نہیں کرنی چاہیے تھی۔ امریکہ کو دہشت گرد صرف مسلمان نظر آتے ہیں۔ امریکہ کے نزدیک فلسطین، کشمیر اور چیچنیا میں مسلمانوں کا قتل ِ عام دہشت گردی نہیں لیکن اگر کوئی مسلمان جوابی کاروائی کرے تو وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔اسامہ کو چاہیے کہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے نہ کہ ان کو صلح کی پیشکش کرے۔

اسامہ سے صلح کیوں؟
 مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب اسامہ نے یہ پیشکش کی تو اس کے ذہن میں کیا تھا۔ کوئی یورپی ملک ایسی صورت میں اسامہ سے صلح کیوں کرے گا جب کہ اسامہ کی تنظیم نہ صرف اس کے خلاف دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہے بلکہ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی ھلاکت کی ذمہ دار بھی۔
عبدالغفور

عبدالغفور، ٹورنٹو، کینیڈا: مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب اسامہ نے یہ پیشکش کی تو اس کے ذہن میں کیا تھا۔ کوئی یورپی ملک ایسی صورت میں اسامہ سے صلح کیوں کرے گا جب کہ اسامہ کی تنظیم نہ صرف اس کے خلاف دہشت گردی کے حملوں میں ملوث ہے بلکہ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی ھلاکت کی ذمہ دار بھی۔ اس پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ کے پاس دہشت گردی کے لئے کوئی پتا باقی نہیں بچا۔ اہل ِ یورپ کو اس پیشکش پر کوئی دھیان نہیں دینا چاہیے۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو اس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بنیاد اس کی اسرائیلی حمایت کی پالیسی اور مزید تیل کی تلاش ہے۔

امبرین بنگش، کینیڈا: کچھ عرصہ قبل تو امریکہ کے سارے اتحادیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا گیا تھا اور اب یہ اعلان۔۔۔۔؟ یہ سب امریکہ کی ملی بھگت ہے۔ اس ٹیپ کے ذریعے امریکہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کے اتحادیوں میں سے کون پیچھے ہٹ رہا ہے کیونکہ حال ہی میں سپین نے امریکہ کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر جولائی تک اس نے عراق میں نئی حکومت قائم نہ کی تو سپین عراق سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔ اسلام میں کسی ایسے مسلمان کے لئے کوئی گنجائش نہیں جس کی وجہ سے بے گناہ افراد کا قتل ِ عام ہو چاہے وہ نائن الیون کی دہشت گردی ہو یا افغانستان میں ہلاک ہونے والے بے گناہ عوام ہوں۔

فیصل ملک، متحدہ عرب امارات: میں ذاتی طور پر اسامہ کا حامی ہوں کیونکہ وہ مسلمانوں کے لئے لڑ رہا ہے۔ اس کی امریکہ سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ وہ صرف فلسطین، کشمیر اور عراق کے لئے لڑ رہا ہے۔ یورپ کو اس پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور امریکہ کا ساتھ چھوڑ کر اسامہ کی بات سننی چاہیے اور عراق سے نکل جانا چاہیے تاکہ فتح حق کی ہو۔ اس طرح امریکہ تنہا ہو جائے گا اور دنیا سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔

شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات: اگر مسلمانو ں سے اتنی ہمدردی ہے تو خود کو سامنے کیوں ظاہر نہیں کر دیتے۔ کس بھی مذہب میں بے گناہ لوگوں کا خون بہانے کی اجازت نہیں ہے۔ اپنے آپ کو بچانا کہاں کی بہادری ہے۔ اتنے ملکوں کی بربادی کا ذمہ دار اب امن کی بات کررہا ہے، یہ کچھ عجیب سے بات محسوس ہوتی ہے۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ جب خود پر مصیبت پڑی تو کچھ بھی کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ لگتا ہے کہ اسامہ کا دنیا میں ہی حساب کتاب شروع ہو چکا ہے، تبھی تو بڑے بھائی صاحب کو یہ پیشکش کرنی پڑ گئ ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

این: جو کچھ ہورہا ہے، ٹھیک نہیں ہورہا۔ ہرطرف انسان مر رہے ہیں۔

مشکوک ہوّا
 دنیا کے حالات اس رفتار سے بدل رہے ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز ہی نہیں کی جا سکتی۔ کوئی پتہ نہیں القاعدہ کیا ہے، اس کا حدود اربعہ کیا ہے۔ یہ ایک ہوّا کھڑا کیا ہے جس کی حیثیت ہی مشکوک ہے۔
اشفاق نذیر، جرمنی

اشفاق نذیر، جرمنی: دنیا کے حالات اس رفتار سے بدل رہے ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز ہی نہیں کی جا سکتی۔ کوئی پتہ نہیں القاعدہ کیا ہے، اس کا حدود اربعہ کیا ہے۔ یہ ایک ہوّا کھڑا کیا ہے جس کی حیثیت ہی مشکوک ہے۔ ان کا یورپ کو امن کی دعوت دینا سوائے مذاق کے کچھ بھی نہیں۔ یہ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے اور اسی کو بھگتنا ہوگا۔ امریکہ کے عراق کے اسلحے اور القاعدہ کے بارے میں جھوٹ سن سن کر تو ہٹلر پر لگائے گئے الزامات بھی مشکوک لگتے ہیں۔

نسیم، جھنگ: سب گول مال ہے بھائی سب گول مال ہے۔

عاصم محمود مرزا، گجرات: ٹیپ میں آواز بن لادن کی ہے یا کسی اور کی، پیغام بہرحال مسلمانوں کے دل کی آواز ہے۔ یورپ کو اس پر غور ضرور کرنا چاہئے اور امریکہ عبرت حاصل کرے اور اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرے۔

محمد عامر خان، کراچی: اسامہ امریکہ کا بنایا ہوا ایک ایسا کردار ہے جس کے ذریعے امریکہ نے سب سے پہلے مسلم دنیا پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے اور ان کے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ میرا خیال ہے کہ اب یورپ کے اتحاد کی باری ہے۔ یورپین یونین امریکہ کی آنکھ میں کھٹک رہی ہے۔ اب اسامہ کے ذریعے اس کے اتحاد کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ڈالر کے مقابلے میں یورو کی قیمت بہتر چل رہی ہے، اس دھمکی سے یورو بھی متاثر ہوگا۔ اب تک اسامہ کی کاروائیوں سے جتنا فائدہ امریکہ کو ہوا ہے، اتنا کسی کو بھی نہیں ہوا۔

خرم شیخ، جنوبی کوریا: میرے خیال میں یورپ کو شیخ کی پیش کش سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہانا بند کردینا چاہئے۔

کیف محمود: اسامہ درست کہتے ہیں۔

محمد فیصل جمال، چکوال: میرا خیال ہے کہ اسامہ کی پیش کش یورپ اور دوسری دنیا کے لئے بہت اچھی ہے کیونکہ وہ امریکہ کی حمایت میں یہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اسامہ کی جنگ امریکہ کے خلاف ہے اور امریکہ کو اس جنگ کا اکیلے ہی سامنا کرنا چاہئے۔ امریکہ مسلمانوں کا دشمن ہے۔

عمر میاں، برطانیہ: اسامہ کی پیش کش انہیں قبول کرنی ہی ہوگی کیونکہ یہ انہی کے فائدے میں ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد: یورپ کے لئے امریکہ کے چنگل سے نکلنے کا اچھا موقعہ ہے۔ اسامہ جو بھی ہوں انہیں بھی لامحدود عوام کی حمایت حاصل ہے جو سامنے بھی ہے اور پوشیدہ بھی۔

آمنہ مریم، راولپنڈی: ایک ٹیپ کیا ملی ہے، سب اتنے خوفزدہ ہیں۔ اسامہ بن لادن ایک انسان ہے جو ابھی تک نہیں پکڑا گیا اور اس کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لئے پاکستانی آرمی نے وانا کے مقام پر جنگ لڑی ہے۔

محمد احمد، اسپین: میرے خیال میں مغرب کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور امریکہ کا ساتھ دینا چھوڑ دینا چاہئے۔ میڈرڈ میں جو کچھ ہوا وہ دوسرے ممالک میں بھی ہوسکتا ہے۔

پیشکش قبول کریں
 جناب بات یہ ہے کہ مغرب والے یہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے لیکن یہ آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ حالات بدلتے ہیں، پاور چنج ہوتی ہے، اب ان کے پاس، تو کل ہمارے پاس بھی ہوسکتی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور مزید قتل عام سے بچنا چاہئے۔
ندیم چودھری، پاکستان

ندیم چودھری، پاکستان: جناب بات یہ ہے کہ مغرب والے یہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے لیکن یہ آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ حالات بدلتے ہیں، پاور چنج ہوتی ہے، اب ان کے پاس، تو کل ہمارے پاس بھی ہوسکتی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور مزید قتل عام سے بچنا چاہئے۔

خورشید شیخ، ریاض: بہت ہی عجیب فرمائش ہے جناب کی۔۔۔۔ یہ کبھی ہمارے دوست بھی ہوسکتے ہیں؟

وقار احمد، ریاض: اسامہ یورپ اور امریکہ کا دہشت گرد ہے اور بش مسلم ممالک کا۔ مجھے دونوں میں کسی سے ہمدردی نہیں ہے کیونکہ دونوں نے دنیا کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ان کا دل چاہے تو ان پر حملہ کریں اور وہ چاہیں تو غریب لوگوں پر بم گرائیں۔ کون سا مذہب یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ یار، کوئی تو انسان ہوکر سوچے۔

میاں گل، پاکستان: امریکہ کو چاہئے کہ کسی کو مسلمانوں پر تسلط نہ کرنے دے۔

قیصر، بیجنگ: اسامہ کیا چیز ہے؟ کہاں اسامہ، کہاں یورپ۔ صلح کس چیز کی؟ ایسے شخص کو پکڑ کر نیو یارک میں پھانسی دیدینی چاہئے۔

شوکت کمال خان، اسلام آباد: نہیں جی، کبھی نہیں۔ کیونکہ اسے تو بہانہ ملا ہے قتل اور غارت کا۔۔۔۔

محمد ایف خان، مسقط: میں سیاست دان نہیں ہو تاکہ صحیح مشورہ دے سکوں۔ لیکن بی بی سی کے سامع کی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ وقت ہے کہ پوری دنیا میں مسائل کا حل لڑائی کے ذریعے نہ ہو۔ ہمیں ان تنظیموں سے بات کرنی چاہئے جو مزاحمت کررہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اقوام متحدہ کے تحت کیا جانا چاہئے۔

کاشف نعیم سید، لندن: جنگیں مسلط کرنے اور طاقت کے استعمال سے بے گناہوں کا ناحق خون بہنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں فریق مل بیٹھیں اور تمام اختلافات گفت و شنید سے حل کریں۔

اصغر خان، چین: پہلا سوال تو یہ ہے کہ یہ ٹیپ اوریجنل ہے یا نہیں۔ اگر اوریجنل ہے تو یورپی ممالک کو اس پر غور کرنا چاہئے۔ انکار سے اسامہ کو اخلاقی فتح حاصل ہوجائے گی اور اسے مسلم عوام کی حمایت بھی۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد