’جنگ بندی‘ کی پیشکش مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وائٹ ہاؤس نے اسامہ بن لادن کی طرف سے طویل المیاد جنگ بندی کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو جلد ڈھونڈ نکالیں گے اور دہشت گردوں سے نرمی نہیں کی جائے گا۔ امریکی نائب صدر ڈک چینی نے اسامہ بن لادن کی طویل المیاد جنگ بندی کی پیشکش کو ایک فریب قرار دیا۔ ڈک چینی نے کہا ہے کہ القاعدہ سے نمٹنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے کہ ان کو تباہ کر دیا جائے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس ٹیپ سے صدر بش اور جنگ کے حمایتوں کو تقویت ملے گی جو امریکی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ امریکہ حالت جنگ میں ہے۔ اسامہ بن لادن نے ٹیپ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ ایک جنگ لڑ رہا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مکلیلن نے کہا ’ہم یہ لڑائی جیت رہے ہیں۔ القاعدہ اور تمام دہشت گرد اب پیچھے ہٹنے پر مجبور ہیں، وہ ہم سے بھاگ رہے ہیں۔ اب جبکہ ہماری برتری ہے یہ ضروری ہے کہ ہم اس کام کو جاری رکھیں ، اور اسے مکمل کریں اور ہم یہی کریں گے۔‘ مبصرین کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن نے ٹیپ بائیس نومبر 2005 کے بعد ریکارڈ کرائی ہے کیونکہ اس میں الجزیرہ کو تباہ کرنے کے بارے میں امریکی منصوبے کابھی ذکر ہے ۔ الجزیرہ کو تباہ کرنے کی خبر بائیس نومبر کو منظر عام پر آئی تھی۔ | اسی بارے میں بش عراق میں ہار مان لیں: الظواہري 06 January, 2006 | آس پاس ’لندن دھماکے القاعدہ نے کروائے‘19 September, 2005 | آس پاس طعلفر کا انتقام لیں گے: زرقاوی11 September, 2005 | آس پاس القاعدہ کا ’چنوک ویڈیو‘ نشر05 August, 2005 | آس پاس القاعدہ کی ٹیپ کا تجزیہ05 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||