طعلفر کا انتقام لیں گے: زرقاوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے ایک اہم رہنما ابومعصب الزرقاوی نے کہا ہے کہ وہ امریکی اور عراقی افواج کو تعلفر میں کارروائی کے انتقام کا مزہ چکھائیں گے۔ ابومعصب الزرقاوی کے پیغام پر مشتمل ایک ایک نئی آڈیو ٹیپ ایک ایسی اسلامی ویب سائٹ پر اتوار کو جاری کی گئی ہے جو القاعدہ کے پیغاموں کے حوالے سے معروف ہے۔ اس ٹیپ کے ذریعے جاری کیے جانے والے پیغام میں الزام لگایا گیا ہے کہ امریکی فوج، عراق کے شمالی گاؤں طعلفر میں مزاحمت کاروں کے خلاف، جنہیں انہوں نے مجاہدین کہا ہے، کیمیاوی ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے اس پیغام میں دھمکی دی ہے کہ وہ امریکی اور عراقی فوج کو اس کارروائی کے انتقام اور شکست کا مزہ چکھائیں گے۔ دوسری طرف طعلفر اور اس کے تین نواحی گاؤں میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن کا آج دوسرا دن ہے۔ یہ آپریشن عراق میں اتحادی فوج کی تربیت یافتہ عراقی فوج سر انجام دے رہی ہے۔ اس سے قبل اس قسم کے آپریشن اتحادی فوج کی نگرانی میں کیے جاتے رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ نوے ہزار دستوں پر مشتمل عراقی فوج کی ایک سو پندرہ بٹالینیں جنگ میں حصہ لینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ دوسری طرف عراقی سیاستدان ملک کے آئینی مسودے کو حتمی شکل دینےمیں ناکام ہو گئے ہیں اور عراق میں اس آئینی مسودے پر پندرہ اکتوبر کو ریفرینڈم بھی ہونے والاہے اور عراق نے شام سے ملنے والے سرحدیں بند کر دیں ہیں۔ عراقی حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی اور عراقی دستوں نے شمالی گاؤں طعلفر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں میں چھپے دوسو گیارہ مشتبہ جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایک سو نوے کو آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ امریکی اور عراقی حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں جنگجو شام کے راستے لائے جانے والے ہتھیار جمع کرتے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||